December 31, 2018
شریف برادران کے مشورے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداری میں کیوں؟

شریف برادران کے مشورے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداری میں کیوں؟

ماضی کے قائد ایوان (وزیراعظم) میاں نواز شریف قومی اسمبلی کے ختم ہونے والے اجلاس میں اپنے بھائی شہباز شریف سے ملنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس آتے رہے۔ شہباز شریف چونکہ نیب کی تحویل میں ہیں، اس لیے اُن سے ملاقات کے لیے ایک آئیڈیل صورتحال قومی اسمبلی کا اجلاس ہی تھا، جہاں یہ ملاقات ہوسکتی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب اُن کی قومی اسمبلی میں آمد سے پہلے ہی پارلیمنٹ ہاؤس کو سیکورٹی کے حصار میں لے لیا جاتا تھا، ایوان میں داخلے کے لیے اُن کے متعین راستوں، راہداریوں اور ایوان میں اُن کے چیمبر کی طرف جانے والے راستوں پر بھی سادہ کپڑوں میں اہلکار متعین ہوتے تھے لیکن یہ گردش ایام کا شاخسانہ ہے کہ وہ آج اُسی ایوان کے چیمبر میں تو دور کی بات، اُن راہداریوں کی طرف جانے کا بھی استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ وہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔ اس لیے اسی پارلیمنٹ ہاؤس میں جہاں اُن کی راہ گزر پر ’’ہٹو بچو‘‘ کی آوازوں سے خلق خدا سہمی سہمی سی رہتی تھی، وہاں اُن کو جانے کی اجازت بھی نہیں ہے اور یہ واقعہ بھی اُن کے لیے افسردہ کردینے والا ہوگا کہ جب انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ سے میٹنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اُنہیں بتایا گیا کہ وہ کمیٹی روم میں کوئی میٹنگ کرنے کا استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ یہ استحقاق صرف پارلیمنٹری کمیٹی کے چیئرمین کے لیے ہوتا ہے اور وہ رکن اسمبلی بھی نہیں ہیں۔ چونکہ انہوں نے پارلیمنٹ آمد کا مقصد اپنے بھائی (شہباز شریف) سے ملاقات بتایا تھا، جو اپوزیشن لیڈر ہیں، اس لیے اُن سے ملاقات صرف اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہی ہوسکتی تھی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی، ظاہر ہے کہ دونوں بھائیوں نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم صلاح مشورے کرنے تھے اور اُنہیں اس بات کا احتمال تھا کہ اُن کی گفتگو کہیں ریکارڈ نہ ہوجائے، اس لیے انہوں نے یہ ’’حساس نوعیت‘‘ کے مشورے پارلیمنٹ ہاؤس کی غلام گردشوں میں چلتے ہوئے راز و نیاز کے سے انداز میں کیے۔