December 31, 2018
’’ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین پر رکھنا ’’دھوکا‘‘ ہے‘‘

’’ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین پر رکھنا ’’دھوکا‘‘ ہے‘‘

میڈیکل کرپشن عالمی رجحان بن چکا ہے، برٹش میڈیکل جرنل کی ایڈیٹر انچیف کا انٹرویو

سوال: بھارت کی سب سے زیادہ آلودہ ہوا میں سانس لینا کیسا لگ رہا ہے؟
جواب:(قہقہہ) مجھے یہ ملک بہت پسند ہے جہاں میں دو سال بعد آئی ہوں، پہلے کے مقابلے میں ہوا اب زیادہ بہتر ہوگئی ہے، مثبت بات یہ ہے کہ لوگوں نے اب فضائی آلودگی کے بارے میں بھی سوچنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ لوگوں میں اس مسئلے سے آگاہی پیدا کریں اور حکومتوں پر زور دیں کہ وہ ہمیں کوئلے سے جلنے والے ایندھن کے ماحول سے دور رکھیں۔ آپ کے اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ سے مجھے معلوم ہوا کہ بھارت میں ذیابیطس کے بیشتر مریض بیرون ملک تیار کی گئی انسولین پر انحصار کرتے ہیں جو یہاں بہت مہنگی ملتی ہے۔ کچھ چیزیں بالکل درست سمت میں نہیں جا رہی ہیں۔ مریضوں کو انسولین پر رکھنا، دوا سازی کی صنعت اور ان ڈاکٹروں کی جانب سے ایک بھرپور کوشش ہے جن کو اس کے بدلے یہ انڈسٹری فائدہ پہنچاتی ہے۔ طرز زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے سیدھے انسولین کی طرف بڑھنا کوئی درست فیصلہ نہیں ہے۔ یہ بڑی تشویشناک بات ہے کیونکہ انسولین کا استعما ل نقصان کے بغیر نہیں ہوتا اور یہ بھارت میں مہنگی بھی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک طبی دھوکا ہے اور دوا سازی کی صنعت کا فریب ہے۔ مریض یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کیلئے بہترین دوا ہے اور وہ اس کے لئے رقم بھی خرچ کرتے ہیں ورنہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر مرجائیں گے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی زندگی اس کے ساتھ کچے دھاگے کی طرح بندھی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ مریضوں کو جس طرح انسولین پر رکھنے کیلئے دبائو ڈالا جاتا ہے ہمیں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ بھارت میں ذیابیطس وبائی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس کے بنیادی اسباب پر نظر رکھیں اور رقم وہاں خرچ کریں نہ کہ لوگوں کو انسولین کے سہارے زندہ ررکھنے پر مجبور کریں۔
سوال: بھارت میں نارمل ڈلیوری کے مقابلے میں سیزیرین پیدائش کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کیا اس مسئلے کا کوئی مناسب حل ہے؟
جواب: سیریزین پیدائش کا مسئلہ صرف بھارت کا نہیں، عالمی نوعیت کا ہے۔ یہ طریقہ ڈاکٹروں کیلئے بھی زیادہ سہولت والا ہے جنہیں اس کے بدلے زیادہ رقم ملتی ہے اور لوگوں کی اس سوچ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ بچے کی پیدائش کا یہ طریقہ زیادہ محفوظ ہے۔ کچھ صورتوں میں یہ بات ضرور درست ہو سکتی ہے لیکن تمام کیسز میں نہیں۔ یہ خطرے سے بالکل محفوظ پروسیجر نہیں ہے۔ بے ہوش کرنے والی دوائیں، سرجری، طبی اخراجات، صحت یابی میں زیادہ وقت کا لگنا اور بعد میں مزید بچوں کی پیدائش میں مسائل ہوتے ہیں۔ ویسے سیزیرین پیدائش ایک عالمی مسئلہ ہے۔
