تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
وفا کی امید

وفا کی امید

بچپن سے سنتی آئی تھی کہ میں خوبصورت ہوں۔ ہوش سنبھالا تو آئینے نے بھی میری خوبصورتی کی گواہی دی۔ لہٰذا خود کو دوسری لڑکیوں سے برتر سمجھنے لگی۔ احساس برتری میں نخوت سے گردن اونچی رکھتی اور کم شکل والوں کو نیچی نظروں سے دیکھتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہی میرا مزاج بن گیا۔ اپنے بارے میں سوچنا، خود کو بڑا سمجھنا، دوسروں کو کم تر جاننا… اپنوں میں رہتی تھی۔ ماں باپ، بہن بھائی کا پیار ملتا۔ قریبی رشتے داروں میں جاتی تو سب بہن، بھائیوں سے زیادہ مجھے اہمیت ملتی۔ چچا کہتے میں ندا کو بہو بنائوں گا تو پھپھو کہتیں، ندا کو میں لوں گی۔ خالہ، ممانی کا بھی یہی ارمان تھا۔ ان باتوں نے مجھے خود پسند بنا دیا۔ میں بس اپنے آپ میں گم رہنے لگی۔ چچا جان کے دو بیٹے تھے، عمر اور قمر۔ عمر خوش شکل تھے اور تعلیم میں بھی نمایاں پوزیشن لیتے تھے۔ ایف ایس سی میں نمایاں پوزیشن لی تو میڈیکل میں داخلہ مل گیا۔ قمر معمولی صورت کے ساتھ ساتھ ذہین بھی کم تھے۔ تعلیم میں پیچھے رہ گئے۔ میٹرک کے بعد پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا۔  چچا جان اور امی، ابو کا خیال تھا کہ وہ میری شادی عمر سے کریں گے۔ ان کی پڑھائی مکمل ہونے کا انتظار تھا۔ مجھے بھی عمر دل سے پسند تھے۔ خوش تھی کہ میری شادی میرے من پسند کزن سے ہوگی لیکن اَنا پرست ہونے کے سبب جب عمر آتے تو بات نہ کرتی۔ ان پر یہی ظاہر کرتی جیسے مجھے ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے میرے رویّے کا غلط مطلب لیا۔ انہوں نے سوچا شاید ندا مجھے پسند نہیں کرتی۔ میری بے وقوفی یہ کہ ان کے سامنے قمر کو زیادہ اہمیت دیتی اور ان کے ساتھ ہنسنا بولنا شروع کردیتی۔ تبھی عمر کو غلط فہمی ہوگئی کہ میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ قمر کو پسند کرتی ہوں۔ میں تو یہ سب جان کر کرتی کہ عمر کو میری اہمیت کا احساس رہے جبکہ وہ ناامیدی کا شکار ہونے لگے۔ عمر نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرلی تو گھر میں شادی کی بات چلی۔ میرے من میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ بہت خوش تھی لیکن جونہی عمر کو دیکھتی، منہ دوسری طرف پھیر لیتی۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار ابھر آتے، تب میں اپنے منگیتر کی پریشانی سے لطف اندوز ہوتی۔ سوچتی تھی شادی کے بعد انہیں بتا دوں گی کہ میں تو آپ کو ستانے کے لیے مصنوعی بے رخی اختیار کرتی تھی جبکہ دل و جان سے آپ کو چاہتی تھی۔ جس شام شادی کی تاریخ کے لیے بزرگوں نے مشورہ کرنا تھا، اسی صبح عمر نے مجھے کہا۔ ندا آج تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ میں نے جواب دیا۔ ایسی کیا ضروری بات ہے پھر کرلینا۔ کہا۔ نہیں آج ہی کرنی ہے، یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کل تمہیں یا مجھے پچھتانا پڑے۔ میں نے اپنے منگیتر کی الجھن کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے کہا۔ پھر بات کرلیں گے، ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے، امی کے ساتھ بازار جانا ہے۔ میں شادی کے مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ آج شام ہمارے بزرگ ہماری شادی کی تاریخ رکھ رہے ہیں، اس لیے تم سے بات کرنا ضروری ہے۔ یہ بزرگوں کا معاملہ ہے، وہ جانیں۔ ہمیں بات کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں تمہاری مرضی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ ارے بھئی کہہ جو دیا ہے کہ میرے پاس ایسی فالتو باتوں کے لیے وقت نہیں ہے، مجھے بازار جانا ہے۔ میں نے کہا تو ان کا منہ اتر گیا۔ وہ افسردہ ہوکر چلے گئے اور میں دل ہی دل میں مسکرائی کہ یہ بھی کیا یاد کریں گے شادی کی تاریخ طے ہونے والے دن ہی کیسا ستایا تھا۔ یقین تھا کہ ہماری شادی کی تاریخ رکھی جارہی ہے، اب ہمیں ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سب تیاریاں مکمل تھیں، بزرگ راضی تھے۔ اس رشتے پر سارا گھر راضی اور خوش تھا۔ کاش! مجھے خبر ہوتی کہ یہ مذاق کس قدر مہنگا پڑے گا۔ انہوں نے اپنے والدین سے جاکر کہا کہ وہ ہرگز مجھ سے شادی نہیں کریں گے۔ اگر مجبور کیا تو گھر چھوڑ دیں گے۔ ماں باپ نے پوچھا۔ برسوں کی منگنی ہے، تم نے پہلے تو کبھی انکار نہیں کیا۔ آج شام تاریخ رکھی جانی ہے تو منع کررہے ہو۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے ساتھ میڈیکل کالج میں ایک لڑکی پڑھتی تھی۔ مجھے اپنی اس کلاس فیلو سے شادی کرنی ہے۔ اگر آپ لوگوں نے میری بات نہ مانی اور ندا کے ساتھ شادی کی تاریخ رکھ دی تو میں عین شادی والے دن گھر سے چلا جائوں گا۔ غرض اس نے اس شدومد سے اپنا غصہ نکالا کہ چچا اور چچی گھبرا گئے اور انہوں نے میرے والد کو عمر کے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ والد بھی پریشان ہوگئے کہ عمر کو عین وقت پر کیا ہوگیا ہے جبکہ وہ اس رشتے پر خوش تھا۔ اس شام بزرگوں نے شادی کی تاریخ رکھنے کا ارادہ بدل دیا۔ چچا نے کہا۔ پہلے عمر کو سمجھانا پڑے گا، ایسا نہ ہو کہ ہم اس کی مرضی کے بنِا تاریخ رکھ لیں اور وہ بھاگ جائے۔ کسی نے مجھے نہ بتایا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ والدہ نے بتایا تمہارے چچا والوں کی تیاری ابھی ادھوری تھی، اس لیے کچھ دنوں کی انہوں نے مہلت لی ہے۔ انہوں نے یہ سمجھا شاید مجھے اصل بات معلوم ہونے سے صدمہ ہوگا۔ اس صدمے سے بچانے کے لیے مجھ سے بات چھپا لی۔ چچا چچی نے بیٹے کو سمجھایا۔ وہ نہ مانا تو کہا کہ اچھا! وہ لڑکی دکھائو جسے تم نے شادی کے لیے پسند کیا ہے۔ پھپھو کی بیٹی سلطانہ بدشکل اور کالی کلوٹی ہونے کے ساتھ چھوٹے قد کی موٹی لڑکی تھی۔ خدا جانے کیا سوچ کر عمر نے اپنی کلاس فیلو کی بجائے سلطانہ کا نام لے دیا۔ جس پر سبھی انگشت بدنداں رہ گئے، تاہم پھوپی نے سنا تو ان کی باچھیں کھل گئیں۔ دوڑی آئیں۔ والد اور چچا سے منت کرنے لگیں کہ عمر اگر سلطانہ سے شادی کے لیے کہتا ہے تو آپ لوگ مان جایئے۔ سلطانہ کم شکل ہے تو کیا ہے، آپ لوگوں کا خون ہے۔ بہن کے ساتھ رشتہ مضبوط کرلیں گے تو عمر بھر دعائیں دوں گی۔ جب لڑکا راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ سلطانہ، والد اور چچا کی سگی بھانجی تھی۔ عادت کی اچھی تھی، پس انہوں نے عمر کی مرضی جان کر اس کی شادی سلطانہ سے کردی اور میں منہ دیکھتی رہ گئی۔  ایک بدصورت لڑکی کو جب عمر نے مجھ پر ترجیح دی تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے منہ پر گھونسا مارا ہو اور میری خوبصورتی کی توہین کردی ہو۔ مجھ پر سلطانہ کو برتری دینے کا مطلب مجھے جلا کر راکھ کرینا تھا، میری حسین صورت کا مذاق اُڑانا تھا، میری اہانت مطلوب تھی۔ بہرحال میرے منگیتر نے مجھے دھتکار کر اپنی بدصورت پھوپی زاد کو شریک حیات چن لیا۔ جس روز ان کی شادی تھی، میں اَناپرست دوسروں کے سامنے ہنستی کھلکھلاتی پھر رہی تھی جیسے مجھے کوئی پروا نہ ہو لیکن میرا دل اندر سے لہولہان تھا، خون کے آنسو رو رہا تھا مگر کسی پر اپنے غم کو ظاہر کرنے میں بھی توہین محسوس ہوتی تھی۔ لگتا تھا عمر نے جو بدلہ لیا، جو تیر مارا، وہ نشانے پر لگا ہے۔  سبھی حیران تھے کہ عمر نے اچانک یہ کیسا فیصلہ کیا ہے، شاید پھوپی نے کوئی جادو کردیا ہے۔ یہ تو صرف میں جانتی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ محض مجھے جلانے کے لیے تاکہ میرا غرور ٹوٹ جائے، میری سبکی ہو اور میں عمر بھر روتی سسکتی رہ جائوں۔ ایک دن اچانک اس کا میرا سامنا ہوا۔ اس نے میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا۔ غرور کی پتلی، ابھی یہ کم ہے، جی تو چاہتا ہے کہ اتنا جلائوں کہ جل کر راکھ ہوجائو۔ اس کی شادی سلطانہ سے ہوگئی۔ وہ خود بھی اس انتخاب پر خوش نہ تھا مگر انسان بعض اوقات انتقام کے جذبات میں ڈوب کر بہت غلط فیصلے کرلیتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ضرور وہ پچھتاتا ہوگا مگر وہ بھی کم اَنا پرست نہ تھا۔ اس نے کسی پر یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ اس فیصلے پر خوش نہیں ہے۔ سلطانہ کو بھی ایسا کوئی احساس نہ ہونے دیا، اس کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو رکھا۔ ابھی میرے آنسو بھی خشک نہ ہوئے تھے کہ چچا چچی نے امی ابو سے ایک بار پھر گٹھ جوڑ کرلیا۔ چچی نے کہا۔ یہ میری بہو بننے والی تھی، میری ہی بنے گی۔ چچا نے بھی والد کی منت کی۔ عمر نے اپنی سی کرلی، قمر بھی ہمارا بیٹا ہے۔ ندا کا رشتہ قمر کے لیے دے دیں۔ ہم ندا بیٹی کو لے کر ہی ٹلیں گے۔ قمر نے پڑھائی چھوڑ کر جنرل اسٹور کھول لیا جو بہت اچھا چل رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ گھر کا لڑکا تھا، اس میں کیا کمی تھی۔ تھوڑے سے انکار کے بعد میرے والدین نے قمر کو داماد بنانا قبول کرلیا۔  میں ہرگز قمر سے شادی نہ کرنا چاہتی تھی۔ عمر کے گھر میں اس کی بھابی بن کر عمر بھر اس کے سامنے رہ کر ہرگز جلنا نہ چاہتی تھی مگر اس نے تو مجھے جلا کر راکھ کرنا تھا لہٰذا عمر نے بھی اس رشتے کی بھرپور حمایت کی اور میری شادی بزرگوں نے قمر سے کردی۔ میں لڑکی تھی، کچھ نہ کرسکی۔ سبھی رشتے دار حیران تھے کہ عمر نے اتنی خوبصورت منگیتر کو ٹھکرا کر ایک بدصورت لڑکی کو پسند کیا اور اب ایک ڈاکٹر کی بجائے ندا ایک دکاندار کی بیوی بنی ہے۔ لوگوں کی باتیں سن کر میں سوچتی تھی کہ جو ہوا میری اپنی نادانی اور غلطی کی وجہ سے ہوا۔ جب مجھے اپنے گھر میں دلہن بنا دیکھا تو عمر گھر سے چلا گیا۔ خود کو باہر کے کاموں میں مصروف رکھا۔ ہفتہ بھر دن میں گھر نہ آیا۔ رات گئے آتا جب سب اپنے کمروں میں سونے جاچکے ہوتے۔ اس ضدی انسان نے انتقام لینے کے بعد شاید اپنا بھی سکھ چین کھو دیا تھا۔ وہ جلد ہی علیحدہ گھر میں شفٹ ہوگیا اور کچھ عرصے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے بہانے بیرونِ ملک چلا گیا۔ سلطانہ ایک سال سسرال میں رہی۔ پھر پھپھو اسے اپنے گھر لے گئیں۔ کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ عمر کے انتظار میں گھل گھل کر زندگی گزارنے لگی۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا۔ یہاں تک کہ دس برس گزر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تین بچے عنایت کردیئے۔ میں انہیں پا کر پچھلی باتیں بھول کر اپنی زندگی میں گم ہوگئی۔ قمر بہت اچھے انسان تھے، اچھے شوہر ثابت ہوئے۔ ان میں کوئی کمی نہیں تھی، سوائے اس کے کہ کم تعلیم یافتہ تھے مگر ماشاء اللہ خاندان میں عزت تھی۔ روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ بنگلہ بنوایا، گاڑیاں، نوکر میرے پاس سبھی کچھ تھا۔ اولاد کی نعمت بھی تھی۔ کسی شے کی کمی نہیں تھی۔ سوچتی ہوں جو میرے رب نے کیا، میرے حق میں اچھا کیا مگر سلطانہ بچاری کو نہ جانے کس جرم کی سزا ملی۔ وہ غریب آج بھی اپنے شوہر کے انتظار میں سلگ رہی ہے۔ سلطانہ کو عمر سے اتنی محبت ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی طلاق کا نام بھی لے تو لڑ پڑتی ہے۔ کہتی ہے۔ عمر بھر انتظار کروں گی۔ دیکھ لینا وہ ضرور ایک روز پلٹ کرآئیں گے۔ دعا کرتی ہوں کہ اللہ کرے سلطانہ کی دعا قبول ہو اور عمر اس کے پاس لوٹ آئیں یا اسے اپنے پاس بلوا لیں۔ سلطانہ کی وفا اور صبر رائیگاں نہ جائیں۔ سنا ہے کہ عمر نے امریکا میں شادی کرلی تھی۔ زیادہ کا حال معلوم نہیں کیونکہ اس بے مروت اور بے وفا انسان نے تو اپنے والدین تک سے رابطہ رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا کیا فائدہ جو انسان اپنے والدین کی محبت و احسانات کو بھی فراموش کردے۔ سچ کہتے ہیں جس نے اپنے ماں باپ سے وفا نہ کی، اس سے کسی کو وفا کی امید نہ رکھنا چاہیے۔ (س… کراچی)