December 17, 2018
ہم برائیڈل کاچیور ویک

ہم برائیڈل کاچیور ویک

آج کی دلہن اس کے لوازمات - میک اَپ، جیولری، عروسی ملبوسات

یوں تو فیشن کی ہر تقریب خصوصی توجہ کی حامل ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ تقریب عروسی ملبوسات اور زیورات کی نمائش کے لیے منعقد کی جائے تو سمجھئے، ہر نظارہ جگمگانے لگتا ہے، دیئے جل اُٹھتے ہیں، ہر صورت چاند جیسی لگنے لگتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ستاروں کی بارات، زمین پر اُتر آئی ہو۔ خوشبو، رنگ و روپ، گلیمر اور اسٹائل کی ایسی ہی بہار پچھلے دنوں، لاہور میں منعقد ہونے والے برائیڈل کاچیور ویک میں نظر آئی۔ برائیڈل فیشن کے نئے ٹرینڈز کو پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا یہ میلہ معروف و غیرمعروف ڈیزائنرز کی دلفریب برائیڈل کلیکشنز سے سجایا گیا تھا۔ لشکارے مارتے عروسی جوڑے اور سنہری چمچماتے زیورات، قاتل ادا ماڈلز پر نرالی چھب دکھا رہے تھے۔ منفرد رنگ اور دلفریب کڑھائی سے سجے غرارے، نفیس لہنگے اور قیمتی انارکلی کے گھیر تلے دل مچلے جاتے تھے، اور حسینائوں کی موجودگی سے محفل ایسے جگمگا رہی تھی جیسے مغلیہ دور میں شادی کی تقریب منعقد ہو اور اس تقریب میں پری چہرہ شہزادی اور اس کی سہیلیوں کا قافلہ چلا آیا ہو۔
دلفریب ملبوسات کون پسند نہیں کرتا؟ خاص طور پر برائیڈل فیشن پر تو سب کی ہی نظر رہتی ہے، کون سے رنگ اِن ہیں، عروسی جوڑے پر کیسا کام پسند کیا جارہا ہے، زردوزی یا گوٹا کناری، نگینے، موتی یا بنارسی گوٹا پٹی، یا پھر ان سب کا دلفریب اور نفیس امتزاج، آنے والے سال میں نئی نویلی دلہن کے لیے کون سے انداز بہترین ہوں گے۔ ہر سوال کا جواب، برائیڈل کاچیور ویک میں مجسم تصویر بنا نظر آرہا تھا۔ برائیڈل کاچیور ویک کا 16واں ایڈیشن تین دن جاری رہا۔ فیشن شو میں پاکستان کے معروف ہی نہیں، نئے ڈیزائنرز بھی شریک ہوئے اور نئے ٹرینڈز پر مبنی عروسی ملبوسات بڑی شان و شوکت سے پیش کئے گئے۔
کوئی بھی فیشن شو، سپر اسٹارز کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ عروسی جوڑے، روایتی انداز کے دلفریب زیورات کی سج دھج اپنی جگہ، لیکن ساتھ میں دلربا، دلکش، حسین اور مقبول فنکار نہ ہوں تو تقریب میں گلیمر کا تڑکا نہیں لگتا۔
برائیڈل فیشن شو میں پاکستان شوبز انڈسٹری کے بڑے نام شریک ہوئے، جن میں صبا قمر، عائزہ خان، احسن خان، سونیا حسین، ریما خان، گوہر رشید، کبریٰ خان، سنبل اقبال، فیصل قریشی، نیلم منیر اور حریم فاروق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
برائیڈل کاچیور ویک میں نیلوفر شاہد کی کلیکشن ’’بادشاہ بیگم‘‘ مغلیہ تمکنت کی عکاس تھی۔ مشرقی رنگ، تہذیب و ثقافت کی جھلک، اس کلیکشن کی ممتاز ترین خصوصیت ثابت ہوئی۔ پیلے، بنارسی سنہری، سبز، نارنجی، گلابی اور سرخ رنگ کے دلفریب شیڈز کو جس خوبصورتی سے استعمال کیا گیا، وہ یقیناً عروسی ملبوسات میں ایک بار پھر بنارسی اور اطلس و زردوزی کی زبردست واپسی کی نوید سنا رہا ہے۔ اپنی کلیکشن کے لیے نیلوفر شاہد نے صدف کنول، ماورا حسین جیسی خوبصورت ماڈلز کا انتخاب کیا تھا۔
تبسم مغل نے اپنی کلیکشن میں بھی مغلیہ انداز پیش کیا۔ ان کی کلیکشن کو ڈرامہ، رومانس اور شاہانہ آن بان شان کا امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے۔ سونیا حسین، احسن خان، گوہر رشید اور کبریٰ خان، شو اسٹاپر قرار پائے۔
فائزہ ثقلین کی کلیکشن ’’شہنائی‘‘ بھی برائیڈل ٹرینڈز کی ترجمان تھی۔ عائزہ خان نے نفیس کڑھائی سے سجا شوخ سرخ عروسی جوڑا زیب تن کیا۔ عائزہ اس دلفریب جوڑے میں کسی الہڑ دوشیزہ کی مانند دلکش نظر آرہی تھیں۔
