December 24, 2018
2019ء دنیا کے لیے کیسا رہے گا … ؟ علم نجوم کی روشنی میں

2019ء دنیا کے لیے کیسا رہے گا … ؟ علم نجوم کی روشنی میں

کن واقعات اور حالات کا ہوگا ظہور، بتاتے ہیں شہرئہ آفاق منجم اولڈ مور

2019 ء… پُرامید تعمیرنو کا سال
مکمل تبدیلی … ہمیں2019 ء میں اسی کی توقع رکھنی چاہیے۔ اسے خود انحصاری کا سال بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ برطانیہ تو تبدیلی کی شاہراہ پر اپنا سفر شروع بھی کرچکا ہے، چنانچہ برطانوی باشندوں کے لئے شاید یہ سال اتنا حیران کن نہ ہو، جتنا کہ باقی دنیا کے لوگوں کے لئے ہوگا۔ دنیا نے تبدیلی کے عمل کا ساتھ دینے کے معاملے میں  سست روی دکھائی ہے، جبکہ تبدیلیوں کا محرک سیارہ ’’پلوٹو‘‘ خاصا بے صبرا ہے۔
سال کا آغاز بہت زیادہ توقعات لائے گا۔ اوائل سال میں مشتری اور نیپچون کے اثرات خوش امیدی لائیں گے اور لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ وہ اپنی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ سال کی اہم ترین فلکیاتی تبدیلیوں میں سے ایک کا سبب چیرون نامی سیارہ بنے گا، جسے ’’شفا بخش‘‘ یا Healer کہا جاتا ہے۔ اس سال یہ سیارہ برج حمل میں داخل ہوجائے گا۔ گزشتہ بار دو ایسے ہی مواقع پر یعنی جب چیرون، برج حمل میں داخل ہوا تھا، ہم 1920 ء کے پُرشور عشرے اور 1970 ء کی دہائی سے گزرے تھے۔ یہ گویا ’’پارٹی ٹائم‘‘ تھا اور پوری دنیا بہت پرسکون تھی۔ برطانیہ کے لئے نیا سال بہ لحاظ مجموعی بہتر رہے گا لیکن باقی دنیا کو اپنے مسائل کا خود سامنا کرنا ہوگا۔
چیرون بہت سست رفتار سے کام کرتا ہے اور اختتام پر ہر اس اسٹیبلشمنٹ کیلئے نہایت درہم برہم کردینے والا ثابت ہوتا ہے، جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ سب سے پہلے دنیا میں رائج معاشی نظام، جس کا بہت غلط استعمال کیا گیا ہے اور جو بھاری قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔ 2008ء کے معاشی بحران کے بعد برطانیہ نے معاملات کی درستی کا بیڑا اٹھایا تھا، جس کے نتیجے میں برطانوی عوام کو مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ کچھ ملکوں کی حکومتوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا لیکن ان کا وقت بھی آکر رہے گا۔ دنیا کو اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کی حکمت عملی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ برطانوی عوام بھی اسے اختیار کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ پلوٹو کے اثرات کے تحت دنیا کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرپٹ مینجمنٹ کو الوداع کہنا ہوگا اور شفاف و دیانت دارانہ نظام بنانا ہوگا۔ سال بھر عالمی معاشی منظرنامے پر عوام کی خواہشات اور اشرافیہ کے مفادات کے مابین تصادم کے مناظر دکھائی دیں گے۔ شرمناک طور طریقے بے نقاب ہوسکتے ہیں۔ غلط قسم کے لوگ ایسی حکومتوں، بینکوں اور فنانشل ریگولیٹرز میں پائے جاسکتے ہیں، جنہوں نے اصلاح احوال کی کوشش نہیں کی۔ تاہم پلوٹو انہیں بھی راہ راست پر لانے کا عمل جاری رکھے گا۔ دنیا کو چاہیے کہ بدترین وقت کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھے اور ان اچھی اقدار اور روایات کو ازسرنو دریافت کرے، جنہیں ہر شخص اپنی زندگی میں واپس لانا چاہتا ہے۔ ووٹرز کی جانب سے اس کا ایک مظاہرہ عام انتخابات میں مقبول سیاسی لیڈروں کے متعلق بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ لوگ ایسے سیاست دانوں کی طرف مائل ہوں گے، جن کے ساتھ کرپشن کی کوئی تاریخ وابستہ نہیں۔ وہ ایسی نئی سیاسی جماعتوں کا قیام چاہیں گے، جو عوام کے قریب ہوں۔ یہ پُرامید ووٹرز ہوں گے، جو زیادہ دیانت دار اور انسان دوست حکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ خیال راسخ ہوگا کہ بس اب بہت ہوچکا اور سیاست دانوں کو بھی ماننا پڑے گا کہ ایک نیا سویرا ہونے کو ہے۔ یورپ بھر میں شوقیہ یا غیر پیشہ ورانہ سیاست رواج پائے گی۔ روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور کچھ معاشی طاقت بھی بحال ہوسکے گی۔
