December 03, 2018
پرانے کپڑے گھر بنا سکیں گے

پرانے کپڑے گھر بنا سکیں گے

پرانے اور غیرضروری کپڑوں کو ریشوں (فائبرز) میں بدل کر انہیں ٹائلوں اور دیوار کے ٹھوس پینلز میں تبدیل کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں متروکہ پرانے کپڑے ٹنوں وزنی کوڑا کرکٹ بناتے ہیں اور ان کا بہ ظاہر کوئی مصرف نہیں تھا۔ اگرچہ پاکستان میں یہ بڑا مسئلہ نہیں تاہم امریکا، یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں بہت تیزی سے کپڑے اور لباس الماریوں کے بجائے کوڑے دانوں میں پھینکے جاتے ہیں۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی سائنسداں وینا سہج والا نے برسوں غوروفکر کے بعد پرانے کپڑوں کو ریشوں میں بدل کر ان سے تعمیراتی مٹیریل تیار کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح پرانے کپڑوں سے عمارت کی ٹائلیں اور ٹھوس پینل بنائے جاسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ خود ان سے فرش بھی تشکیل دینا ممکن ہے۔ اس کے لیے وینا نے مختلف اقسام کے پرانے کپڑے جمع کئے۔ ہر ایک کپڑے سے زِپ، بٹن اور ٹھوس اشیاء نکالیں۔ اس کے بعد کپڑے کو نرم کرکے ایک انتہائی نفیس شریڈر مشین سے گزارا جس سے کپڑا ایسے باریک ریشوں میں بدل گیا جس میں سوتی، پولسٹر، نائلون اور دیگر اقسام کے ریشے موجود تھے۔ اس کے بعد ان میں ایک کیمیکل ملا کر سب ریشوں کو جوڑا گیا اور ایک شکنجے میں دبا کر ٹھوس شکل میں ڈھال لیا گیا۔ اس کے بعد اس مٹیریل کی کئی طرح سے آزمائش کی گئی۔ کئی ٹیسٹ میں اسے واٹر پروف، مضبوط ، ٹھوس اور آگ سے محفوظ پایا گیا۔ اس مادے کی افادیت بڑھانے کے لیے اس میں لکڑی کا برادہ اور دیگر اجزا مثلاً فلیس وغیرہ بھی شامل کئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح حسبِ خواہش نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کپڑوں سے بننے والا ٹھوس مٹیریل مختلف رنگ، ڈیزائن اور کیفیات کا حامل ہے یعنی بعض پر لکڑی، پتھر یا سرامک کا گمان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ گھریلو ٹائلوں، پینل اور دیگر اندرونی آرائش کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اپنی مضبوطی کی بنِا پر مٹیریل عام تعمیراتی اشیاء کی طرح وزن برداشت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وینا اور ان کے ساتھیوں نے یونیورسٹی کی عمارت میں ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اس کی تجارتی تیاری کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے اور اگر ایسا ہوگیا تو سستی عمارت سازی کے لیے ماحول دوست مٹیریل فراہم ہوسکے گا۔ مختلف اقسام کے کپڑوں سے یکساں خصوصیت والا مٹیریل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کا آسان حل یہی ہے کہ مطلوبہ نتائج کے حصول تک خاص خام مال کی تعداد شامل کرنا ہوگی۔ تاہم امید ہے کہ اس ضمن میں بھی اہم کامیابیاں حاصل ہوسکیں گی۔ صرف امریکا میں ہی ہر سال ایک کروڑ ٹن فالتو کپڑے کوڑے دانوں میں پھینک دیتے ہیں اور جیسے جیسے یہ گلتے سڑتے ہیں، ان سے خارج ہونے والے زہریلے اجزاء اور گرین ہاؤس گیسیز مزید آلودگی کی وجہ بنتے ہیں۔