December 31, 2018
سائنس کی دنیا اور 2018

سائنس کی دنیا اور 2018

سائنس کی دنیا کیلئے 2018ء جدتیں اور دریافتیں لے کر آیا۔ ماہرین سخت محنت کے ساتھ دنیا کو سائنس کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش میں سرگرم رہے۔ تاہم 2018ء میں سائنس کا سب سے بڑا نقصان عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی موت کی صورت میں ہوا۔ 14 مارچ 2018ء کو ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ آئن اسٹائن کے بعد اسٹیفن ہاکنگ کو گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات (کونیات) کے میدان میں ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’آبریف ہسٹری آف ٹائم‘‘ پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اہم بات یہ کہ دنیا سے جاتے ہوئے بھی اسٹیفن ہاکنگ اپنی آخری تحقیق کی صورت میں الوداعی تحفہ بھی دنیا کو دے گئے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی موت سے 10 روز قبل ایک خط تحریر کر کے ’’جرنل آف ہائی انرجی فزکس‘‘ کو ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے دیگر کائناتوں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔ پروفیسر ہاکنگ بستر مرگ تک اس بات کا جواب تلاش کرنے کے لیے سرگرداں تھے کہ دنیا کے علاوہ اور ایسی ہی کتنی رنگین کائناتیں موجود ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ نے اپنے آخری ریسرچ پیپر میں اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے نہ صرف کثیر کائناتوں کے تصور کی بھرپور حمایت کی تھی بلکہ یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ اگر ہم کائناتی خردموجی پس منظر (کوسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ) کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے قابل ہوجائیں تو ہمیں دوسری کائناتوں کے موجود ہونے کے ثبوت بھی مل جائیں گے۔ اسٹیفن ہاکنگ کی آخری تحریر ان کی 20 سالہ محنت کا ثمر ہے جس میں سائنسی نظریے ’’اسٹرنگ تھیوری‘‘ میں استعمال ہونے والی پیچیدہ ریاضی کی تکنیک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ آنے والے وقتوں میں سائنسی ماہرین یا طالب علم اس سے استفادہ کرسکیں۔
مئی 2018ء میں ایک آڈیو کلپ ٹوئیٹر پر وائرل ہوا جس کے ساتھ یہ سوال کیا گیا کہ اس آڈیو کلپ میں کون سا لفظ بولا جا رہا ہے۔ ٹوئیٹر پر پانچ لاکھ سے زائد افراد نے اس آڈیو کلپ پر ’’یانی‘‘(Yanny) اور ’’لوریل‘‘((Laurel کے الفاظ بتائے۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد معلوم ہوا کہ آڈیو کلپ میں ’’لوریل‘‘ کا لفظ درست تھا جسے ساؤنڈ مکسنگ سے تبدیل کیا گیا تھا۔ زیادہ تر لوگوں نے اس لفظ کو کم فریکوئنسی پر سنا تھا جس پر انہیں ’’یانی‘‘ کی آواز سمجھ آئی اور ان کا جواب غلط ہوگیا۔ اس لفظ کو سننے کے حوالے سے جولائی 2018ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ہر انسان کی سننے کی صلاحیت ’’ہائی‘‘(High) یعنی زیادہ یا پھر ’’لو‘‘(Low) یعنی کم فریکوئنسی کی جانب راغب ہوتی ہے۔ سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسان کا دماغ بھی’’ہائی‘‘ یا ’’لو‘‘ فریکوئنسی کی جانب مرغوب ہونے کی صلاحیت کے مطابق ہی مبہم الفاظ کی آواز کو شناخت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ماہرین اب تک کہتے آئے تھے کہ موجودہ انسان کا دماغ ماضی میں دنیا میں آئے انسانوں سے بہت بڑا اور انتہائی پیچیدہ ہے۔ سائنس دان سمجھتے تھے کہ ارتقائی تبدیلیوں میں انسان کا دماغ پہلے بڑا ہوا کرتا تھا اور بعد میں انسانی دماغ میں پیچیدہ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ مئی 2018ء میں سائنسدانوں نے ’’ہومو نالیدی‘‘ انسان کے دماغ پر جامع تحقیق شائع کی جس نے سائنس دانوں کا نظریہ تبدیل کر دیا۔ 2015ء میں سائنسدانوں نے جنوبی افریقہ کے غاروں سے انسانوں کی باقیات دریافت کی تھیں اور انہیں انسانوں کی ایک نئی قسم ’’ہومو نالیدی‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ انسان ڈھائی ملین برس قبل زمین پر آباد تھے۔ ’’نالیدی‘‘ جنوبی افریقہ کی ایک مقامی زبان سیسوتھو میں ’’ستارے‘‘ کو کہتے ہیں اور چونکہ یہ باقیات ’’رائزنگ اسٹار‘‘ (ابھرتے ستارے) نامی غار سے برآمد ہوئی ہیں، اس لیے انسانوں کی اس نئی قسم کو بھی یہی نام دے دیا گیا ہے۔ 2018ء میں ’’ہومو نالیدی‘‘ کے دماغ کو تخیلاتی انداز میں جائزہ لیتے ہوئے سائنس دانوں نے انکشاف کیا کہ انسانی دماغ میں پہلے پیچیدہ تبدیلیاں رونما ہوئیں اور بعد میں دماغ کا حجم بڑا ہوا اور آج کے انسان کے دماغ کی ساخت میں ڈھلا۔