نئے سال کے دوران امریکا کو نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بظاہر اس کی مجموعی قومی پیداوار اور شرح ترقی متاثر کن دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت سنگین نوعیت کے معاشی مسائل اندر ہی اندر پروان چڑھ رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکنامک سپر پاور کے طور پر اس ملک کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ امریکا اپنے معاشی ؓبحران سے نمٹنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپ رہا ہے۔ چیرون کا کام ہی یہی ہے کہ وہ غلط استعمال کو بڑھاوا دے، یہاں تک کہ بالآخر دھڑن تختہ ہوجائے۔ 2019 ء میں امریکا کے معاشی انحطاط کی شروعات دکھائی دے رہی ہے۔ نئے سال میں جس طرح معیشت کے فرنٹ پر اتھل پتھل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، اسی طرح کام کی جگہوں پر بھی نت نئی تبدیلیاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔ بزنس اور فنانس کے شعبوں میں سستی ٹیکنالوجی کے فروغ کا امکان ہے۔ سافٹ ویئرز کی ایک نئی جنریشن متعارف کرائی جاسکتی ہے، جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ہوگی، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر بڑھنے والی بے روزگاری ایک نئی بحث کو جنم دے گی۔ ’’معمار‘‘ کہلانے والے برج ثور سے گزرتا ہوا یورینس ایسی مزید نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائے گا اور ان کے اثرات سادہ ’’ماڈرن ائیزیشن‘‘ سے زیادہ ہوں گے۔ ثور ہمارے معاشی رویوں میں تبدیلی لاتا ہے، اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ’’ای۔کرنسی‘‘ کی قبولیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ کہنا دشوار ہے کہ کاغذی کرنسی کی طویل المدت اہمیت کے بارے میں سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات اس کا سبب ہوں گے یا پھر نئے ویلیو سسٹم کی بڑھتی ہوئی قبولیت؟ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ کاغذی کرنسی کو انٹرنیشنل فنانشل منیجرز اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں جو کہ لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں جبکہ ’’ای۔کرنسی‘‘ مثال کے طور پر ’’بٹ کوائن‘‘ کسی سینٹرل مینجمنٹ کے زیرِ اثر نہیں کیونکہ اسے بنایا ہی اس طرح گیا تھا کہ یہ استحصالی مینجمنٹ کی دسترس سے دور رہے۔ پس منظر میں سال 2019 ء پلوٹو کے زیرِاثر رہے گا، جو تبدیلی لانے والا سیارہ ہے بلکہ اسے انقلابی سیارہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ لہٰذا یہ سال لازمی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور عدم توازن کو درست کرنے والا ثابت ہوگا۔
سال 2019 ء … بین الاقوامی منظرنامہ
اس سال تین گرہن اہم ہوں گے، جو جنوری، جولائی اور دسمبر میں لگیں گے۔ ان میں سے جولائی والا مکمل سورج گرہن ہوگا۔ پچھلی بار جب اگست 2017 ء میں ایسا ہی مکمل سورج گرہن (برج اسد میں) ہوا تھا تو اس نے کافی ہلچل پیدا کی اور ہولی وڈ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ اس بار سورج کو گرہن، برج سرطان میں لگے گا، جس کے نتیجے میں کسی اہم فیملی یا پراپرٹی کی دنیا کی کسی نمایاں شخصیت پر اس کی زد پڑ سکتی ہے۔ ہر گرہن بے یقینی کو جنم دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مخصوص صورتحال کے خاتمے اور ایک نئی شروعات کا اشارہ بھی دیتا ہے۔ اس بار مغربی دنیا کی سیاست میں ایسی ہی صورتحال رونما ہوسکتی ہے، جس میں ایک نمایاں عالمی رہنما کے بارے میں نیا تنازع سامنے آسکتا ہے۔ گرہن کے واقعات ناخوشگوار حقائق بھی منکشف کرتے ہیں۔
