December 31, 2018
پاکستانی بچی کی جان بچانے کیلئے نایاب قسم کے خون کے عطیے کی تلاش

پاکستانی بچی کی جان بچانے کیلئے نایاب قسم کے خون کے عطیے کی تلاش

دو سالہ زینب مغل کے جسم میں دنیا کا نایاب ترین قسم کا خون دوڑ رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بچی کینسر کا مقابلہ کر رہی ہے اور اسے زندہ رہنے کے لئے سات سے دس خون کے عطیہ دہندگان کی ضرورت ہے جنہیں ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عطیہ دینے والے بھی اسی کی طرح نایاب ہیں۔ امریکی شہری زینب کے خاندان کا تعلق پاکستان سے ہے اور صرف پاکستان، ہندوستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جن کے خون کا گروپ اسی قسم کا ہو جو زینب کا ہے، وہ اسے خون کا عطیہ دے سکتے ہیں۔ ان ملکوں کی آبادیوں میں سے4فیصد سے بھی کم افراد اس قسم کے خون کے حامل ہو سکتے ہیں۔ جنوبی فلوریڈا کی ایک غیرمنافع بخش تنظیم ’’ون بلڈ‘‘ (One Blood)جو اس بچی کے لئے خون اور اس کے عطیہ دہندگان کو پوری دنیا میں تلاش کر رہی ہے، کی لیب منیجر فریڈا برائٹ کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہم کسی اور نسلی گروپ میں اس بچی سے مطابقت رکھنے والا خون تلاش کریں تو ہمیں اس مقصد میں کامیابی کا صفر فیصد امکان ہے، اس لئے ہم امریکا میں رہنے والے ان نسلوں کے لوگوں میں اس نایاب خون کا عطیہ دہندہ ڈھونڈ رہے ہیں جن کا تعلق مذکورہ ممالک سے ہے۔‘‘ واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے خون کے گروپ کا تعین Antigensکرتے ہیں۔ یہ وہ بیرونی مادے ہوتے ہیں جو جسم میں مدافعت کے لئے ضد جسیمے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ زینب کے خون میں ایک ’’اینٹی جین‘‘ جسے ’’انڈین بی‘‘ (Indian B)کہتے ہیں، غائب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے کوئی ایسا خون دیا گیا جس میں یہ ’’اینٹی جین‘‘ موجود ہے تو اس کا جسم اس پر حملہ آور ہو گا، اسی لئے زینب کے لئے خون کے عطیہ دہندگان کے خون میں بھی وہ مخصوص اینٹی جن غائب ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں ان کے خون کا گروپO یاAہونا چاہئے۔ ’’امریکی ریر ڈونر پروگرام‘‘ کی سینئر ڈائریکٹر سینڈرا نینسی کہتی ہیں ’’اس قسم کے عطیہ دہندگان بے انتہا نایاب ہیں۔ ہمارا پروگرام کم از کم59نایاب اقسام کے خون کی کھوج لگاتا ہے اور ہمارے پاس ایک لاکھ20ہزار رجسٹرڈ عطیہ دہندگان ہیں لیکن امریکا میں پروگرام کے ڈیٹا بیس میں گزشتہ ستمبر سے کوئی ایک بھی ایسا عطیہ دہندہ نہیں مل سکا ہے جس کا خون زینب کے خون سے مل سکے‘‘۔ ’’ون بلڈ‘‘ کے مطابق انہیں اب تک دو میچنگ ڈونرز امریکا میں اور ایک برطانیہ میں مل چکا ہے۔ اس خبر پر زینب کے والد راحیل مغل نے کہا ’’ہم خوش قسمت ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ انہیں تین عطیہ دہندگان مل گئے لیکن ہمیں ابھی مزید خون کی ضرورت ہے۔‘‘ زینب جس کینسر میں مبتلا ہے اسے Neuroblastomaکہتے ہیں اور یہ اعصابی خلیات کا سرطان ہے جس کے علاج کے لئے کیمو تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ فریڈا برائٹ کا کہنا ہے کہ سرطانی خلیات کے خاتمے کے لئے کینسر کے علاج کے دوران اسے زندہ رکھنے کے لئے مسلسل خون کے عطیات کی ضرورت ہوگی۔ اس خون سے اسے شفایابی تو نہیں ملے گی لیکن کیموتھراپی کے دوران اسے زندہ رکھنے کے لئے خون کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نایاب قسم کا خون ہزار افراد میں سے ایک سے بھی کم کے جسم میں ہوتا ہے اور انتہائی نایاب نوعیت کا خون اس سے بھی کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ سینڈرا نینسی کہتی ہیں کہ نایاب قسم کا خون وہ خون ہوتا ہے جسے آپ اس وقت نہ پا سکیں جب اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے، خواہ وہ خون کسی بھی قسم کا ہو۔ اگر کوئی شخص نایاب قسم کے خون کا مالک ہے اور اس سے عطیے کی اپیل کی جائے تو مجھے امید ہے کہ اگر وہ عطیہ دینے کا اہل ہے تو ضرور عطیہ کرے گا۔ ’’ون بلڈ‘‘ کے ویڈیو میں راحیل مغل نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر آپ کا تعلق برصغیر یا مشرق وسطیٰ سے ہے تو آپ خون کا عطیہ دے کر میری بچی کی جان بچا سکتے ہیں۔ اس کی زندگی کا انحصار آپ کے عطیے پر ہے۔‘‘
زینب کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی میں مرض کی تشخیص گزشتہ ستمبر میں ہوئی تھی۔ یہ خبرسن کر ہم پر سکتہ طاری ہوگیا تھا سب سے پہلے میں نے اور میری اہلیہ نے اپنا خون دے کر زینب کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہمارا خون اس سے میچ نہیں کرتا۔ پھر خاندان کے بہت سے افراد سامنے آئے اور انہوں نے خون عطیہ کیا لیکن کسی کا خون زینب کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔ میری بچی کی زندگی بچانے کیلئے جو لوگ بھی کوششیں کررہے ہیں، میں ان کا الفاظ میں شکریہ ادا نہیں کرسکتا نہ ہی انہیں بھول سکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر دے گا۔‘‘ اب تک ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی، ایرانی، ہندوستانی باشندے زینب کیلئے قابل قبول خون کی تلاش کے سلسلے میں خون کا عطیہ دے چکے ہیں۔ ’’ون بلڈ‘‘ تنظیم کے مطابق کیمو تھراپی سے زینب کا علاج کیا جارہا ہے اور اس سے رسولی سکڑگئی ہے لیکن آخر کار اسے ہڈی کے گودے کی پیوند کاری کی ضرورت ہوگی۔