تازہ شمارہ
Title Image
December 10, 2018
کچھ پری چہرہ حسینائیں، دل میں اُتر جائیں

کچھ پری چہرہ حسینائیں، دل میں اُتر جائیں

’’رومیو ویڈز ہیر‘‘، ’’بند کھڑکیاں‘‘ اور ’’بلا‘‘

ان دنوں پاکستان میں ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری کامیابیوں کی نئی سے نئی منزلیں طے کررہی ہے، ہمارے جواں ہمت پروڈیوسرز، ورسٹائل اداکاروں اور ڈائریکٹرز نے اپنی اوریجنل کہانیوں اور پاکستانی کانٹینٹ کے زور پر بھارتی ڈراموں کے وقتی سحر کو ہی نہیں توڑا بلکہ آج کل کی پاکستانی خواتین، بولی وڈ فلموں کے مقابلے میں بھی پاکستانی ڈراموں کو زیادہ پسند کرنے لگی ہیں۔ پچھلے دنوں بھارتی اداکار راج ببر کی اداکارہ بیگم نادرہ ببر کراچی آئی ہوئی تھیں، انہوں نے بھری محفل میں تسلیم کیا کہ پاکستانی ڈرامے بھارتی ٹی وی ڈراموں سے ہزار درجے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بولی وڈ فلموں اور بھارتی ڈراموں کو پاکستانی ناظرین تک رسائی حاصل ہے، اگر اسی طرح پاکستانی ڈرامے اور فلمیں بھارت میں ریلیز ہونے لگیں تو ہمارے تخلیق کاروں کو پاکستانی کانٹینٹ سے خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ نادرہ کے بقول صرف ایک پاکستانی فلم ’’خدا کے لیے‘‘ بھارت میں ریلیز ہوئی تو ہم خواتین گروپس بنا کر یہ فلم دیکھنے سینما گھروں کو جاتی تھیں اور میں نے یہ فلم دیکھ کر اپنی انڈسٹری کے ان داتائوں سے کہا تھا کہ دیکھو یہ ہوتی ہے فلم، ایسا ہوتا ہے اسکرپٹ اور اسے کہتے ہیں اداکاری۔ آج کل پاکستان میں بھارتی ڈراموں اور بولی وڈ فلموں کی یہاں نمائش پر بہت بحث ہورہی ہے۔ کچھ لوگ کہتےہیں کہ مقابلے کی فضا برقرار رکھنے کے لیے ان کا ہونا ضروری ہے اور اکثریت بھارتی کانٹینٹ کی پاکستان میں نمائش کو ہماری انڈسٹری کے کاروباری مفادات سے متصادم تصور کرتی ہے۔ مگر ناظرین کو سینما کے پردے سے لے کر ٹی وی کی چھوٹی اسکرین تک صرف معیاری تفریح درکار ہے اور ہمارا ٹی وی ان کی یہ ضروریات بہت اچھی طرح پوری کررہا ہے۔ کچھ پری چہرہ اداکارائیں اور چند دلربا اداکار تو ایسے ہیں جن کا نام ہی اب کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے اور وہ ڈراموں کی گاڑی کو پوری رفتار سے دوڑاتے ہوئے شاہراہ مقبولیت پر محوِ سفر ہیں۔ ہماری خواتین ان ڈراموں کو اپنی حقیقی زندگی کا عکاس گردانتے ہوئے اپنے دلوں میں بسائے بیٹھی ہیں۔ ہمارے رائٹرز کے تخلیق کردہ کردار ناظرین کو اپنی روزمرہ زندگی میں بس اپنے آس پاس ہی نظر آرہے ہوتے ہیں۔ آئیے ذکر کرتے ہیں ان دنوں ٹی وی پر دکھائے جانے والے تین مختلف چینلز کے تین سپر ہٹ ڈراموں کا۔ سب سے پہلے ’’جیو‘‘ سے دکھائے جانے والے میگا سیریل اور لو اسٹوری آف دی ایئر ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کا تذکرہ ہوجائے ، سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے اس رومانٹک کامیڈی کو عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیا ہے، یہ وہی جوڑی ہے جو اس سے پہلے ’’جیو‘‘ پر ہی ’’خانی‘‘ جیسا سپر ہٹ اور ریکارڈ ساز سیریل بھی پیش کرکے خوب داد سمیٹ چکے ہیں۔ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کو لکھا ہے ڈاکٹر یونس بٹ جیسے مزاح نگار نے جن کی وجہ شہرت تو ’’ہم سب امید سے ہیں‘‘ جیسے سٹ کام رہے۔ مگر پہلی مرتبہ ’’جیو‘‘ اور عبداللہ کادوانی ہی انہیں ’’روم کوم‘‘ سیریل کی طرف بھی متعارف کروانے میں کامیاب ہوئے۔ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کی انفرادیت یہ ہے کہ کسی فلم کی طرح پہلی بار ایک ڈرامے کو نغماتی شاہکار بنا کر دکھایا جارہا ہے۔ ڈرامے کے مرکزی کردار ثنا جاوید اور فیروز خان کی رقص و نغمات سے بھرپور پرفارمنس دیکھنے والوں کو اپنا گرویدہ بناچکی ہے۔ یہی جوڑی اس سے پہلے سپر ہٹ ’’خانی‘‘ میں بھی اکٹھی تھی، مگر اس بار پہلے سے قطعی مختلف اور چلبلے کرداروں میں ان دونوں نے اپنی دھاک بٹھائی ہے۔ ان کی آن اسکرین کیمسٹری کے سب ہی گرویدہ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ اکٹھے کام کرتے ہوئے یہ ثنا اور فیروز کی ہیٹ ٹرک بھی ہے۔ اس سے پہلے وہ ’’خانی‘‘ سمیت مہرین جبار کی ٹیلی فلم ’’دینو کی دلہنیا‘‘ میں بھی رومانوی کپل کا کردار نبھا چکے ہیں۔ اس سیریل میں فیروز خان (رومیو) ثنا جاوید (ہیر) علی سفینہ (جیدی)، ثمن انصاری (ڈاکٹر شہناز)، تارا محمود (ارشد)، فردوس جمال (حکیم لقمان)، فائزہ علی (منال)، فرحان عالم (چشمو)، ضیاء گورچانی (ڈاکٹر راجا)، بینا چوہدری (بے بے)، ریان ابراہم (ببل)، علی رضوی (افلاطون)، نمیرہ انصاری (شانزے)،وقار لطیف (ایلیفنٹ) اور شفاعت علی (نظر) کے کرداروں میں ایسے فٹ ہیں جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ فنکاروں کی اس کہکشاں کو ڈاکٹر یونس بٹ نے ایسے پرویا ہے جیسے کلیوں کی مالا بنائی گئی ہو۔ خصوصاً شفاعت علی، جنہیں اس سے قبل ان کے مداح ایک غیر معمولی امپریشن اسٹ کامیڈین کے طور پر جانتے تھے، نظر کے کردار میں وہ پہلی بار کسی سیریل کا حصہ ہیں اور ان کا دلچسپ کردار ایک نکمے گھر داماد کا عکاس ہے۔ اس سیریل کے پرومو نے ہی سوشل میڈیا پر ریلیز ہوتے ہی عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی۔ ڈائریکٹر انجم شہزاد ہیں، جو محبت اور انتقام سے بھری کہانی ’’خانی‘‘ کے بھی ڈائریکٹر تھے۔ یوں ثنا جاوید، فیروز خان اور انجم شہزاد کا یہ تکون دوسری بار اکٹھا ہوا ہے۔ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کا ٹائٹل سانگ آئمہ بیگ اور ساحر علی بگا نے گایا ہے۔ وہاب شاہ نے اس کی کوریو گرافی کی ہے اور اس سیریل کی مقبولیت کا ایک باعث اس کے سچوئیشنل ڈانس نمبرز میں ثنا اور فیروز کی بے ساختہ پرفارمنس بھی ہے۔ ایک طرف ’’جیو‘‘ پر ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ میں ثنا جاوید اور فیروز خان کی ٹیم کے چرچے ہیں تو دوسری طرف آغا علی اور سارہ خان ’’ہم‘‘ ٹی وی کی مقبول ترین سیریل ’’بند کھڑکیاں‘‘ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھارہے ہیں۔ ڈائریکٹر اسد جبل کی اس تخلیق کو سیما مناف نے لکھا ہے، جبکہ دیگر کاسٹ میں انعم فیاض اور سیمی پاشا بھی شامل ہیں۔ مومل پروڈکشن کے بینر تلے اسے مومل شنید اور رافع راشدی نے پروڈیوس کیا ہے۔ ’’بند کھڑکیاں‘‘ بھی ایک رومانٹک ڈرامہ ہے، اس کا ٹائٹل سونگ احمد جہانزیب کی مدھر آواز میں ہے، اسے جوشو کیتھ بینجمن نےکمپوز کیا اور اس کے بول علی معین نے لکھے۔ آج کل کی ڈیجیٹل روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’بند کھڑکیاں‘‘ کا میوزک ٹریک، ڈرامہ آن ائیر آنے سے پہلے ہی ریلیز کردیا گیا تھا۔ سارہ خان (صبوحی) ایک سیدھی سادی سی حساس اور آرٹسٹک مزاج لڑکی دکھائی گئی ہے، جو پینٹنگ سے بھی شغف رکھتی ہے۔ زین (آغا علی) صبوحی کا کزن ہے، دونوں کا بچپن اکٹھے گزرا ہے، دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی شادی بھی ہوجاتی ہے، شادی کے بعد محبت میں دراڑیں پڑنا شروع ہوتی ہیں۔ زین، صبوحی کی محبت میں کوئی شراکت داری برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے یہاں تک کہ دوست احباب اور رشتے داروں سے میل ملاقات پر بھی زین کو شک ہوجاتا ہے، وہ صبوحی کی ایک ایک سانس کو اپنی امانت سمجھتا ہے، وہ اسے زمانے کی نظروں سے دور رکھنے کے لیے کمرے میں تالا لگاکربند بھی کردیتا ہے۔ ڈرامے کا پیغام یہ ہے کہ محبت بری چیز نہیں ہے، مگر محبت میں خود غرض ہوکر محبوب کی آزادی سلب کردینا غلط ہے۔ آغاعلی اور سارہ نے ’’بند کھڑکیاں‘‘ میں اپنے پچھلے کرداروں کی نسبت بہت مختلف کام کیا ہے۔ آغا علی نے پہلے بھی منفی کردار ادا کیے ہیں ،مگر اس مرتبہ انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ منفی کردار اتنا ڈوب کر کیا جائے کہ ناظرین کو کردار سے ہی نفرت ہوجائے تو یہ فنکار کی کامیابی ہے۔ ’’بند کھڑکیاں‘‘ سارہ خان اور آغا علی کی اکٹھے کام کرتے ہوئے تیسری سیریل ہے۔ ان دونوں کو اس سے پہلے ’’تمہارے ہیں‘‘ اور ’’میرے بے وفا‘‘ میں بھی ایک ساتھ کاسٹ کیا جاچکا ہے۔ اور آخر میں ذکر ہوجائے ڈرامہ سیریل ’’بلا‘‘ کا، جس میں اشنا شاہ اور بلال عباس خان سمیت پوری کاسٹ نے واقعی بلا کی اداکاری کی ہے۔ اے آر وائی کی یہ سیریل بدر محمود نے ڈائریکٹ کی ہے، اسے زنجبیل عاصم شاہ نے لکھا ہے اور بگ بینگ پروڈکشنز کی چھتری تلے اسے فہد مصطفیٰ اور ڈاکٹر علی کاظمی نے پروڈیوس کیا ہے۔ یہ کہانی ہے حسد اور محرومیوں کی۔ ڈرامے کا مرکزی کردار ضدی اور مغرور نگار (اشنا شاہ) ہے، اس حسین دوشیزہ کو ایک قدرتی محرومی درپیش ہے، اس کی ٹانگ میں نقص ہے جس کے باعث وہ لنگڑا کر چلتی ہے، وہ اپنے اس احساس کو چھپاتے چھپاتے انتہائی تلخ ہوچکی ہے۔  اس کے سخت رویے سے اس کے اردگرد موجود لوگ نالاں ہیں، امیر گھرانے کی چشم و چراغ نگار (اشنا شاہ) اپنے چھوٹے بھائی جنید (اسد صدیقی) سے بھی اسی لیے چڑتی ہے کیونکہ اس کے خیال میں اس کا باپ جنید کو زیادہ چاہتا ہے۔ ڈرامے کا ہیرو تیمور (بلال عباس خان) نگار کا ہینڈسم کزن دکھایا گیا ہے، نگار، تیمور سے محبت کرتی ہے، مگر تیمور اور اس کی فیملی کو نگار کے مغرور گھر والے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ نگار کے والد ظفر کا مشکل کردار ساجد حسن نے بڑی مہارت سے نبھایا ہے۔ ظفر، نگار کو اپنے لیے خوش بختی کی علامت سمجھتا ہے کیونکہ نگار کی پیدائش کے فوراً بعد دولت کی دیوی نے ظفر کی دہلیز پر ڈیرے ڈالنا شروع کئے تھے۔ ثمینہ پیرزادہ اس سیریل میں تیمور کی والدہ کا کردار کررہی ہیں جس کے لیے اس کی اولاد کی خوشی ہی سب کچھ ہے۔ ازیکا ڈینل نے تیمور کی خوبرو کزن صبا کا کردار ادا کیا ہے، جس سے تیمور شادی کرنا چاہتا ہے لیکن عین شادی والے دن صبا، تیمور کے دل توڑ کر تیمور کو رنجیدہ کردیتی ہے۔ ایسے میں نگار، تیمور کے قریب آتی ہے اور اس کی محبت جیتنے کی کوشش کرتی ہے۔ عمارہ چوہدری، نگار کے بھائی جنید کی پہلی بیوی بنی ہیں، جس کا گھر بھی نگار کی حسد کے باعث برباد ہوتا ہے۔ جنید نے صبا سے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی۔ ’’بلا‘‘ کا ایک کردار بتول بھی ہے، جسے مہر بانو نے نبھایا ہے، یہ تیمور کی چھوٹی بہن ہے اور زندگی سے بھرپور نظر آتی ہے۔ اشنا شاہ کا کریڈٹ یہ ہے کہ منفی کردار نبھاتے ہوئے بھی، وہ حسن بلاخیز سے مالا مال دکھائی دی ہیں اور ’’بشر مومن‘‘ میں فیصل قریشی جیسے بڑے اداکار کے سامنے، جس انداز سے اُنہوں نے ایک مظلوم بیوی کا کردار نبھایا تھا اس کے بالکل برخلاف وہ نگار کے روپ میں ایک قطعی مختلف عورت بن کر سامنے آئی ہیں۔ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کی ثنا جاوید ہوں، ’’بند کھڑکیاں‘‘ کی سارہ علی یا ’’بلا‘‘ کی اُشنا شاہ، سمیت ٹی وی کے مختلف ڈراموں اور مختلف چینلز پر مختلف النوع روپ دھارتی، اہلیت سے لبریز پاکستانی اداکارائیں، پاکستانی خواتین کو اپنی اداؤں کے جال میں اُلجھا کر ڈراموں کے ریٹنگ چارٹس پر حکمرانی کررہی ہیں۔  پاکستانی ٹی وی چینلز کے ڈراموں کو یہ کریڈٹ بھی دیا جانا چاہیے کہ اُنہوں نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ زندگی کے اصلی رنگوں سے سجی کہانیوں کو، حقیقت سے قریب ترین کرکے پیش کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ڈرامے میں نظر آنے والا کوئی کردار، ہمارے ہی اردگرد بستا ہے۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے یہ کریکٹر شاید ہمارے پاس سے اُٹھ کر گیا ہے۔ مضبوط کہانیاں، پرُاثر ڈائیلاگ اور دل میں اُتر جانے والے منظرناموں نے ٹی وی کے روٹھے ہوئے ناظرین کو غالباً ایک بار پھر منا لیا ہے، ایک طرف نفرت اور انتقام کی آگ میں ڈوبی عورت، کسی کا گھر اُجاڑ رہی ہے تو دوسری طرف وفا اور ایثار کی دیوی بنی ایک اور عورت، محبت کے نام پر اپنی اولاد بھی قربان کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ کہیں دولت کی حرص میں، رشتوں کو بیچا جارہا ہے تو کہیں زمانے کی ان تلخ حقیقتوں کے ساتھ ساتھ ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ جیسے قہقہہ بار اور خوشی کے رنگوں سے ہم آہنگ ڈرامے، ناظرین کو چینل سوئچ کرنے کا موقع تو ضرور دے رہے ہیں مگر ٹی وی کا بٹن سوئچ آف کرنے کی مہلت نہیں دے رہے۔