تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
فلپائنی حسینہ کا ’’مس یونیورس‘‘ بننا اس کی قوم پر کتنا اثرانداز ہوگا؟

فلپائنی حسینہ کا ’’مس یونیورس‘‘ بننا اس کی قوم پر کتنا اثرانداز ہوگا؟

جس روز فلپائن کی حسینہ کیٹریونا گرے کو ’’مس یونیورس‘‘ کا تاج پہنایا گیا، اُس روز فلپائن کے تقریباً تمام عوام ٹی وی کے سامنے سر جوڑ کر مقابلۂ حسن کی ساری کارروائی ایسے انہماک اور اشتیاق سے دیکھ رہے تھے کہ انہیں گرد و پیش کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ کیٹریونا گرے کے پاس ’’مس فلپائن‘‘ کا اعزاز پہلے سے ہی موجود تھا۔ جس وقت اسے ’’مس یونیورس‘‘ کا تاج پہنایا جا رہا تھا، اُس وقت فلپائن میں زندگی تقریباً ساکت تھی۔ ہر قسم کی نقل و حرکت چند لمحوں کے لیے رُک گئی تھی۔ فلپائن کا کوئی بھی شخص اس وقت کوئی کام نہیں کر رہا تھا۔ جب یہ اعلان کیا گیا کہ کیٹریونا گرے کو مس یونیورس قرار دے دیا گیا ہے تو تمام ملکوں کے ٹی وی چینلز نے یہ مناظر بھی دکھائے کہ فلپائن میں لوگ کس طرح خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ فلپائن کے عوام خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے۔ چند سال قبل فلپائن کا باکسر مینی پیکائو جب بھی باکسنگ کے کسی مقابلے میں حصہ لیتا تھا تو فلپائن میں دُکانیں بند ہو جاتی تھیں۔ گھروں میں پورے پورے خاندان ٹی وی کے سامنے جمع ہو جاتے تھے۔ جو دُکانیں کھلی ہوتی تھیں، ان میں بھی دکاندار کی نظریں صرف ٹی وی پر جمی ہوتی تھیں۔ گاہکوں کی طرف وہ دیکھتے ہی نہیں تھے۔ گاہکوں کو اپنی مطلوبہ چیز لینے کے لیے دُکانداروں کو جھنجوڑ کر اپنی طرف متوجہ کرنا پڑتا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں نظر نہیں آتی تھیں۔ سائیکل رکشا والے بھی اپنا کام چھوڑ کر اِدھر اُدھر کھڑے ٹی وی دیکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے اور شرطیں لگا رہے ہوتے تھے۔ منیلا کی سڑکیں بھی سُنسان دکھائی دیتی تھیں۔ منیلا میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے۔ مس یونیورس کے لیے منعقد ہونے والا مقابلۂ حُسن فلپائن کے عوام ہمیشہ بہت توجہ، انہماک اور اشتیاق سے دیکھتے ہیں۔ سرکاری ملازمین تک اس موقع پر کام چھوڑ دیتے ہیں اور اس مرتبہ یہ اعزاز فلپائنی حسینہ کے حصے میں آنے کے بعد ان ملازمین کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ انہوں نے اپنے عہدے، کام کی نوعیت اور عمر وغیرہ کے احساس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیوانوں کی طرح جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ مس یونیورس کا مقابلہ درحقیقت فلپائن کی سب سے بڑی سماجی دلچسپی بن چکا ہے۔ فلپائن کے تمام ذرائع ابلاغ، اس مقابلے کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات دینا شروع کر دیتے ہیں۔ فلپائن کی جو لڑکیاں ان مقابلوں میں حصہ لے رہی ہوتی ہیں، ان کے تفصیلی انٹرویوز آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دُنیا والوں کو شاید کم ہی اندازہ ہو کہ فلپائن کے لوگ، حُسن کے عالمی مقابلوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ مقابلۂ حُسن میں ایک سیشن سوال جواب کا بھی ہوتا ہے۔ مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لینے والی لڑکیوں کو بہت سے سوالوں کے جواب دینے ہوتے ہیں۔ کیٹریونا گرے کے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ مقابلۂ حُسن کے ایک جج اسٹیو ہاروے، جنہوں نے 2015ء میں مس یونیورس کے نام کا اعلان کرنے میں غلطی کرکے زبردست ’’شہرت‘‘ حاصل کی تھی، یعنی اصل فاتح لڑکی کے بجائے کسی اور کا نام لے دیا تھا، انہوں نے مس کیٹریونا گرے سے پوچھ لیا کہ طبّی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے والی منشیات کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟ اس سوال کا جواب دینا یوں تو مس کیٹریونا گرے کے لیے مشکل نہ ہوتا لیکن شاید اس لیے کچھ مشکل بن گیا ہو کہ ان کا تعلق فلپائن سے تھا اور فلپائن کے صدر روڈریگو دوترتے منشیات کے سلسلے میں کتنا سخت مؤقف رکھتے ہیں، اس کا سبھی کو اندازہ ہے۔ وہ تو پوری دُنیا کے سامنے اعلان کر چکے ہیں کہ وہ منشیات کے عادی اور منشیات کا دھندا کرنے والے ہزاروں افراد کو ذاتی طور پر موت کے گھاٹ اُتار چکے ہیں۔ ان کا یہ اعتراف سامنے آنے پر دُنیا میں خاصا شور بھی مچا تھا۔ وہ اب بھی اس مؤقف کے حامی ہیں کہ منشیات کے عادی افراد اور منشیات کا دھندا کرنے والوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم کیٹریونا گرے نے اُلجھن میں پڑے بغیر دیانتداری سے اس سوال کا وہ جواب دے دیا جسے وہ دُرست سمجھتی تھیں اور جو ان کی ذاتی رائے تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں تفریحی مقاصد یا لطف اندوز ہونے کی غرض سے منشیات کے استعمال کو قطعی غلط لیکن طبّی مقاصد کے لیے دُرست سمجھتی ہوں۔‘‘ فلپائنی قوم بڑی متحد ہے لیکن ان کی مس یونیورس کے اس جواب نے اسے دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ترقی پسندوں نے مس یونیورس کے جواب کی حمایت کی، جبکہ قدامت پرستوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ منشیات کا استعمال کسی صورت میں بھی دُرست نہیں، خواہ انسان مر ہی رہا ہو۔ اس مقابلۂ حُسن میں پہلی بار ایک ’’ٹرانس جینڈر‘‘ (جس کی جنس کا فیصلہ کن انداز میں تعین نہ کیا جا سکتا ہو) کو بھی شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ اینجلا پونس نامی اس ’’حسینہ‘‘ کے پاس مس اسپین کا اعزاز پہلے سے موجود تھا۔ کیٹریونا گرے کو تاج پہنانے یہی خاتون یا ’’خاتون نما‘‘ آئی تھیں اور اس موقع پر تمام حاضرین اسے تعظیم دینے اور اس کی ہمت افزائی کے لیے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے تھے۔ یہ گویا اینجلا پونس کی جدوجہد کے لیے خراج عقیدت بھی تھا۔ ظاہر ہے، وہ اس مقام تک آسانی سے تو نہیں پہنچی ہوگی۔ اس سفر میں اسے نہ جانے کیا کیا دشواریاں پیش آئی ہوں گی۔ کیٹریونا گرے کے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب اینجلا پونس کو بھی بلایا گیا تو کیٹریونا گرے نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔ یہ سب آثار بتاتے ہیں کہ کیٹریونا گرے کا مس یونیورس منتخب ہونا فلپائنی قوم کے نظریات اور خیالات میں تبدیلی لانے کا باعث بنے گا۔