عالمی معیشت
گزشتہ برس بین الاقوامی معیشت ہمہ جہت ترقی اور بہتر شرح نمو کے مزے لوٹتی رہی، مختلف ملکوں کی جی ڈی پی میں اضافہ دیکھا گیا اور بےروزگاری کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایسا یورپی یونین، برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور چین… غرض سبھی جگہ دیکھا گیا۔ 2019 ء میں بھی اقتصادی فروغ جاری رہے گا کیونکہ اس سال جنوری، مئی اور ستمبر میں مشتری اور نیپچون اہم نظرات بنائیں گے، تاہم اس کے ساتھ ہی ساتھ غیر حقیقی امیدیں باندھنے، غیر ضروری طور پر توقعات قائم کرنے، عدم استحکام اور معیشت کو Over-Heat کیے جانے کو بھی ملاحظہ کیا جاسکے گا۔
مشتری کی کارگزاری بتا رہی ہے کہ 2019 ء میں افراطِ زر کی شرح بلند رہے گی، جس کے اثرات مارکیٹس پر بھی مرتب ہوں گے اور سال کے نصف آخر میں اس بات کا امکان ہے کہ سٹّے بازی کے غبارے سے ہوا نکل جائے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو گہری چوٹ لگ سکتی ہے۔ ستمبر میں امریکی ڈالر کو یورو کے مقابلے میں زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ غرض عالمی معیشت کو اس برس کئی نشیب و فراز دیکھنے پڑسکتے ہیں۔
برطانیہ
نئے سال کے دوران مشتری کئی لحاظ سے برطانیہ کے زائچے کو متاثر کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پُراعتماد حکومت اپنی پالیسیوں کو فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھائے گی، چاہے ان میں سے بعض پالیسیاں انتہائی غیر مقبول ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بڑھی ہوئی خود اعتمادی، بظاہر سرکشی دکھائی دیتی ہے۔ جنوری اور جون میں ٹرانسپورٹ، خاص طور پر ریل اور ایروناٹکس انڈسٹریز کے متعلق خوش امیدی پر مبنی نئے منصوبوں کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ 2019 ء میں  جنگجو مریخ کی پُرزور موجودگی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ برطانیہ خارجہ پالیسی اور مذاکرات میں، بالخصوص بریگزٹ کے حوالے سے سخت اور جارحانہ موقف اپنائے گا۔
2019 ء کے اوائل میں کچھ اچھے اشارے بھی موجود ہیں، جو معاشی ترقی کو ظاہر کررہے ہیں اور ایسا بریگزٹ کے باوجود بھی ممکن ہے۔ چاند کے ساتھ مشتری کا سعد زاویہ بنانا اسکولوں، این ایچ ایس، سیاحت اور سروس انڈسٹری کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے زائچے میں جون کے دوران زحل کے اثرات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ پارٹی قیادت کو زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس کا براہ راست تعلق اس بات سے ہوگا کہ برطانیہ، یورپ سے علیحدگی کے معاملے کو کس طرح ڈیل کررہا ہے۔ برطانیہ کے زائچے میں پلوٹو بھی ایک اہم زاویہ بنا رہا ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ اس برس موسم گرما کے وسط تک اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی ہلچل ہوسکتی ہے یعنی برطانوی وزیراعظم ٹریسامے کی سبکدوشی بھی عمل میں آسکتی ہے۔
یورپ
یورپی پارلیمان کے اگلے الیکشن 23-26 مئی 2019 ء کو متوقع ہیں۔ اس وقت تک برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہوگی، جس کے یورپی یونین کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ چاند اور یورینس کے مابین بننے والا زاویہ اس بات کا مظہر ہے کہ روایتی توقعات پوری نہ ہوسکیں گی اور کچھ حیران کن اور متحیر کر دینے والے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں نئی یورپی پارلیمان میں بڑی تعداد میں ایسے چہرے دکھائی دے سکتے ہیں کہ جو اس اتحاد کی افادیت پر کچھ زیادہ یقین نہیں رکھتے۔
