December 31, 2018
ہماری بیوقوفیاں ہیکرز کیلئے موقع

ہماری بیوقوفیاں ہیکرز کیلئے موقع

سال 2018ء میں پوری دنیا ہیکرز سے پریشان دکھائی دی۔ ہیکرز نے نت نئے جدید طریقے اپنائے اور ان سے بچنے کے لیے انٹرنیٹ سیکیورٹی کمپنیز اپنے صارفین کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں کرتی رہیں تاہم زیادہ تر انٹرنیٹ صارفین اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی مجرموں اور ہیکرز کے ہتھے چڑھتے ہیں۔ ہر سال ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ پاس ورڈ منتخب کرنے کے معاملے میں ہم کتنے نادان ہیں۔ کچھ لوگ اپنا پاس ورڈ 123456 رکھتے ہیں تو کچھ اپنا پاس ورڈ ہی ’password‘ رکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا کام آسان کرلیا ہے۔ دیگر بہت عام پاس ورڈز میں ’let me in‘، ’I love you‘ ’welcome‘ اور ’monkey‘ یعنی بندر وغیرہ شامل ہیں۔ آسان پاس ورڈز کو ہیک کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ پاس ورڈ میں بڑے حروف اور چھوٹے حروف، علامتوں (#$%) اور ہندسوں کا استعمال کریں۔ آسانی سے اندازہ لگائے جانے والے الفاظ استعمال نہ کریں جیسے کہ بچوں کے نام، بیگم یا شوہر کا نام، پسند کی ٹیم وغیرہ۔ پاس ورڈ کو دیگر افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ مختلف سائٹس اور سروسز کے لیے مختلف پاس ورڈ رکھیں۔ دو طریقے سے تصدیق کا طریقہ اختیار کریں۔ پاس ورڈ مینیجر استعمال کریں جیسے ڈیش لین، سٹیکی پاس ورڈ یا روبو فورم۔ بڑی کمپنیاں جیسے فیس بک، کیتھے پیسیفک، برٹش ایئر ویز، ریڈٹ، وونگا وغیرہ کو ہر ہفتے ہیکرز کے حملوں کا سامنا ہوتا ہے۔ دو طریقے سے تصدیق کا طریقہ اختیار کرنا اب کافی عام ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر انگلیوں کے نشان، آواز یا چہرے کی شناخت وغیرہ۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی برومیئم کے شریک بانی ایئن پریٹ کا کہنا ہے کہ ’’جہاں تک مختلف لنکس پر جانے کا تعلق ہے، ہم بہت احمق ہیں۔ ہماری بیوقوفیاں ہی ہیکرز کے لیے موقع بنتی ہیں۔ بہت سارے لنکس میں وائرس ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارپوریٹ سیکیورٹی نظام میں گھسا جا سکتا ہے۔ ایئن پریٹ کا کہنا ہے کہ 70فیصد سائبر حملے اس وجہ سے ہوئے کہ ہم نے اپنے کمپیوٹر پر ایسے لنک پر کلک کر دیا جس پر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تقریباً ہر پروجیکٹ کے لیے ایک کمپیوٹر ہوتا ہے۔ جیسے ہی یہ پروجیکٹ ختم ہوتا ہے، وہ لیپ ٹاپ لے لیا جاتا ہے اور نیا دے دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی غلط لنک پر کلک بھی کر دیا گیا ہے تو وہ ایک ہی کمپیوٹر تک محدود رہتا ہے اور نیٹ ورک کو متاثر نہیں کرتا۔‘‘