December 31, 2018
مشکل نہیں میک اپ

مشکل نہیں میک اپ

ذرا سوچئے اور سراہئے، میک اپ سے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟ سادہ سی شخصیت کو اندازِ دلربائی عطا کرنے کے علاوہ اس میں آپ کے لیے خود اعتمادی کی بھرپور تازگی بھی موجود ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خواتین، میک اپ کے بعد زیادہ پراعتماد نظر آتی ہیں، شاید اس لیے کہ میک اپ کے بعد ان کی شخصیت کا قدرتی تاثر نکھر جاتا ہے اور وہ خود سے غافل نہیں بلکہ اپنی شخصیت کی ہر خوبی اور خامی، اعتماد سے اپنائے نظر آتی ہیں۔ جیسے میک اپ کی خوبیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ویسے ہی یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ صبح دفتر جانے سے پہلے اتنا وقت نہیں ہوتا کہ سہولت اور پرسکون انداز میں میک اپ کیا جاسکے، اکثر خواتین تو صبح کے وقت میک اپ کو ناممکن خیال کرتی ہیں۔ کہتی ہیں، صبح سویرے اتنی توانائی اور ہمت کس کے پاس ہے کہ آدھے ایک گھنٹے پر مشتمل میک اپ روٹین اپنائی جائے؟ صبح کا وقت مختصر ہوتا ہے اور جو وقت دن کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، بھلا اسے میک اپ پر ضائع کیوں کیا جائے؟ ان مسائل کا حل ہم آج لے آئے ہیں، آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کم وقت، معمولی کوشش اور چند مصنوعات کی مدد سے اپنی تیاری کیسے مکمل کی جاسکتی ہے۔
میک اپ کا کم سامان:ہوسکتا ہے آپ کو میک اپ خریدنا بہت پسند ہو، لیکن طرح طرح کی چیزیں خرید کر جمع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ آزمودہ اور معیاری سامان خریدیں اور بس اسی تک محدود رہیں، کامیاب اور مختصر میک اپ روٹین اپنانے کے لیے بہتر ہے کہ سب سے پہلے غیر ضروری سامان سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ طرح طرح کے فائونڈیشن اور فیس پائوڈر ترک کردیجئے، اپنی جلد اور رنگت کی مناسبت سے ایک بہترین اور معیاری فیس پائوڈر منتخب کیجئے، متاثر کن میک اپ روٹین کے لیے یہی ایک چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
دو میک اپ بیگ اور دو شیلف: میرے پاس دو میک اپ بیگ ہیں، ایک میں میک اپ کا سارا سامان رہتا ہے اور اس وقت کام آتا ہے جب مجھے فینسی لُک اپنانا ہو، مثلاً خاندان کی اہم تقریبات، شادی بیاہ اور ڈنر پارٹی، اس پہلے بیگ میں فائونڈیشن، آئی شیڈو پیلٹس، برونزر، ہائی لائٹر وغیرہ ہوتا ہے۔ دوسرا بیگ روزمرہ میک اپ روٹین سے متعلق ہے، اس میں کاجل، لپ اسٹک، بلش اور فیس پائوڈر ہے۔ دو بیگ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو بار بار سارا میک اپ ڈھونڈنا نہیں پڑتا بلکہ ایک معمول کے تحت میک اپ اپنانا ممکن ہو جاتا ہے۔ میک کا محدود سامان سامنے ہوگا تو صبح سویرے تیزی سے تیاری مکمل کرنا بھی آسان ہوجائے گا، یہ ایسے ہی ہے جیسے کپڑوں کی الماری کو سمیٹنا، جتنے کم ملبوسات الماری میں ہوں گے، اتنی ہی آسانی سے لباس منتخب کیا جا سکے گا۔
ایک چیز سے کئی کام لیجئے:میک اپ لگانے کی طرح، اسے خریدنا بھی ایک تکنیک ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جو صرف کسی ایک کام کے لیے نہیں بلکہ کئی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکیں۔ جیسے بی بی یا سی سی کریم، جو موائسچرائزر، فائونڈیشن، پرائمر اور کبھی کبھی اینٹی ایجنگ کریم کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ ذرا سی سمجھداری دکھا کر عام مصنوعات کو بھی خاص بنا سکتی ہیں، جیسے کریم بلش کو لپ گلوس کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، مسکارا کو آئی لائنر کے طور پر لگایا جاسکتا ہے، جبکہ برونزر اور لیکوئیڈ لپ گلوس آئی شیڈو کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایک بنیادی تکنیک اپنائیے:کیا آپ کو اب تک سمجھ نہیں آیا کہ آپ کے لیے بہترین میک اپ روٹین کیا ہے؟ اور آپ کو میک اپ کیسے شروع کرنا اور کب ختم کرنا ہے؟ آپ توجہ دیں تو محض پانچ منٹ پر مبنی میک اپ روٹین طے کی جاسکتی ہے، جو کہ آپ با آسانی ناشتہ کرنے اور لنچ بیگ تیار کرنے کے دوران اپنا سکتی ہیں، پانچ منٹ میک اپ روٹین کے لیے یہ طریقہ اختیار کیجئے:
پہلا مرحلہ:سب سے پہلے ایک موائسچرائزر لگائیے، جس میں ایس پی ایف کی خوبی موجود ہو۔ Tinted موائسچرائزر، اچھا انتخاب ثابت ہے۔ اس طرح پرائمر، موائسچرائزر، فائونڈیشن سب کچھ ایک ہی چیز میں موجود ہوگا اور آپ محض دو منٹ میں چہرے کی یہ اہم ضرورت پوری کرلیں گی۔
دوسرا مرحلہ:آئی لائنر لگائیے، ایک منٹ میں یہ کام مکمل ہوسکتا ہے۔
تیسرا مرحلہ:بلش لگائیے، میک اپ کی تکنیک سمجھنے والی خواتین اس کے بغیر اپنی تیاری ادھوری سمجھتی ہیں، ایک منٹ میں بلش لگ جائے گا۔
چوتھا مرحلہ:ہائی لائٹر لگائیے، ہائی لائٹر ایسا ہو کہ چہرے کو چمک بھی مل جائے اور آپ تروتازہ بھی نظر آئیں۔ ایک منٹ مکمل ہونے سے پہلے یہ کام مکمل ہوچکا ہوگا۔
پانچواں مرحلہ:لپ گلوس لگائیے یا لپ اسٹک کے ساتھ اپنا لُک مکمل کیجئے۔ اس کام کے لیے15سیکنڈ بھی کافی ہوں گے۔
میک اپ کا طریقہ:میک اپ کرنے کے لیے مناسب مصنوعات، بہترین وقت اور تکنیک کا استعمال کیا، لیکن میک اپ لگانے کا طریقہ درست نہ تھا، اس لیے آپ کی جلد پر میک اپ جذب ہو کر اپنا بہترین تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ میک اپ کو جلد پر اچھی طرح لگانے کے لیے بہتر ہے کہ آپ آنکھوں کے کنارے پر کنسیلر لگانے کے لیے اپنی چوتھی انگلی استعمال کریں۔
٭آئی لائنر ایک مرتبہ میں بہترین سیٹ ہو جائے، ایسا کارنامہ انجام دینا مشکل محسوس ہوتا ہے لیکن اگر آپ آئی لائنر لگانے سے پہلے آنکھوں پر نقطے سے بنالیں تو یہ کاجل کی ایک بھرپور سلائی سجانے میں مددگار ثابت ہوگی، ویسے آج کل اسٹیمپ آئی لائنر بھی مقبول عام ہیں، جن کی مدد سے کام آسان ہوجاتا ہے۔
٭ہائی لائٹر کو اپنے چہرے کی قدرتی ساخت، خوبصورتی سے ابھارنے کے لیے استعمال کیجئے، رخسار، ناک کے اردگرد اور ناک کی نوک پر اسے لگانا بہتر طریقہ ہے۔
٭کنسیلر لگانے کے لیے تکونی تکنیک استعمال کیجئے، آنکھوں کے نیچے تکون بنائیے اور اس کو اچھی طرح بلینڈ کرلیجئے، اس طرح آپ کا چہرہ خوبصورت اور بھرپور نظر آئے گا، آنکھیں دھنسی ہوئی یا سوئی سوئی محسوس نہ ہوں گی۔
یاد رکھئے، میک اپ ایک آرٹ ہے، جس پر مہارت حاصل کرنے کے لیے کسی خاص عمر اور قابلیت کی ضرورت نہیں، بس ذرا سا جذبہ جگا لیجئے کہ میں خوبصورت ہوں اور ہمیشہ خوبصورت نظر آنا چاہتی ہوں، پھر دیکھئے، کوئی بھی میک اپ روٹین مشکل نہ رہے گی!