جرمنی میں بھی سیاست تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے۔ 29برس پہلے دیوار برلن کے ڈھائے جانے اور مشرقی اور مغربی بازوؤں کے اتحاد کے بعد اب یہ ملک ’’زحل کی واپسی‘‘ کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی کو اب یورپ کے اتحاد کے متعلق خاص طور پر ایسی پالیسیوں کے بارے میں، جو غیر حقیقی ثابت ہوئی ہیں، نہ صرف دوبارہ سوچنا چاہئے بلکہ انہیں ترک بھی کردینا چاہیے۔ جرمنی، چیک ری پبلک، آسٹریا اور ہنگری میں دائیں بازو کی جو نئی سخت گیر جماعتیں ابھر رہی ہیں، یورپی یونین کو ان کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ علاوہ ازیں اس برس موسم گرما کے دوران جنوبی یورپ میں پیدا ہونے والی بےچینی کی لہر، آگے چل کر خانہ جنگی میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا
2019 ء کے دوران امریکا جارحانہ پیش رفت کرسکتا ہے کیونکہ اس کے قومی زائچے میں مشتری ایک اہم مقام سے گزر رہا ہے۔ اس دور میں یہ ملک دنیا کا سامنا زیادہ اعتماد کے ساتھ کرپائے گا۔ اس کے نتیجے میں امریکی بحریہ، بری فوج اور فضائیہ کی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔ جہاں تک امریکا کی خود اعتمادی کا تعلق ہے تو اس برس اسے بڑا دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ امریکی معیشت کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ستاروں کی چال امریکی شرح نمو میں کمی کا اشارہ دے رہی ہے جو کہ معیشت کے لئے ایک بُری خبر ہے۔ اگر امریکی معیشت نے لڑکھڑانا شروع کردیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آسکتی ہے۔
بہت سے ایسے عوامل دکھائی دے رہے ہیں کہ جو امریکی معیشت میں کساد بازاری کے خدشے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرا سکتے ہیں یا پھر افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا دوسرا نام ہے ہوش ربا مہنگائی۔ 2019ء کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زائچے پر زحل جو اثرات ڈالے گا، ان کے نتیجے میں امریکی صدر کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ جولائی کا سورج گرہن بھی ان کے چارٹ پر منفی اثرات ڈالے گا۔ اس کے نتیجے میں کوئی نیا اسکینڈل سامنے آسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایف بی آئی کی تحقیقات کوئی ایسا نتیجہ سامنے لاسکتی ہیں، جو امریکی صدر کے لئے بدحواس کردینے والا ہو، تاہم یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لئے شاید کافی ثابت نہ ہوگا کہ جس کے ڈیموکریٹس شدت سے خواہاں ہیں۔
روس اور چین
گزشتہ کئی برسوں سے مریخ، روس کے زائچے میں ایک اہم مقام سے گزر رہا ہے، اسی وجہ سے مغربی دنیا کو یہ ملک جنگجو اور کشت و خون پر آمادہ بلکہ مجرم دکھائی دے رہا ہے۔ یہ معاملہ 2020 ء کے وسط میں اپنے نقطۂ عروج کو پہنچے گا اور اس وقت تک یہ ملک بہت سے دیگر ملکوں کو ایک غنڈہ ریاست جیسا معلوم ہوگا۔ 2019 ء میں بھی صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ اس سال مشتری، زحل اور پلوٹو کے زیرِاثر روسی صدر ولادی میر پوٹن اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلیں گے۔ اس برس یہ بھی امکان ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں، جس کے جواب میں روسی صدر بھی سخت تادیبی کارروائی کرسکتے ہیں، چنانچہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں بڑی اتھل پتھل کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
عوامی جمہوریہ چین سیاسی اور معاشی محاذ پر ماضی قریب میں سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا ملک رہا ہے۔ یہ ملک اس سال بھی پُراعتماد دکھائی دے گا۔ پلوٹو اور مشتری کے اثرات کے تحت چین بین الاقوامی سطح پر عظیم معاشی پاور ہاؤس کا کردار نبھائے گا۔ تاہم جہاں تک فنانشل مارکیٹس کا تعلق ہے، وہاں اسے عدم استحکام کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ 2019 ء میں ’’ڈیٹ ببل‘‘ کے پھٹ جانے کے نتیجے میں چین قرضوں کے بحران سے دوچار ہوسکتا ہے۔