برائیڈل کاچیور ویک میں سرخ رنگ کے کئی شیڈز نظر آئے لیکن یہ لباس، سرخ رنگ کو ایک نئے انداز میں متعارف کروا رہا تھا۔ ان کے دیگر ملبوسات میں بھی پیسٹل کلرز کا غلبہ تھا۔
ایم این آر ڈیزائن اسٹوڈیو کی برائیڈل کلیکشن ’’ہیر‘‘ اپنے نام کی طرح رومانس سے بھرپور نظر آئی تو دوسری جانب ریما احسن کی کلیکشن ’’داستان‘‘ پیسٹل کلرز پر مبنی تھی، جن کی دلکش خوبصورتی سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ آنے والے دنوں میں سلور، گرے، سنہری اور میٹالک شیڈز کے برائیڈل ڈریسز ٹرینڈ کا اہم حصہ ہوں گے۔
انسب جہانگیر کی کلیکشن ’’دل آراء‘‘ کے لیے بشریٰ انصاری اور ان کی بیٹی میرا انصاری نے ماڈلنگ کی۔ یوں تو انسب کی کلیکشن میں روایتی عروسی رنگ موجود تھے، لیکن شو اسٹاپ کرنے کے لیے سلور اور میٹالک سلور گرین رنگ کے ملبوسات کا انتخاب کیا گیا۔ سرخ اور گلابی رنگ سے مختلف یہ ایک اچھا انتخاب ثابت ہوا۔
عظمیٰ بابر کی برائیڈل کلیکشن ’’محبت نامہ‘‘ میں نئی دلہن کے لیے کئی بہترین آئیڈیاز نظر آئے۔ صبا قمر نے عظمیٰ بابر کا سنہری عروسی جوڑا زیب تن کیا۔ دوپٹہ بیلٹ، کندن کے زیورات، موتی سے سجے جھمکے، مانگ ٹیکا اور نفیس کڑھائی جو پورے لباس پر خاص انداز میں سجائی گئی تھی، نہایت منفرد خصوصیت کی حامل تھی۔ معروف کامیڈین زید علی اور ان کی اہلیہ نے بھی دولہا، دلہن کے لباس میں ریمپ پر واک کی۔
مشرقی اور روایتی انداز کے عروسی ملبوسات کے جھرمٹ میں نکی نینا کے ڈیزائن، شو کا منفرد حصہ تھے، ’’کیٹا لینا‘‘ نامی اس کلیکشن کو ترتیب دینے میں کیوبا کی ثقافت کے رنگین انداز مستعار لیے گئے۔ تاریخی اہمیت کی حامل عمارتیں، تہذیبی رنگ اور کیوبا کے ثقافتی انداز کو نکی نینا نے بڑی خوبی سے مشرقی فیشن کے قالب میں ڈھالا تھا۔ کیٹا لینا کلیکشن کے لئے قیمتی مخمل کے لباس پر نفیس اور بھرپور کڑھائی کی گئی۔ ساتھ میں چکن کاری، ڈیجیٹل پرنٹ تکنیک اور فگریٹو ڈیزائن کا امتزاج بھی اپنایا گیا۔ کیوبا کے روایتی رنگین انداز کی نسبت سے ملبوسات کے قدرتی نگینوں کے قدرتی رنگ استعمال کئے گئے، جن میں اسموکی بلیو، سبز، گلابی، پیلا اور چمکدار سبز رنگ شامل تھا۔
ہائوس آف مہدی کی کلیکشن ’’گارڈن آف ایو‘‘ گہرے اور مدھم رنگوں کا امتزاج تھی۔ سلور عروسی لباس کے ساتھ گہرا گلابی دوپٹہ، میٹالک سلور برائیڈل لہنگے کے ساتھ پیلا دوپٹہ، گولڈن میٹالک لباس کے ساتھ بھاری بھرکم اور دلفریب کڑھائی سے سجا جامنی دوپٹہ، عروسی ملبوسات کی شاندار جھلک دکھا رہا تھا۔
حرا مانی نے ڈیزائنر حارث شکیل کی کلیکشن پیش کی۔ یہ کلیکشن عروسی ملبوسات کے سدا بہار رنگ و انداز پر مبنی تھی۔
ایورتن بائی ثمر کیلئے عروہ حسین نے دلہن کا روپ دھارا۔ ان کی کلیکشن نے عروسی ملبوسات میں چٹا پٹی انداز کی واپسی کا عندیہ دیا۔ بنارسی گولڈن، نیلا اور میرون رنگ ان کی کلیکشن کے ہاٹ کاچیور ڈیزائنز کا حصہ تھا۔
فائقہ کریم کی کلیکشن کا نام ’’لِسبن‘‘ تھا، جو روایتی چمک دمک سے سجے میرون، سرخ اور گولڈن عروسی ملبوسات پر مبنی تھی۔
عائشہ سعدیہ کی کلیکشن ’’جیولز آف سیکرٹ گارڈن‘‘ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ نئی جوڑی ایمن خان اور منیب بٹ نے عائشہ کے سلور برائیڈل ڈیزائن کو بڑی خوبی سے ریمپ پر پیش کیا۔
کاچیور ویک کے آخری شو میں حسن شہریار یٰسین، جو اختصار سے ’’ایچ ایس وائی‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اپنی منفرد کلیکشن پیش کی، جو یقیناً اسٹائل اور گلیمر میں اپنی مثال آپ تھی۔ اس کلیکشن کے لیے شو اسٹاپر ماورا حسین رہیں۔