2018ء میں سمندری مخلوقات پر تحقیق کرنے والے ماہر حیاتیات بھی قدم آگے بڑھانے میں کامیاب رہے۔ سمندر میں آج بھی کئی ارب ایسی مخلوقات ہیں کہ جن کے بارے میں جاننے کیلئے ماہرین کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کوشش میں 2018ء میں سائنس دانوں نے ایک ایسا خصوصی آلہ تیار کیا ہے جو جیلی فش جیسے نرم غیر فقری (invertebrate) مخلوقات کو بنا نقصان پہنچائے پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس آلے کو ’’راڈ‘‘(Rotary Actuated Dodecahedron) کا نام دیا گیا ہے۔ سائنس دان خود اس پھول نما ڈیوائس کے ذریعے سمندر میں جیلی فش نما مخلوقات کو پکڑ رہے ہیں اور نئی دریافتیں کر رہے ہیں۔
2018ء میں اچانک خبر سامنے آئی کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود روسی خلائی جہاز ’’سوئز‘‘ (Soyuz MS-09)میں سوراخ کی وجہ سے دباؤ کم ہوگیا ہے۔ اس معاملے کی حتمی تحقیقات اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ پہلے کہا جارہا تھا کہ کوئی تکنیکی خرابی کے باعث خلائی جہاز میں سوراخ ہوا ہوگا۔ تاہم اب جو تصاویر جاری کی گئی ہیں ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ’’سوئز‘‘ اسپیس کرافٹ کا یہ سوراخ ڈرل مشین سے کیا گیا لگتا ہے۔ روسی خلائی ایجنسی نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ شاید کسی خلانورد نے جان بوجھ کر خلائی جہاز میں سوراخ کیا ہے۔ روسی خلائی مشن کے سوراخ کا معمہ شاید 2019ء میں حل ہوجائے۔
تاہم 2018ء میں ایک بہت بڑا سائنسی معمہ حل ہوگیا ہے جو کہ ایک خلائی مخلوق کے بارے میں تھا۔ 2003ء میں اٹکاما صحرا سے چھ انچ کا ایک ڈھانچہ دریافت ہوا تھا جسے خلائی مخلوق سمجھا جاتا رہا تھا۔ ہولی وڈ فلموں میں دکھائی جانے والی خلائی مخلوق سے بھی یہ ڈھانچہ ملتا تھا۔ تاہم مارچ 2018ء میں اس ڈھانچے پر کی گئی تحقیق شائع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ یہ ڈھانچہ کسی خلائی مخلوق کا نہیں بلکہ انسان ہی کا تھا جو کہ مختلف طبی وجوہات کی بنا پر نامکمل طور پر وجود میں آیا۔
ہولی وڈ فلم ’’جراسک پارک‘‘ سیریز کی تیسری فلم میں اسپائنا سورس(Spinosaurus) خاندان کے ڈائنا سور کو تباہی مچاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق اسپائنا سورس 10 کروڑ برس قبل زمین پر موجود تھے۔ مراکش میں 1999ء میں اسپائنا سورس کا ایک ڈھانچہ دریافت ہوا تھا جس پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق مئی 2018ء میں شائع کی۔ اس تحقیق میں سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپائنا سورس پانی میں تیرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اسپائنا سورس سست تیراک تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپائنا سورس 50فٹ تک لمبا ہوا کرتا تھا لیکن اس کی ٹانگیں چھوٹی تھیں اس لیے اسے تیرنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ 2018ء میں کئی ایجادات نے انسانی عقل کو دنگ کر دیا جس میں سے ایک روبوٹ نیوز کاسٹر بھی تھا۔ چین چونکہ ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے تو انہوں نے اس کا ایک اور حل نکالا ہے۔ چین نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے ایک ایسا اینکر تیار کیا ہے جو مستقبل کے سارے صحافتی چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے۔ یہ روبوٹ خود اسکرین پر نظر آنے والی خبریں مختلف زبانوں میں پڑھنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس(اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت میں چینی حکومت نے دنیا کو 2018ء میں اس وقت مزید حیران کردیا تھا جب اس نے اپنے ’’اے آئی‘‘ نظام کے حامل سیکیورٹی سسٹم سے چینی شہریوں کے چہرے بھی شناخت کرنا شروع کر دیئے۔ اس ٹیکنالوجی پر دنیا کی نظر تب جمی جب چینی پولیس نے چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک مطلوبہ ملزم کو گرفتار کر لیا جو 60 ہزار افراد کے ہمراہ ایک کنسرٹ میں شامل تھا۔2018ء میں ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی دنیا کی وہ پہلی پبلک کمپنی بن گئی جس کی مالیت دس کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ 2018ء میں دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی فہرست میں چین تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ امریکا پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

پاکستان میں میتھین  گیس  کےذخائر
دنیا بھر میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان کو بھی گیس کے بحران کا سامنا ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں پاکستانیوں کو اس وقت اٖمید کی کرن دکھائی دی جب وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ایک مقام پر گیس تلاش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نےبتایا کہ کمپنی کا دعوی ہے کہ سمندر میں اتنی گیس موجود ہے کہ آئندہ پچاس برس تک پاکستان کو توانائی کی کمی نہیں ہوگی۔ اب سے تقریباً پانچ سال پہلے ستمبر 2013ء میں بلوچستان میں 7.8شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے ضلع دالبندین میں بڑی تباہی مچی تھی۔ گوادر کے قریب گائوں، دیہات کے لوگ جہاں اس زلزلے سے خوفزدہ تھے وہاں انہیں راتوں رات سمندر کے بیچوں بیچ اُبھرنے والے ایک جزیرے پر بھی بہت زیادہ حیرت تھی جس کا نام انہوں نے ’’زلزلہ کوہ‘‘ رکھ دیا تھا۔ جو مہم جو افراد اپنی کشتیوں میں اس نئے جزیرے تک گئے، انہوں نے بتایا کہ یہ جزیرہ 40فٹ اُونچا اور 300 فٹ چوڑا، چٹان، کیچڑ، سمندری جھاڑیوں اور مُردہ مچھلیوں کا ایک ڈھیر ہے۔ اس جزیرے کی سطح جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی ہے اور شگافوں سے کوئی گیس خارج ہو رہی ہے جس کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی‘‘ کے سائنسدانوں کے مطابق ’’زلزلہ کوہ‘‘ گوادر کی ساحلی پٹی کے ساتھ اُبھرنے والا پہلا جزیرہ نہیں ہے اور یہ جزیرہ بھی دیگر حادثاتی جزائر کی طرح زیادہ عرصے تک سمندر کی سطح سے اُوپر نہیں رہے گا۔ اس ادارے کے ایک ماہر ارضیات محمد دانش نے برطانوی روزنامہ ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کو بتایا کہ اس جزیرے کی تخلیق سمندر کی تہہ میں موجود منجمد میتھین گیس کے بہت زیادہ جمع ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سمندر کی تہہ کی گہرائیوں سے یہ گیس اس وقت خارج ہوئی جب زمین کی قشری پلیٹیں (Tectonic Plates) اپنی جگہ سے سرکیں اور اس کے نتیجے میں زلزلہ آیا جس سے گیس کو خارج ہونے کا موقع ملا اور اس کے ساتھ مٹی، کیچڑ اور چٹانیں بھی سطح سمندر پر اُبھر آئیں۔ سمندر کی تہہ میں جہاں کمزور حصہ ہوتا ہے وہاں زلزلے کے نتیجے میں ہائیڈریٹس گیس کی صورت میںخارج ہوتے ہیں اور سمندر کی تہہ کے نیچے جو کیچڑ ہوتی ہے، وہ پانی کے اُوپر آ کر گنبد جیسے ڈھانچے کی صورت اختیار کرلیتی ہے، تاہم یہ کوئی مستقل مظہر نہیں ہے ۔ اس سے پہلے دو بار پاکستان کے مختلف ساحلی علاقوں میں ایسے واقعات دیکھے جاچکے ہیں۔ آئندہ جب مون سون کا موسم آئے گا، یہ جزیرہ گھل کر ختم ہو جائے گا۔ حالیہ جزیرے کے اُبھرنے کے چند دنوں کے بعد امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ’’ناسا‘‘ کے ’’ارتھ آبزرونگ۔1‘‘ اور ’’لینڈ سیٹ۔8‘‘ سیٹلائٹس نے ان کی تصاویر اُتاری تھیں۔ پاک بحریہ کے ایک ہائیڈروگرافر محمد ارشد نے بتایا کہ 1999ء اور 2010ء میں آنے والے زلزلوں کے بعد گوادر سے 282کلومیٹر دُور مشرق میں ساحل مکران کے ساتھ اس قسم کے جزائر اُبھرے تھے۔ گوادر کے بزرگ رہائشیوں نے بتایا کہ 1968ء کے زلزلے کے بعد ایک نیا جزیرہ سمندر کے سینے پر اُبھرا تھا جو ایک سال تک برقرار رہا، پھر غائب ہو گیا۔