جنوری
بےیقینی کے سائے گہرے ہوں گے۔ اسٹاک مارکیٹس ضرور عروج پر ہوں گی لیکن اسمارٹ سرمایہ کار صرف محتاط انویسٹمنٹ کریں اور غیر ضروری خطرات مول لینے سے گریز کریں۔ واشنگٹن میں امریکی حکومت کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا اور اپنے اختیارات کے حوالے سے آئینی جدوجہد کرنی ہوگی۔ چین میں حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ چین کے مغربی صوبوں میں بغاوت بھی ممکن ہے۔ شمال مشرقی امریکا اور برٹش کولمبیا میں زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے والے سائرن سنائی دے سکتے ہیں جبکہ مشرقی آسٹریلیا میں سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا جاسکتا ہے۔
معاشی بےیقینی میں بھی اضافہ ہوگا۔ پراپرٹی کی قیمتوں کو پَر لگ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں  کریش کے خطرات بھی سر اٹھائیں گے۔ اس برس چین جنگی موڈ میں نظر آئے گا۔ بحیرہ جنوبی چین میں جارحانہ اقدامات کرے گا اور اپنے پڑوسیوں  کے ساتھ محاذ آرائی میں ملوث ہوسکتا ہے۔
فروری
فیشن اور پاپ کلچر کو فروغ ملے گا۔ برطانیہ کے نوجوان مصنفین اور ڈیزائنرز کو عالمی شہرت مل سکتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں ایک نئی کمیونیکیشن کمپنی متعارف کرائی جاسکتی ہے، جو شیئر ہولڈرز کو زیادہ منافع دینے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ امریکی حکومت جمہوری حقوق اور امیگریشن کنٹرول سے متعلق اصلاحات کے ذریعے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ یہ وقت عالمی امن سمجھوتوں کے لئے بہتر ہے۔ اگرچہ اس بارے میں بات چیت بہت آسان ثابت نہ ہوگی اور تمام فریقوں کو ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے فارمولے پر رضامند ہونا پڑے گا۔ اس ماہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر تبدیلیاں رونما ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ مارگیج مارکیٹ میں حکومت نئے قواعد و ضوابط اور اصلاحات متعارف کرا سکتی ہے۔ بین الاقوامی سمجھوتوں کے نتائج ویسے نہیں نکلیں گے، جیسی کہ امید کی جارہی تھی۔ مِس مینجمنٹ کے الزامات بھی لگائے جاسکتے ہیں۔ تجارتی جنگ کے خطرات تو عروج پر ہوں گے لیکن عملاً ایسا ہوگا نہیں۔ نائیجیریا میں انقلاب اور فوجی بغاوت کا خدشہ ہے۔ پورے براعظم افریقا میں بےچینی کی لہر پھیلے گی اور ’’افریقی اسپرنگ‘‘ کی باتیں کی جانے لگیں گی۔
مارچ
یہ وقت تصور میں کھوئے رہنے والوں مثال کے طور پر ادیبوں، شاعروں وغیرہ کے لئے جتنا اچھا ہے، عملی کام کرنے والوں کے لئے اتنا ہی ناموافق ثابت ہوگا۔ حکومت کی داخلی لڑائی کے نتیجے میں قیادت پارٹی کی نئی نسل کو منتقل ہوسکتی ہے۔ روسی حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مذاکرات میں اس کی ساکھ مزید مستحکم ہوگی۔
بریگزٹ کے باعث برطانیہ میں سیاسی اور معاشی محاذ پر دباؤ بنا رہے گا، بہ لحاظ مجموعی برطانوی عوام امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے، تاہم بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین مفاہمت کا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ یورپ سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد کیا ہوگا؟ اس پر بھی بےیقینی کے بادل چھائے رہیں گے۔ سرحدوں پر افراتفری کی صورت حال پیدا ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
اپریل
