تازہ شمارہ
Title Image
December 24, 2018
سجل …دبلی پتلی، الہڑ شوخ

سجل …دبلی پتلی، الہڑ شوخ

اب سے سات سال قبل یعنی 2011ء میں ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ نامی ڈرامے میں ایک نوآموز اداکارہ نے قدم رکھا۔ کسی کو نہیں پتہ تھا کہ بہت سے اداکاروں کے جھرمٹ میں اداکاری کرتے کرتے، راتوں رات یہ لڑکی اپنی ایسی منفرد شناخت بنالے گی کہ ہر ٹی وی ڈرامے یا اشتہاری مہم میں اس کی شمولیت کامیابی کی ضمانت سمجھی جانے لگے گی۔ یہ دبلی پتلی، الہڑ اور شوخ سی لڑکی تھی سجل علی… جس نے اپنی محنت اور قدرتی صلاحیت کے زور پر گلیمر کی مشکل راہوں کو اپنے لیے پھولوں کی سیج بنالیا اور سفر کی صعوبتوں کو سنگ میل بناتے ہوئے آگے بڑھتی گئی۔ سجل نے پچھلے سات سالوں میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگرچہ 2009ء میں ’’جیو‘‘ کے سٹکام ’’نادانیاں‘‘ میں سجل نے ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا تھا مگر انہیں اصل شہرت ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ کے ذریعے ہی ملی۔ 2016ء میں سجل نے پہلی فلم ’’زندگی کتنی حسین ہے‘‘ میں کام کیا اور پھر وہ ہوا کی رفتار کے ساتھ سفر کرتی ہوئی بولی وڈ تک بھی جاپہنچیں، جہاں انہوں نے سری دیوی کی فلم ’’موم‘‘ میں عدنان صدیقی کے ساتھ کام کرکے ثابت کردیا کہ بھارتی فلموں میں بھی پاکستانی اداکار اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے، مقامی حسن کی دیویوں کو بھی صرف پرفارمنس کی بنیاد پر مات دے سکتے ہیں۔ ’’نادانیاں‘‘ اور ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ کے علاوہ سجل نے اب تک جس فلم، جس ڈرامے یا جس ٹی وی کمرشل میں کام کیا وہاں اپنی چھاپ چھوڑتی چلی گئیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ انہیں کسی غریب دیہاتن کا رول دے دیں، یا نازوں میں پلی کسی امیر زادی کا کردار ادا کروا لیں، سجل خود کو اس کردار میں ڈھال کر حقیقت کے روپ بھر دیتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو افسانے پر بھی حقیقت کا گمان ہونے لگے۔  ان دنوں عمران عباس کے مقابل وہ برتن دھونے والے صابن کے ایک اشتہار میں اگرچہ اس صابن کو اپنا ہیرو قرار دے رہی ہوتی ہیں، مگر دیکھنے والے ان کے برجستہ تاثرات اور بھرپور ٹائمنگ سے نبھائے گئے ان چند لمحات پر مشتمل کمرشل کو دیکھ کر یہ ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہیرو بھلے ہی ان کا وہ برتن دھونے والا صابن ہو، مگر لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور اصل ہیروئین سجل ہی ہیں۔ آپ کو سجل کی ورسٹائل اداکاری سےمحظوظ ہونا ہو تو آپ ان کے مختلف ڈرامے دیکھیں، مثلاً ’’مستانہ ماہی‘‘، ’’میرے قاتل میرے دلدار‘‘، ’’میری لاڈلی‘‘، ’’احمد حبیب کی بیٹیاں‘‘، ’’چاندنی‘‘، ’’محبت جائے بھاڑ میں‘‘، ’’ستمگر‘‘، ’’سسرال کے رنگ انوکھے‘‘، ’’دو دانت کی محبت‘‘، ’’میرے خوابوں کا دیا‘‘، ’’قدوسی صاحب کی بیوہ‘‘، ’’ننھی‘‘، ’’کہانی ایک رات کی‘‘، ’’لاڈوں میں پلی‘‘، ’’چپ رہو‘‘، ’’میرا رقیب‘‘، ’’چپکے سے بہار آجائے‘‘، ’’خدا دیکھ رہا ہے‘‘، ’’کس سے کہوں‘‘، ’’تم میرے کیا ہو‘‘، ’’گل رعنا‘‘، ’’میرا یار میرا دل‘‘، ’’یقین کا سفر‘‘، ’’او رنگریزا‘‘ اور ’’نور العین‘‘۔ یہ ڈرامے دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ سجل ڈوب کر اداکاری کرنے کا فن جانتی ہیں۔ اپنے سفر کی ابتدا میں انہوں نے ہر سال پانچ سے چھ ڈراموں میں کام کیا، پھر انہیں رفتہ رفتہ اندازہ ہونا شروع ہوا کہ بہت زیادہ کام کرنے سے بھی کوالٹی متاثر ہوتی ہے، چنانچہ 2015ء میں انہوں نے صرف دو سیریلز میں کام کیا اور آنے والے دونوں سالوں میں یہ تعداد کم ہوتے ہوتے صرف دو دو سیریلز تک محدود ہوگئی، یہاں تک کہ 2018ء میں انہوں نے زیادہ توجہ ٹی وی کمرشلز اور فیشن شوز کو دی جبکہ اس سال ان کی دو سیریلز ’’آنگن‘‘ اور ’’الف‘‘ پائپ لائن میں ہی رہیں۔ اگرچہ سجل نے اپنے فنی سفر کے آغاز سے ہی ٹی وی سیریلز کے ساتھ ساتھ ٹیلی فلموں میں بھی کام کیا، جن کی تعداد تیرہ ہے۔ مگر یہاں بھی رفتہ رفتہ وہ اپنے کام کو محدود کرتی گئیں۔ 2012ء میں چھ، 2013ء میں چار، 2014ء میں دو اور 2015ء میں صرف ایک ٹیلی فلم میں انہوں نے کام کیا ،اور اب پچھلے تین سال سے انہوں نے کسی ٹیلی فلم میں اپنی ادائوں کے جلوے نہیں دکھائے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سجل رفتہ رفتہ اس رجحان پر مائل نظر آتی ہیں کہ کم اور اچھا کام ہی ان کی فنی صلاحیتوں میں نکھار کا باعث ثابت ہوگا۔ 2017ء میں اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سے سجل کی طبیعت میں سنجیدگی اور مزاج میں نسبتاً بردباری بھی آئی ہے۔ وہ اپنی اداکارہ بہن صبور اور اکلوتے بھائی کو والدین کی طرح ساتھ لے کر چل رہی ہیں۔ ایوارڈز ان کی جھولی میں کسی قدرتی نعمت کی طرح آکر گرتے رہتے ہیں۔ مگر لگتا یہی ہے کہ سجل کی منزل ایوارڈز یا پذیرائی نہیں ہے، وہ اچھے سے اچھی پرفارمنس کی تگ و دو میں سرگرداں رہتی ہیں۔ 17؍ جنوری 1994ء کو لاہور میں پیدا ہونے والی سجل علی نے فن کی خاطر کراچی ہجرت کی اور ایکٹنگ کے میدان میں زبردست معرکے سرانجام دیئے ہیں۔ ناظرین جتنا محظوظ ان کے نئے آنے والے ڈراموں یا اشتہارات سے ہوتے ہیں، اتنی ہی دلچسپی انہیں دیکھنے والوں کو ایسی خبروں میں بھی رہتی ہے کہ کس سے ان کی منگنی کی افواہیں گرم ہیں اور کس کے ساتھ ان کے نکاح کی شہ سرخیاں لگ رہی ہیں۔ مگر سجل کے لیے یہ سب کچھ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینے والی باتیں ہوتی ہیں، وہ کچھ نہ کچھ نیا اور ذرا پہلے سے ہٹ کر کرنے کی عادی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے پہلے انہوں نے اپنے مقبول سیریل ’’او رنگریزا‘‘ کا ٹائٹل گیت بھی اپنی ہی مدھر آواز میں ریکارڈ کروایا اور خوب شہرت کمائی۔ ابھی سجل کا سفر شروع ہوا ہے اور ڈھیر سارا کام کرلینے کے باوجود وہ خود کو طفلِ مکتب سمجھتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سجل سے امیدیں بھی زیادہ وابستہ کرلی گئی ہیں۔