December 31, 2018
خواجہ سعد رفیق کے ساتھ ’’نیب‘‘ والوں کا ناروا سلوک!

خواجہ سعد رفیق کے ساتھ ’’نیب‘‘ والوں کا ناروا سلوک!

سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق جو ان دنوں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے اور پیراگون سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتاری کے بعد نیب کی تحویل میں ہیں، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے حوالے سے گزشتہ دنوں خبروں میں رہے اور بالخصوص اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے اس مقصد کے لیے ایوان میں فضا ہموار کی اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے دباؤ کے بعد آخرکار اسپیکر کو خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پڑے اور انہیں لاہور سے نیب کی تحویل میں اسلام آباد لایا گیا، جہاں انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ جس کا احوال خبروں میں آچکا ہے، تاہم خواجہ سعد رفیق کے ساتھ ہونے والی ایک زیادتی بلکہ ناانصافی کی کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوئی۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر انہیں ایک روز قبل ہی لاہور سے اسلام آباد لایا گیا تھا، جہاں اُن کی شب بسری کا اہتمام پارلیمنٹ لاجز کے ایک سویٹ میں کیا گیا۔ اسلام آباد میں سکونت پذیر اُن کی دوسری بیگم حرا شفیق جو بدستور ٹی وی پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ رات گئے وہ اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں پہنچیں تو سیکورٹی پر متعین عملے نے اُنہیں خواجہ سعد رفیق سے ملنے کی اجازت نہیں دی جس پر حرا شفیق برہم ہوگئیں۔ انہوں نے سیکورٹی اسٹاف کو بتایا کہ وہ خواجہ سعد رفیق کی قانونی اہلیہ ہیں لیکن سیکورٹی اسٹاف جو ایسے معاملات میں جذبات و احساسات سے عاری ہوتا ہے، اس نے کوئی بات سننے سے انکار کردیا اور حرا شفیق کو ناکام و نامُراد واپس جانا پڑا۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ زیادتی یا ناانصافی خواجہ سعد رفیق کے ساتھ تھی یا اُن کی اہلیہ حرا شفیق کے ساتھ، بہرحال قابل مذمت ہے کیونکہ خواجہ سعد رفیق اور اُن کی اہلیہ اس بات کا شرعی، قانونی اور اخلاقی حق رکھتے ہیں کہ وہ ایسی صورتحال میں ملاقات کرسکتے ہیں اور اُنہیں اس حق سے محروم رکھنے کی کسی صورت بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