رومانس اور خواب دیکھنے کے لئے یہ وقت اچھا ہے۔ پوشیدہ دشمن فنانشل اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اہم دستاویزات چرائی جاسکتی ہیں اور کچھ اسکینڈلز بےنقاب ہوسکتے ہیں۔ عالمی توجہ لاطینی امریکا پر مرکوز ہوسکتی ہے۔ کیوبا جمہوری تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیادت نئی نسل کو منتقل ہوسکتی ہے۔ ارجنٹائن عدم استحکام کے طویل دور سے گزر رہا ہے اور بریگزٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جزائر فاک لینڈز پر دوبارہ اپنا دعویٰ جتا سکتا ہے۔ وینزویلا کی حکومت کو پناہ گزینوں  کے مسئلے کے باعث بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
برطانوی حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوگی، جس کے باعث اسے دارالعوام میں شکست اور ممکنہ ضمنی الیکشن میں بھی ہار کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پراپرٹی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلی کی لہر کے نتیجے میں بےیقنی بڑھ سکتی ہے۔ آسٹریلوی حکومت کو کرپشن کے اسکینڈل کا سامنا کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں کئی وزراء مستعفی ہوسکتے ہیں۔ شمالی کوریا کی قیادت کنفیوژن کا شکار ہوگی۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اس وقت امن معاہدہ کیا جاسکے گا۔
مئی
مذہبی تنازعات رونما ہوسکتے ہیں۔ روسی مداخلت کے باعث بلقان کے خطے میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ بوسنیا میں مذہبی کشیدگی کو ہوا ملے گی چونکہ سربیائی انتہاپسند اس ملک کے بعض حصوں پر قبضہ جمانے کی کوشش کریں گے۔ سربیا یورپی یونین میں شمولیت کے لئے پیش رفت کرے گا۔ جنوب مشرقی ایشیا میں بھی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ عالمی برادری میانمار پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں قیادت کی تبدیلی ممکن ہے۔ ویت نام میں معاشی ترقی کا عمل جاری ہے۔ یہ ملک سرمایہ کاروں کے لئے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔ فلپائن اور چین سلامتی سے متعلق تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے، جس کے باعث طاقت کا نیا توازن قائم ہوسکتا ہے۔
جون
معاشی ترقی کے لئے اچھا وقت ہے۔ عمومی موڈ بھی مثبت رہے گا۔ ہائی ٹیک ٹرانسپورٹیشن سسٹم میں سرمایہ کاری بہتر رہے گی۔ تعلیم کو جرائم میں کمی کے لئے استعمال کیا جائے گا اور اس پر زیادہ رقم خرچ کی جائے گی۔ پیچیدہ امراض کے جینیاتی علاج کی راہیں کھلیں گی۔ یورپی یونین کے ملکوں کی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ یورپی یونین بینکنگ سسٹم اور معیشتوں کو باہم مربوط کرنے کیلئے اہم اقدامات کرے گی۔ جنوبی افریقا میں اصلاحات سے متعلق امیدوں کے دم توڑ دینے کے باعث حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا، تاہم اراضی سے متعلق نئی اصلاحات کے بارے میں تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
ایسے نئے خطرناک امراض پھیلنے کا خطرہ ہے، جو قابل علاج نہیں۔ اس کے نتیجے میں صحت عامہ سے متعلق بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ اس ماہ کسی جنگ کے چھڑ جانے کا خطرہ بھی عروج پر ہوگا، جس سے بچنے کے لئے انتہائی حد تک مصالحانہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں سرمایہ کاری اور شرح نمو عروج پر ہوگی اور یہ ملک عالمی معاشی طاقت بننے کی طرف پیش رفت کرے گا۔ مغربی آسٹریلیا کو سیلاب کے خطرے کا سامنا ہوگا۔
جولائی
دنیا بھر میں قوم پرستانہ جذبات عروج پر ہوں گے، جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ارجنٹائن میں بڑی اصلاحات دیکھنے میں آسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ ملک جنوبی نصف کرّے کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ جرمنی کی معاشی شرح نمو بہت اچھی رہے گی۔ یورو زون کا خطہ معاشی استحکام کے دور سے گزر رہا ہے۔ یونان بھی اپنی معاشی مشکلات سے چھٹکارا پالے گا اور وہاں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ کانکنی اور پاور انڈسٹریز میں تخریب کاری کے واقعات کا خطرہ ہے۔ کچھ جگہوں پر وبائی امراض بھی پھیل سکتے ہیں۔ ایران پر پڑوسی ممالک حملہ آور ہوسکتے ہیں، تاہم ایرانی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوگا۔ صومالیہ سے انتہاپسندوں کو بھگانے اور وہاں تعمیر نو کی نئی کوششیں کی جائیں گی۔
