تازہ شمارہ
Title Image
December 24, 2018
زیور … سدابہار انداز

زیور … سدابہار انداز

ہمارے یہاں زیور صرف خوبصورتی میں اضافے کا سامان نہیں، بلکہ یہ خاندانی روایات اور مشرقی ثقافت کا حصہ بھی ہے۔ اس لیے ان کو نہایت خوبی سے اپنی خاندانی اور ثقافتی روایات، تہوار اور شادی بیاہ کی رسومات نبھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو ان کے بغیر ہمارے تہوار ہی نہیں عام دنوں کی تیاری بھی نامکمل ہے۔ مشرقی تہذیب و تمدن کا اہم حصہ زیور، ہماری ثقافت کا لازمی جزو ہیں، جب ہی تو موسم، موقع اور تہوار کے مطابق ان کو خریدا اور برتا جاتا ہے۔ صرف مشرقی ممالک ہی نہیں، مغربی ممالک کی خواتین بھی اپنے اپنے ملک اور ثقافتی انداز کے مطابق زیور استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس انداز میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو خوبی، روایتی انداز میں ہے وہ کسی میں نہیں۔ افسوس کہ آج کی نئی نسل، ہماری روایات اور قدیم تہذیب کی اس فنکارانہ وراثت کو بھولنے لگی ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین پرانے انداز کے ان زیورات کو پہننا اور بنوانا تو کیا، ان کو جانتی بھی نہیں۔ وہ سدا بہار زیور جن کے بغیر شادی بیاہ اور تہوار ادھورے تھے، آج ان کی جگہ مغربی طرز کے چوکرز، پینڈنٹ اور ایئر رنگز نے لے لی ہے، جن میں نہ نزاکت ہوتی ہے اور نہ مشرقی ادا۔  آج کا زمانہ کچھ ایسا ہے کہ ہر پرانے انداز کو تلف کر کے اس کی بنیاد پر نئے ڈیزائن متعارف کروائے جاتے ہیں، اس طرح یقیناً قدیم انداز کی صورت بدل جاتی ہے اور وہ جدت سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے نا کہ پھر ان میں وہ بات بھی نہیں رہتی، جو سدا بہار مشرقی زیورات کے دلفریب انداز کی خصوصیت ہے۔  آئیے جانتے ہیں، وہ کون سے قدیم مغلیہ اور شاہانہ انداز ہیں جو آج بھی اپنی انفرادیت قائم رکھنے میں کامیاب ہیں، ہمیں امید ہے ان روایتی زیورات میں سے چند ایک تو آپ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جائیں گے۔  چاند بالی:مانا جاتا ہے کہ چاند بالی کا منفرد ڈیزائن راجستھانی ثقافت کا حصہ ہے، جسے انیسویں صدی میں متعارف کروایا گیا۔ ویسے چاند بالیوں کو حیدرآباد کے نظام خاندان میں بھی پسندیدگی حاصل تھی۔ چاند بالی، مشرقی زیورات کے جھرمٹ میں نفیس اور لطیف انداز کی عکاسی کرتی ہے، آج چاند بالی کے لاتعداد منفرد ڈیزائن موجود ہیں، ہیرے جواہرات اور نگینوں سے موتیوں تک ہر چیز اس کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ہر موقع اور لباس کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ ساڑی، انارکلی یا کُرتی اور جینز، مشرقیا ور مغربی لباس کے ساتھ اسے بہ آسانی اپنایا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ مشرقی ملبوسات کے ساتھ ان کی خوبصورتی بے مثال محسوس ہونے لگتی ہے۔ میناکاری جھمکا:جھمکے، مشرقی زیورات میں سب سے اسٹائلش زیور ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ سدا بہار زیورات کی اہمیت سمجھنے والے جیولری ایکسپرٹ ڈیزائنرز کا خیال ہے کہ جھمکے، مشرقی خواتین کے جیولری بکس کا سب سے قیمتی حصہ ہے، اس کو عام دن اور تہوار کے موقع پر یکساں اہمیت حاصل رہتی ہے، جیولری ڈیزائنرز کا ماننا ہے کہ جیسے ہر خاتون کی وارڈ روب میں ایک خوبصورت سیاہ لباس، ایک بہترین سفید قمیض اور ایک بہترین جینز موجود ہونا لازم ہے، ویسے ہی جھمکے کے چند منفرد ڈیزائن بھی آپ کے لازمی ہونا چاہئیں۔ کیونکہ یہی جھمکے آپ کا Go To Style بننے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ جھمکے آج کل لاتعداد چھوٹے بڑے ڈیزائن میں دستیاب ہیں۔ ان پر منفرد کام بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ سونے، چاندی، میٹل یہاں تک جڑائو انداز میں بھی تیار کروائے جاسکتے ہیں۔ البتہ آجکل مینا کاری جھمکے سب سے زیادہ پسند کیے جارہے ہیں۔ میناکاری جھمکے، راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں شاہی انداز کی جھلک دیکھنے کے لیے روایتی انداز اپنائیے، ہر قسم کے روایتی مشرقی ملبوسات کے ساتھ ان کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔  ماتھا پٹی:مانگ ٹیکا کی بڑی بہن ’’ماتھا پٹی‘‘ ہے، اگر آپ کو مانگ ٹیکا ہلکا پھلکا لگ رہا ہے اور بھرپور انداز میں تیار ہونے کی خواہشمند ہیں تو ماتھا پٹی کا انتخاب کیجئے۔ قدیم زمانے میں ماتھا پٹی شاہی خاندان کی خواتین کا زیور مانا جاتا تھا جبکہ مانگ ٹیکا عام خواتین استعمال کرتی تھیں۔ آجکل ماتھا پٹی، عروسی زیورات کا لازمی حصہ ہے۔ دلہن کی تیاری اس کے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتی، معروف اداکارائوں سے عام دلہنیں تک اسے اپنا رہی ہیں۔ مانگ ٹیکا:جدید دور کے ساتھ زیورات میں کئی نئے انداز متعارف کروائے گئے ہیں۔ خصوصی طور پر ہیئر ایکسرسیریز کی تو پوری ایک نئی رینج دستیاب ہے، لیکن بلاشبہ مانگ ٹیکا اب بھی ہر عمر کی خواتین کا پسندیدہ زیور ہے اور یقیناً اسے بال میں لگائے جانے والے زیورات میں سب سے مقبول قرار دیا جاسکتا ہے۔ مانگ ٹیکا، بال کی مانگ کے ساتھ خوبصورتی سے سیٹ کیا جاتا ہے، اس کا ڈیزائن آپ کی پسند پر منحصر ہوسکتا ہے، دیکھ لیجئے ممکن ہے آپ کی امی جان کا نازک سا مانگ ٹیکا اب بھی ان کی صندوقچی میں موجود ہو۔ بازو بند:بازو بند برصغیر کی مشترکہ روایت کا حصہ ہے، اسے عام طور پر جنوبی بھارت میں زبردست پسندیدگی حاصل ہے لیکن پاکستان میں بھی شادی بیاہ کے موقع پر دلہن اور عام خواتین اس کا استعمال شوق سے کرتی ہیں۔  کمر بند:قدیم شاہی انداز سے سجا یہ زیور، ساڑی کے ساتھ سب سے اچھا لگتا ہے۔ پرانے زمانے کے فن پاروں میں بھی خواتین یہ پہنے نظر آتی ہیں۔ آج کل عروسی لہنگے اور انارکلی کے ساتھ بیلٹ لگانے کا رواج ہے، یہ بیلٹ دراصل، کمربند ہی کی فیشن ایبل شکل ہے۔  پازیب:اس کی نزاکت کے کیا کہنے، اس کے کئی انداز مقبول ہیں، مثلاً پائل، زنجیری وغیرہ۔ پائل نازک لڑی پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ پازیب کا ڈیزائن بھاری بھرکم جڑائو انداز پر مبنی ہوتا ہے۔ پازیب کا انداز، مغلیانہ تہذیب کا حصہ ہے، بہترین پازیب کا ارادہ ہو تو کندن، چاندی، سونے کا انتخاب کیجئے۔ قیمتی نگینے اور ہیرے بھی پازیب کے لیے بہترین ہیں۔ کنگن:چوڑی اور بریسلٹ کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی ہے جو آپ کی کلائی کو خوبی سے سجاسکتی ہے۔ کڑا، آپ کے ذاتی اسٹائل کو ظاہر کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کڑا خریدتے وقت یہ خیال رکھئے کہ آپ کی پسند اور ذوق اس سے بخوبی ظاہر ہوسکے۔ نتھ:شادی شدہ خواتین کا بنائو سنگھار، نتھ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا، سولہویں صدی عیسوی سے اسے خواتین کے بنائو سنگھار کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ اسے پولکی، ہیرے اور سونے، چاندی سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں سے تعلق کھنے والی خواتین مختلف انداز کی نتھ استعمال کرتی ہیں، ان کا منفرد انداز ہی ان کی پہچان ہے۔  ہاتھ پھول:ہاتھ پھول کا مطلب ہے، ’’ہاتھ کے لیے پھول‘‘ اسے پنچگلا بھی کہتے ہیں۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ ہاتھ کی انگلیاں مخروطی اور ہاتھ خوبصورت نظر آئیں تو ان کو استعمال کیجئے۔ یہ قدیم زیور آپ کو دلکش رعنائی اور اسٹائل سے سجا دے گا۔ شادی بیاہ کے موقع پر جس طرح ہاتھ پر مہندی لگانا روایت کا حصہ ہے، اسی طرح ہاتھ پھول پہننا بھی ضروری ہے۔ چندر ہار:زیور کا یہ قدیم و روایتی انداز، اصل میں بنگال کی تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ اسے پہننے کا انداز بھی منفرد ہے۔ ہے تو یہ ایک ہار، لیکن اسے گلے میں نہیں بلکہ کندھے پر پہنا جاتا ہے۔ لہریہ دار سونے کی لڑیوں پر چھوٹی چھوٹی بوٹیاں لٹکائی جاتی ہیں اور ان کو ایک کندھے پر خوبی سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ بورلا:راجستھانی ثقافت میں مانگ ٹیکے کا ایک خاص انداز شامل ہے، جسے بورلا کہتے ہیں۔ قدیم زمانے میں بورلا، تیج کے تہوار پر شادی شدہ خواتین پہنا کرتی تھیں، لیکن آج یہ پاکستانی خواتین کے عروسی فیشن ٹرینڈ کا لازمی حصہ ہے۔  نظام چوٹی:چھوٹی سی ’’نظام چوٹی‘‘ ایک زمانے میں شاہی خاندان کی خواتین کی آن بان شان کا حصہ تھی۔ جیسے آج ’’ہیئر پن‘‘ ہوتی ہیں، ویسے ہی پہلے زمانے میں ان کو نظام چوٹی کہاجاتا تھا۔ ان کی سجاوٹ کے لیے مور، کنول کے پھول کا ڈیزائن پسندیدہ ہے۔  جڑائو نگم:دلہن کے بالوں سے چوٹی بنائی جاتی اور اس چوٹی کو سجانے کے لیے جڑائو نگم کا استعمال کیا جاتا۔ آج چونکہ اکثر خواتین شادی کے موقع پر جوڑا بناتی ہیں، اس لیے ان کا استعمال کم ہوگیا ہے، لیکن اس انداز کی واپسی ہوجائے تو یقیناً یہ ایک اچھا اضافہ ہوگا۔ کرن پھول:کرن پھول کا مطلب ہے ’’کان کے لیے پھول‘‘ اور واقعی اس زیور کو کان میں سجانے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پھل کِھل اٹھا ہو۔ اس ڈیزائن کے لیے آپ اپنے علاقائی پھولوں کا انتخاب بھی کرسکتی ہیں۔ آج کا زمانہ چونکہ جدت کا ہے، اس لیے اب کرن پھول کے روایتی ڈیزائن میں بھی نئے انداز اپنائے جانے لگے ہیں۔ کرن پھول، جھمکے کی شکل میں بھی خوبی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ آپ اپنی پسند کے مطابق اس کو اپنالیجئے، خوشگوار تاثر مرتب ہوگا۔