تازہ شمارہ
Title Image
December 31, 2018
خدشات اور  کچھ  روشن توقعات

خدشات اور کچھ روشن توقعات

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بھارت میں کرکٹ امور چلانے والے ادارے (بی سی سی آئی) کے درمیان قانونی جنگ کے اخراجات سے متعلق فیصلہ بھی سنادیا۔ آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو کیس کے اخراجات کی مد میں بھارتی بورڈ کو 60فیصد رقم ادا کرنی ہوگی۔گزشتہ دنوںبھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پی سی بی کے خلاف کرکٹ تنازع پر بی سی سی آئی کے 12لاکھ ڈالر (تقریباً 15 کروڑ پاکستانی روپے) خرچ ہوئے تھے۔اپنے اخراجات کے بارے میں ابھی تک بھارتی بورڈ کی جانب سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اگر بھارتی میڈیا کے دعوے کو مدِ نظر رکھا جائے تو پی سی بی اپنے حریف بی سی سی آئی کو تقریباً 9 کروڑ پاکستانی روپے دینے کا پابند ہوگا۔یاد رہے کہ 2014ءمیں بگ تھری کے معاملے پر پاکستان نے غیر مشروط طور پر بگ تھری کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔بعدِ ازاں پی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان ایک معاہدے کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت 2015 ءسے 2022ءتک دونوں ملکوں کے درمیان 6 دوطرفہ سیریز کھیلی جانی تھیں اور اس سلسلے کی پہلی سیریز کی میزبانی پاکستان کو کرنی تھی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری سیریز 2007 ءمیں بھارت میں ہی کھیلی گئی تھی جس کے بعد سے اب تک کوئی باقاعدہ مکمل کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔بھارت کو اس کے بعد اگلی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آنا تھا لیکن 2008ءمیں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ کرکٹ تعلقات بھی متاثر ہوئے اور اس کے بعد متعدد کوششوں کے باوجود کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی جا سکی۔اس سلسلے میں 2012ءمیں اس وقت معمولی پیشرفت ہوئی تھی جب پاکستان نے 2ٹی ٹوئنٹی اور 3ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد تعلقات میں کچھ بہتری آنا شروع ہوئی تھی۔پاکستان نے اپنے دلائل کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے 2015ء سے 2022کے دوران سیریز کھیلنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب تک ایک بھی سیریز نہیں کھیلی۔پی سی بی کا مؤقف یہ تھا کہ سیریز نہ کھیلنے کی صورت میں پاکستان کو بھاری مالی نقصان ہوا، جس کی مالیت 60ملین ڈالر بنتی ہے اور بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کے سبب یہ ہرجانہ ادا کرے۔دوسری جانب بھارت کا کہنا تھا کہ دوطرفہ سیریز کھیلنے کے لیے انہیں اپنی حکومت سے اجازت درکار ہے اور جب تک حکومت اجازت نہیں دیتی، اس وقت تک پاکستان کے ساتھ کوئی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی جائے گی۔آئی سی سی کے تین رکنی پینل نے دونوں ممالک کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے بعد میں سناتے ہوئے پاکستان کی درخواست خارج کردی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) 2019 ء کے 34 میچز میں سے آخری 8 میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کے شیڈول کا اعلان کیا گیا، جس کے مطابق پاکستان میں کھیلے جانے والے آخری 8 میچز میں سے 3 لاہور اور 5 کراچی میں کھیلے جائیں گے۔ کراچی میں کھیلے جانے والے میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی جبکہ لاہور میں کھیلے جانے والے میچز قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کا افتتاحی میچ 14 ؍فروری کو دفاعی چیمپئنز اسلام آباد یونائیٹڈ اور چھٹی ٹیم کے درمیان کھیلا جائے گا۔ شیڈول کے مطابق 14یچ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم، 4 ابوظبی میں واقع شیخ زید اسٹیڈیم اور 8 میچ شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ پی سی بی کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’’پاکستان کرکٹ بورڈ کا ماننا ہے کہ ایچ بی ایل کی مدد سے پاکستان سپر لیگ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس لانے کا ایک راستہ ہے۔‘‘ پی سی بی کے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقامی حکام کے تعاون سے کراچی اور لاہور میں 8 میچ منعقد کرکے پی سی بی ایک مرتبہ پھر دنیا کو ثابت کر دے گی کہ دنیا کے کسی اور حصے کی طرح پاکستان بھی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے محفوظ مقام ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے گزشتہ ایڈیشن میں نئی فرنچائز ’’ملتان سلطانز‘‘ کا اضافہ ہوا تھا لیکن مالی مسائل کے سبب فرنچائز مالکان مقررہ وقت پر ادائیگیوں سے قاصر رہے تھے۔ جس کے بعد پی سی بی نے شون پراپرٹی بروکرز کی زیر ملکیت فرنچائز کو ملکیت سے محروم کردیا تھا جس کے بعد ٹیم کے مالکانہ حقوق پی سی بی کو منتقل ہو گئے تھے۔ فرنچائز کے مالکانہ حقوق کی فروخت کے لیے ٹینڈر نوٹس جاری کر کے باقاعدہ فرنچائز کو فروخت کیا جائے گا، تاہم اس وقت تک ٹیم کو ’’چھٹی ٹیم‘‘ کے نام سے پکارا جائے گا۔ آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردی جس میں قومی ٹیم کے لیگ اسپنر ایک درجہ تنزلی کے بعد دسویں پوزیشن پر پہنچ گئے۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان پرتھ ٹیسٹ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ نئی ٹیسٹ رینکنگ میں آسٹریلوی بولر نیتھن لیون شاندار کارکردگی کی بدولت ساتویں اور جوش ہیزلی وڈ نویں پوزیشن پر پہنچ گئے۔ بہترین بولرز کی فہرست میں 757پوائنٹس کے ساتھ نویں پوزیشن پر موجود یاسر شاہ ایک درجہ تنزلی کے بعد دسویں نمبر پر چلے گئے جب کہ محمد عباس رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ جنوبی افریقا کے کگیسو ربادا بدستور پہلی، انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن دوسری اور جنوبی افریقا کے فلنڈر تیسری پوزیشن پر موجود ہیں۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے بہترین بیٹسمینوں کی فہرست میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی۔ ویرات کوہلی 14 پوائنٹس اضافے کے بعد 934پوائنٹس پر پہنچ گئے جب کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلی مرتبہ 900پوائنٹس سے زائد حاصل کرنے والے ولیمسن 915پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اسٹیون اسمتھ تیسرے، چتیسور پجارا چوتھے اور انگلینڈ کے جوئے روٹ پانچویں نمبر پر ہیں، جب کہ بہترین بیٹسمینوں کی فہرست میں پاکستان کے اظہر علی 708 پوائنٹس کے ساتھ 10ویں نمبر پر آگئے۔ پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے رکن اور سابق کپتان مصباح الحق نے ٹیم کی ناکامیوں کی وجہ بتادی ، کہتے ہیں شکست کا ذمہ دار صرف کپتان نہیں بلکہ ٹیم مینجمنٹ بھی قصور وار ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کرکٹ کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ شکست کا ذمہ دارصرف کپتان نہیں بلکہ مینجمنٹ پربھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز میں پہلی اننگزبہت اہم ہوتی ہے اس لیے اگر جیتنا ہے تو بڑا اسکورکرنا ہوگا۔ ماضی میں ہم پہلے کھیل کربڑا اسکور کرتے رہے لیکن اب اچھا کھیل کربھی ٹیم بڑا اسکورکرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہی۔مصباح نے سرفراز احمد کی بیٹنگ فارم کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز کی ناکامی ٹیم پراثرانداز ہو رہی ہے کیونکہ ان کے رنز ٹیم کے لیے بہت اہم رہے ہیں ۔ جب میں کپتان تھا تو رنز کرتے ہوئے مجھ پر اتنا دباؤ نہیں ہوتا تھا۔سابق کپتان کے مطابق کپتان رنز نہ بنائے توکارکردگی کا پریشر اور ٹیم کا پریشر مشکلات کا سبب بن جاتا ہے اور اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ اس وقت سرفراز کی کارکردگی میں مستقل مزاجی نہیں ، اسی لیے وہ بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔  انٹرویو میں مصباح نے مزید کہا کہ شکست کی ذمہ داری صرف کپتان پرعائد نہیں ہوتی بلکہ کوچنگ اسٹاف کی حکمت عملی اور ٹیم کی تشکیل میں بھی خامیاں ہیں ۔ اس طرح سے بیٹسمین بھی ذمہ دار ہیں ۔ ابوظہبی ٹیسٹ کی آخری اننگز میں سب جانتے تھے کہ ڈرا کے لیے کھیل رہے ہیں ۔ آخری پانچ بیٹسمینوں نے ہوا میں اونچے اونچے شاٹس کھیلے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ مطابق کسی کوعلم نہیں تھاکہ پلان کیا ہے، یہ تمام چیزیں ٹیم منیجمنٹ کو ہی کنٹرول کرنا ہوتی ہیں۔مصباح نےمزید کہا کہ ہماری سب سے اہم خصوصیت حریف ٹیموں کے اسپنرز کواعتماد سے کھیلنا اور بڑا اسکور کرنا تھی لیکن اب یہی یہی ہمارا کمزور ترین حصہ بن گیا ہے کیونکہ ہم اسپنرز کے ہاتھوں آؤٹ ہو رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور انگلش کرکٹ میں وسیع تجربے کے حامل وسیم خان کو بورڈ کا نیا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کردیا۔ وسیم خان پاکستانی حلقوں میں اتنے مقبول نہیں لیکن کرکٹ کے انتظامی امور خصوصاً انگلش کرکٹ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور کئی سالوں سے وہاں کاؤنٹی کرکٹ سمیت مختلف سطح پر اہم ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔ 47سالہ سابق کرکٹر دنیا کے 10بہترین بزنس اسکولوں میں سے ایک واروک بزنس اسکول سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں اور خود انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے 1995 ء سے 2001 ء تک ورکشائر، سسیکس اور ڈربی شائر کی نمائندگی کی، جبکہ وہ انگلینڈ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں بھی کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وسیم خان نے 58فرسٹ کلاس میچوں میں 5سنچریوں اور 17نصف سنچریوں کی مدد سے 2ہزار 835رنز بنائے جس میں ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 181رنز تھا۔ انہیں 2013ء میں انگلش کرکٹ میں اعلیٰ خدمات پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے ایم بی ای ایوارڈ (آرڈر آف برٹش ایمپائر) سے نوازا گیا تھا اور اس کے 2سال بعد انہیں لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کی جانب سے چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا اور انہوں نے وہاں ایک کامیاب دور گزارا۔ 2005 ءمیں انہیں 50ملین ڈالر لاگت کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبے کی قیادت سونپی گئی، جسے انگلینڈ اینڈ ویلز کے 11ہزار اسکولوں کے 25لاکھ بچوں کے لیے کام کرنا تھا۔ وہ اسپورٹس انگلینڈ کے بورڈ میں بھی شامل ہیں جو برطانیہ کے 55کھیلوں کے لیے پالیسی سازی کرتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ پرنس ٹرسٹ کرکٹ گروپ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ وسیم خان نے 7سال تک انگلش کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن اور انٹیگریٹی یونٹ کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور حال ہی میں انہیں انگلش کرکٹ بورڈ نے ایک ورکنگ گروپ کی ذمے داری سونپی تھی جسے 2020ءکے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے تجاویز مرتب کرنی تھیں۔ پی سی بی کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی کتاب کو 2006ءمیں وزڈن نے سال کی بہترین کتاب قرار دیا تھا۔ وہ ابھی لیسٹر شائر کاؤنٹی کے لیے ہی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یکم فروری 2019 ءسے پاکستان میں اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ وسیم خان کا اصل امتحان پاکستان میں عالمی کرکٹ کی اصل بحالی ہے جو مارچ 2009 ءمیں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے بحال نہیں ہوسکی۔ سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد زمبابوے اور سری لنکا کے سوا کسی بھی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ پاکستان سپر لیگ کے 2ایڈیشنز کے فائنل کے انعقاد اور ورلڈ الیون کی پاکستان آمد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی لیکن ابھی تک کوئی بڑی ٹیم پاکستان میں میچ کھیلنے کے لیے نہیں آئی، جبکہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں کسی بھی ٹیسٹ میچ کا انعقاد نہیں ہو سکا۔ پی سی بی نے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے اشتہار دیا تھا جس کے بعد 350سے زائد امیدواروں نے عہدے کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ابتدائی طور پر 9امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا جس کے بعد کم از کم 3 امیدواروں کو فائنل کیا گیا اور پھر پی سی بی چیئرمین احسان مانی، اسد علی خان اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید ضیا کے انٹرویو کے بعد وسیم خان حتمی انتخاب ٹھہرے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں میڈیا اینڈ کمیونی کیشنز کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے سمیع الحسن کو ڈائریکٹر میڈیا مقرر کر دیا۔ پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سمیع الحسن آئی سی سی میں اپنی مدت مکمل ہوتے ہی اگلے سال کے شروع میں پی سی بی میں اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا تھا کہ سمیع الحسن اپنے کام کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں اور کرکٹ کے میڈیا میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ پی سی بی ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ بیرون ممالک میں بورڈ کی ساکھ بہتر ہوسکے۔ سمیع الحسن نے پی سی بی اور آئی سی سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں پی سی بی کا مشکور ہوں کہ مجھے قذافی اسٹیڈیم میں کام کرنے کے لیے دوسرا موقع فراہم کیا اور بورڈ میں موجود باصلاحیت افراد کے ساتھ مل کام کرنے کے لیے پُرعزم ہوں۔ خیال رہے کہ آئی سی سی میں میڈیا اینڈ کمیونی کیشنز کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے 51 سالہ سمیع الحسن 30 سالہ تجربہ رکھتے ہیں، جو 16 برس پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا اور 14برس کمیونی کیشنز اینڈ میڈیا کے ماہر کے طور پر کرکٹ کے اعلیٰ اداروں سےمنسلک رہے ہیں۔ سمیع الحسن نے اپنے کیریئر کا آغاز 1988ء میں ایک مقبول انگریزی اخبار سے بحیثیت اسپورٹس رپورٹر کیا تھا جس کے بعد 2002ء میں پی سی بی میں جنرل منیجر کے طور پر شامل ہوئے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے دو نجی ٹی وی چینلوں میں 2004ء سے 2006ء کے دوران اسپورٹس ڈیسک کی سربراہی کی۔ آئی سی سی دبئی میں انہوں نے 2006ء میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے کرکٹ کے 3مردوں اور 3خواتین کے ورلڈکپ کے علاوہ 6ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، 4 چیمپئنز ٹرافی مقابلے اور دیگر ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹس میں منصوبہ بندی اور میڈیا حکمت عملی بنائی اور آئی سی سی کے منتظمین میں شامل رہے۔