اگست
آرٹسٹک سیکٹرز میں ترقی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ تخلیقی کاموں کے لئے بہترین وقت ہے اور غیرمعمولی شراکت داریاں قائم کی جاسکتی ہیں۔ سرکلر اکانومی پر زور دیا جائے گا۔ ری سائیکلنگ جس کا جزو لاینفک ہے۔ برطانیہ میں  برسراقتدار جماعت کے اندرونی اختلافات کے باعث وزیراعظم کو خطرات لاحق ہوں گے۔ فرانسیسی حکومت عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، تاہم وہ یونین اور لیبر ریفارمز کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ کولمبیا کو لاطینی امریکا میں اہمیت حاصل ہوگی۔ یہ ملک علاقائی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا اور یہاں سرمایہ کاروں کو بھی وافر مواقع دستیاب ہوں گے۔ بھارت میں مذہبی کشیدگی عروج پر ہوگی اور ہندو، مسلم فسادات روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
ستمبر
یورپ میں توجہ کا مرکز بلقان کا خطہ اور سابق سوویت ریاستیں ہوں گی۔ لٹویا، ایسٹونیا اور لتھوینیا میں روس کی مداخلت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ پولینڈ میں حکومت کی تبدیلی کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ لاطینی امریکا میں بھی سیاسی بےچینی کا دور دورہ ہوگا۔ بولیویا اور وینزویلا میں حکومتیں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ کولمبیا اور پیرو کے ایک مرتبہ پھر ایسی ’’نارکو۔اسٹیٹس‘‘ بن جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا، جنہیں بین الاقوامی ڈرگ مافیاز کنٹرول کرتی ہیں۔ کیوبا میں بالآخر نئی مقبول نوجوان قیادت اختیارات سنبھال لے گی۔ میکسیکو میں صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے جاسکتے ہیں۔ عالمی معیشت کی شرح نمو تیز رہے گی۔
اکتوبر
برطانوی حکومت کو خارجہ محاذ پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ برطانیہ اہم بیرونی مارکیٹس کھو دے گا، جس کا نتیجہ تقریباً تمام ہی سیکٹرز میں روزگار کے مواقع محدود ہوجانے کی صورت میں نکلے گا۔ تاجروں کے لئے نئے بارڈر قوانین کے باعث مشکلات پیدا ہوں گی۔ مشرقی افریقا کے ملکوں میں تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔ تنزانیہ اور کینیا دوبارہ معاشی ترقی کے ٹریک پر آجائیں گے، تاہم اس کے ساتھ ہی عوامی مظاہروں کے خدشات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔
فنانشل ادارے شدید ترین دباؤ کی زد میں ہوں گے اور ریگولیٹرز کو کئی بینکوں کے دیوالیہ ہوجانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ سیاسی زلزلے آسکتے ہیں۔ ’’اس ماہ کے واقعات کی پیش گوئی کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا‘‘ جیسی شہ سرخیاں ذرائع ابلاغ کی زینت بنیں گی۔ امریکا کے وسط مغربی حصے، وسطی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا میں سیاسی اَپ سیٹ رونما ہوسکتے ہیں، جہاں  برسر اقتدار عناصر کو انتخابی شکست سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔
نومبر
برطانیہ میں پارلیمانی اتھل پتھل ہوگی اور حکومت کو الیکشن اور ووٹوں کے معاملے میں شکست ہوگی۔ عالمی سطح پر یہ مسائل کے حل کے لئے سخت اقدامات کرنے کا وقت ہے۔ اس ماہ واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کے درمیان سفارت کاری کے کئی دور ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب