December 31, 2018
انٹرنیٹ احساسِ تنہائی کو بڑھاتا ہے؟

انٹرنیٹ احساسِ تنہائی کو بڑھاتا ہے؟

ایک خصوصی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سات سے دس برس کی عمر کی 15فیصد لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر جانے اور دوسروں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنے سے تنہائی کا احساس بڑھتا ہے۔ 11 سے 16 برس کی لڑکیوں میں یہ تعداد 33فیصد تک ہے۔ گرل گائیڈنگ نامی ایک تنظیم کے سروے کے مطابق لڑکیوں میں اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ گرل گائیڈنگ سے تعلق رکھنے والی 18سالہ کیٹ رابرٹس کہتی ہیں۔ ’’یہ سروے دکھاتا ہے کہ تنہائی نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جو لڑکیاں متواتر اپنے دوستوں سے ملتی بھی ہیں، انہیں بھی احساسِ تنہائی ہوسکتا ہے، اگر ان کے دوست بغیر بتائے جائیں اور وہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لڑکیوں کی انٹرنیٹ پر جانے کے بارے میں بالکل مختلف رائے ہے۔ سات سے دس برس کی 20فیصد لڑکیوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کا استعمال، یوٹیوب اور انسٹاگرام، ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جبکہ گیارہ سے سولہ برس کی لڑکیوں میں یہ شرح ایک تہائی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ احساسِ تنہائی خبروں کی شہ سرخیوں میں ہے۔ حالیہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے نوجوانوں پر اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ برطانیہ میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نوجوانوں (10 سے 24 سال عمر کے درمیان) میں دس فیصد لوگ احساسِ تنہائی کا شکار ہیں۔ ایک تہائی کا کہنا ہے کہ وہ کبھی کبھی احساسِ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ ان اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جذبات کو چھپاتے بھی ہیں۔ گرل گائیڈنگ کے سروے کے نتائج کے مطابق صرف انٹرنیٹ ہی ان مسائل کی جڑ نہیں۔ احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، جیسا کہ بات کرنے کے لیے کسی کا نہ ہونا، ایسا محسوس ہونا کہ کوئی آپ کو سمجھتا نہیں، دوستیاں کرنے میں مشکل ہونا، نئی چیزیں آزمانے کے مواقع نہ ہونا، گھر کے باہر محفوظ محسوس نہ کرنا، جس ملک میں آپ رہتے ہیں وہاں ذریعۂ آمدورفت نہ ہونا یا کم ہونا وغیرہ۔