December 31, 2018
مریم اورنگ زیب کی پریشانی … !

مریم اورنگ زیب کی پریشانی … !

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں حکومت کا دفاع کرنے والے مسلم لیگیوں کی کمی نہیں تھی، دانیال عزیز سے لے کر طلال چوہدری، سینیٹر کرمانی اور مصدق ملک سمیت نہ جانے کون کون غیر اہم ایشوز پر بھی حاضری لگانے اور ٹی وی کیمروں کے سامنے خودنمائی کے شوق میں بے قرار اور بے چین رہا کرتے تھے لیکن آج وہ تمام لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اور مصائب و ابتلا کے اس دور میں جو چند لوگ حکومت کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، اُن میں سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب سرفہرست ہیں، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مریم اورنگ زیب کی بقاء بھی اسی میں ہے کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے سرگرم اور فعال رہیں، وگرنہ وہ بھی حکومتی کارروائیوں کی زد میں آجائیں گی لیکن امر واقعہ ہے کہ اُن کی والدہ طاہرہ اورنگ زیب اور وہ خود نواز شریف خاندان کی کمیٹڈ ساتھی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب اُن کے خلاف بھی تحقیقات کی باتیں منظرعام پر آرہی ہیں۔ اُن پر الزامات ہیں کہ انہوں نے بحیثیت وزیراطلاعات ونشریات سرکاری ٹی وی میں میرٹ کو نظرانداز کرکے غیرمستحق لوگوں کی بھرتیاں کیں اور ذاتی تعلق کی بنیاد پر لوگوں کو مالی فائدے پہنچائے۔ وزیراعظم ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کا جو غیراعلانیہ میڈیا سیل قائم کیا گیا تھا اور مریم نواز جس کی غیراعلانیہ سربراہ تھیں، اس کے لیے معاونت بھی پی ٹی وی سے فراہم کی جاتی تھی اور پی ٹی وی کے بعض ملازمین تنخواہیں تو پی ٹی وی سے لیتے تھے لیکن کام مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل میں کرتے تھے اور وہاں سے بھی مراعات حاصل کرتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی اُن پر کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحقیقات کا فیصلہ کسی ایسے فرد کی درخواست پر کیا گیا ہے، جس کا نام بھی سامنے نہیں آیا۔ تاہم ابھی تحقیقات کا باضابطہ اعلان یا آغاز نہیں ہوا ہے، اس لیے یہ قیاس بھی کیا جارہا ہے کہ یہ صورتحال محض مریم اورنگ زیب کو دباؤ میں لانے کے لیے پیدا کی گئی ہے تاکہ وہ مسلم لیگ (ن) کی مؤثر ترجمانی اور غیرمعمولی طور پر فعال رہنے سے گریز کریں، تاہم ایسا نظر تو نہیں آتا کہ مریم اورنگ زیب اس دباؤ میں آجائیں گی، تاہم اس صورتحال سے وہ قدرے پریشان ضرور ہیں۔
تاہم یہ تو بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی طلال چوہدری اور دانیال عزیز مخالفین کو اپنے جارحانہ انداز ِبیاں سے ٹف ٹائم دیا کرتے تھے اور اسی جذبے اور جوش میں وہ سپریم کورٹ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے تھے جو سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا کرتے تھے، چنانچہ سپریم کورٹ نے دونوں ’’چوہدریوں‘‘ کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر سزا سنا دی۔ طلال چوہدری کو ایک لاکھ جرمانہ اور پانچ سال نااہلی کی سزا سنائی گئی، اسی طرح دانیال عزیز بھی سزا سنائے جانے کے بعد خاموش ہوگئے۔