December 31, 2018
وزیراعظم عمران خان کیلئے سابق صدر پرویز مشرف کا مشورہ

وزیراعظم عمران خان کیلئے سابق صدر پرویز مشرف کا مشورہ

سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف جو ان دنوں واقعتاً بیمار ہیں اور بیرون ملک زندگی کے لگے بندھے شب و روز گزار رہے ہیں، تاہم کبھی کبھی وہ اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لیے کسی ٹی وی چینل پر بھی نمودار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں اُن کی جماعت کا اب نام لیوا بھی کوئی نہیں، اِکا دُکا عہدیداران بھی اُن کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں، جبکہ عوامی سطح پر بچی کھچی ہمدردیاں بھی اُن کے لیے ختم ہوچکی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ چونکہ اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں، اس لیے اُنہیں دوسری باتوں کے علاوہ اپنے لباس پر بھی خصوصی طور پر توجہ دینی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جب چین کے دورے پر گئے تو وہاں اُن کے کپڑوں پر چائے گرگئی لیکن انہوں نے اُنہی کپڑوں میں اپنی مصروفیات جاری رکھیں، جو کسی طرح بھی ایک ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہ تھا۔ شاید وہ اپنے ساتھ اضافی کپڑے نہیں لائے تھے اور ایک ہی جوڑے میں غیرملکی دورے پر آگئے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کے بعض ناقدین یہ کہیں کہ اُنہیں ملک کے ایک منتخب وزیراعظم پر نکتہ چینی کرنے کا کوئی حق نہیں لیکن پرویز مشرف صاحب کا یہ مشورہ غیرضروری بھی نہیں اور نہ ہی اُسے تنقید کہا جاسکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عمران خان حکومت میں آنے کے بعد اپنے ذاتی اُمور پر بالخصوص لباس پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے اور اس حوالے سے سادگی اور بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اُن کے منصب کے تقاضے مختلف ہیں۔ یہ درست ہے کہ مغرب کی زندگی کو خیرباد کہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے وہاں کی بودوپاش کو بھی الوداع کہہ دیا ہے، جو قابل ستائش ہے لیکن ملک میں اور ملک سے باہر بہرحال اپنے منصب کے تقاضے پورے کرنا بھی اُن کی ذمہ داری ہے۔