December 31, 2018
منسٹرز انکلیو میں بھی انسدادِ تجاوزات آپریشن

منسٹرز انکلیو میں بھی انسدادِ تجاوزات آپریشن

انسداد تجاوزات کی مہم میں جس طرح لوگوں کے کچے گھروں اور سالہا سال سے قائم عارضی گھروندوں میں رہنے والے لوگوں کو بےگھر کیا گیا، فٹ پاتھ اور چند فٹ کی جگہ پر کھڑے ہوکر اپنے بچوں کیلئے روزی کمانے والوں کو اس رزقِ حلال سے بھی محروم کردیا گیا، اُن کی مجبوریوں اور دُکھوں کا ازالہ تو بااختیار لوگ ہی کرسکتے ہیں، تاہم یہ حقیقت جان کر شاید اُنہیں کچھ صبر آجائے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزراء اور بعض اہم شخصیات کی رہائشی کالونی جو منسٹرز انکلیو کے نام سے جانی جاتی ہے، گزشتہ دنوں وہاں بھی ایسا ہی آپریشن ہوا اور بعض وزراء نے اپنے سرکاری بنگلوز کے سامنے خاردار تاروں کی جو اضافی حفاظتی باڑ لگائی تھی، اُسے تجاوزات کے زمرے میں شمار کر کے آپریشن کلین اَپ میں اس کا بھی صفایا کردیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ یہ اضافی حفاظتی باڑ اپوزیشن لیڈر کے لیے مختص رہائش کے باہر بھی لگائی گئی تھی، جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دنوں میں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ جو اب اپوزیشن لیڈر ہیں، میاں شہباز شریف سکونت پذیر ہوئے ہیں۔ اُن کے علاوہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی رہائش کے باہر سے بھی اضافی باڑ ہٹا دی گئی ہے اور یقیناً بعض حلقوں کے لیے تو یہ بات بھی ’’سکون قلب‘‘ سے کم نہیں ہوگی کہ مولانا فضل الرحمٰن جو منسٹرز انکلیوز سے دیس نکالا ملنے کے بعد قریب ہی واقع ایمبیسی روڈ پر اپنے ذاتی بنگلے میں منتقل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے گھر کے باہر ایک ’’حفاظتی چوکی‘‘ قائم کرلی تھی۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے اُسے بھی تہہ و بالا کردیا ہے، جسے اُن کے صاحبزادے جو رکن اسمبلی بن چکے ہیں اور متحدہ مجلس عمل کے دو ارکان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک بڑا مسئلہ بنا کر ایوان میں پیش کیا۔