سوال: طب کے شعبے میں جو کرپشن ہو رہی ہے، اس پر آپ کیا رائے رکھتی ہیں؟
جواب: میں دوبارہ کہوں گی کہ یہ بھی ایک عالمی رجحان ہے اور صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ میڈیسن کے شعبے میں پوری دنیا میں بدعنوانی عروج پر ہے لیکن اگر آپ ایسا نظام رکھتے ہیں جہاں ڈاکٹروں کو زیادہ محنت کا اچھا معاوضہ ملے تو پھر آپ اس کے ذریعے اس سسٹم کو شکست دے سکتے ہیں جو منفی قسم کے رویئے کو انعامات سے نوازتا ہے۔ اس منفی رویئے والے نظام میں ہی اس بات کا امکان ہوتاہے کہ ڈاکٹرز مریضوں کو بلاضرورت سرجری پر اکسائیں یا غیرضروری طور پر ٹیسٹ اور دیگر انوسٹی گیشنز پر مجبور کریں۔ رشوت ستانی کے ذریعے اس رویئے کی مزید حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ بھارت میں کچھ ڈاکٹروں نے اس سسٹم کے خلاف بھی بولنا شروع کر دیا ہے۔ بھارت میں صارفین بھی سرگرم نظر نہیں آتے۔ شاید یہ بھی اس سسٹم کے فروغ کی ایک وجہ ہو۔ صارفین کو اگر اپنی اہمیت معلوم ہو تو وہ بہت سی مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو بتانا چاہئے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی کوئی اچھی بات نہیں۔ دوا کی زیادتی بھی صحت کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ ڈاکٹروں سے سوالات کریں، انہیں دوسرے ڈاکٹر سے رائے لینے (Second Opinion) کی آزادی ہونی چاہئے۔ یہ سوال کرنا ان کا حق ہے کہ اس علاج سے ان کو کیا فائدہ ہو گا؟
سوال: بھارت میں کوئی ایسا طبی رجحان جو آپ کے نوٹس میں آیا ہو؟
جواب: ڈاکٹر اور مریض میں ہمدردی اور اعتماد کا جو رشتہ ہوتا ہے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے۔ ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں ڈاکٹروں کو گالیاں دی گئیں اور ان پر حملے کئے گئے۔ ایسے واقعات چین میں بھی ہو رہے ہیں۔ میرے خیال میں دوائوں اور ڈاکٹروں سے غیرحقیقت پسندانہ قسم کی توقعات باندھ لی جاتی ہیں۔ لیکن کچھ اور مسائل بھی ہیں۔ ہم علاج کے سلسلے میں ضرورت سے زیادہ یقین دہانیاں اور وعدے کر لیتے ہیں۔ غیرحقیقی نتائج کی نوید سناتے ہیں۔ یہ مسائل بھی ہیں کہ مریض طبی اخراجات پورے کرنے کیلئے قرضے لیتے ہیں۔ ایسی رپورٹیں بھی ملیں کہ لوگوں نے اپنے اثاثے فروخت کردیئے اور دیوالیہ ہو گئے۔
سوال: کیا دوائوں کی قیمت پر کنٹرول سے علاج معالجے تک زیادہ لوگوں کی رسائی ممکن ہے؟
جواب: بھارت میں حکومت دوائوں کی قیمت کنٹرول میں رکھنے کیلئے کچھ کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ پوری دنیا میں ہے جہاں دوائیں بہت زیادہ قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں اپنا یہ مؤقف پیش کرتی ہیں کہ انہیں دوا پر ریسرچ اور اس کی تیاری کے اخراجات بھی وصول کرنے ہوتے ہیں۔ چونکہ مارک اپ کی شرح بہت زیادہ ہے اس لئے حکومتوں کو چاہئے کہ ادویہ ساز کمپنیوں کو رعایت دیں یا نقد ادائیگی کریں تاکہ ان کا رویہ مختلف ہو۔ دوائوں کی قیمت کا مسئلہ بھارت میں زیادہ نمایاں ہے کیونکہ لوگوں کو خود اس کے لئے ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