تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
زیارت میں قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے آخری 70ایام

زیارت میں قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے آخری 70ایام

بلوچستان میں واقع وادیٔ زیارت کا پُرفضا مقام ملک کا اہم سیاحتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ صنوبر کے درخت سے ڈھکی وادی کی خوبصورتی اور دلکشی ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے۔ سرد آب و ہوا اور قدرتی نظاروں کی بدولت گرمیوں میں یہ وادی سیاحوں کی خصوصی توجہ اور دلچسپی کا مرکز ہوتی ہے۔ اس سیزن میں ملک کے مختلف حصوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ وادیٔ زیارت کی ’’زیارت‘‘ کیلئے آتے ہیں۔ زیارت کی وادی اپریل سے اگست تک لوگوں کو دید کراتی ہے اور پھر آف سیزن شروع ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد زیارت شہر اور نواحی دیہات کے عوام ملحقہ ضلع ہرنائی کی تحصیل شاہرگ اور سبی کا رخ کرتے ہیں۔ جونہی فروری، مارچ میں موسم تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے تو یہ لوگ دوبارہ زیارت منتقل ہو جاتے ہیں۔ زیارت کا نام پہلے غوسکی تھا۔ پھر ایک بزرگ ’’ملا طاہر عرف خرواری بابا‘‘ کی وجہ سے زیارت پڑگیا۔ پشتو زبان میں زیارت ’مزار‘ کو کہتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا زندگی کے آخری ایام میں زیارت میں قیام بھی وادی کی وجۂ شہرت ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ریزیڈنسی نے اس دلکش وادی کی اہمیت میں نہ صرف مزید اضافہ کیا ہے بلکہ اسے سیاحوں کے لئے مزید پُرکشش بنایا ہے۔ بانی پاکستان کی یہ خوبصورت رہائش گاہ فن تعمیر کا اعلیٰ شاہکار ہے۔ موسم گرما اور بہار میں یہ عمارت چاروں اطراف سے گھاس کے میدان اور اخروٹ، بادام اور چنار کے درختوں میں گھری بہت خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔ گھاس کے اس میدان کا رقبہ 25ہزار مربع فٹ ہے جب کہ ریزیڈنسی کے اردگرد کے علاقے میں کم و بیش پچاس درختوں کے علاوہ 61731مربع ایکڑ کے رقبے پر مشتمل صنوبر کے گھنے درخت ہیں۔ ضلع زیارت کا کل رقبہ 1487مربع کلومیٹر ہے۔ یہ اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور وفاقی دارالحکومت سے اس کا فضائی فاصلہ 621 کلومیٹر جبکہ صوبائی دارالحکومت سے اس کا فضائی فاصلہ 70کلو میٹر اور زمینی فاصلہ 122کلو میٹر ہے۔ زیارت میں جس مقام پر قائداعظم ریزیڈنسی واقع ہے، وہ سطح سمندر سے 8050فٹ سے زیادہ بلند ہے۔ زیارت میں صنوبر کے جنگلات میں درختوں کی قدامت کیلیفورنیا (امریکا) کے جنگلات کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ صنوبر کے درختوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ درخت اپنے قد میں سالانہ صرف ایک انچ کا اضافہ کرتے ہیں۔ زیارت میں ایسے صنوبر کے قدآور درخت بھی موجود ہیں جن کی عمر ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔  یہاں پیدا ہونے والے سرخ اور کالے کوہلو سیب کی اقسام بہت لذیز ہیں۔ خوبانی، آڑو اور دوسرے کئی پھلوں کے ساتھ زیارت کی چیری بھی پورے ملک میں بہت مشہور ہے۔ چیری کا سیزن صرف مئی سے جون تک رہتا ہے۔ اس عرصے میں چیری اندرون ملک اور بیرون ممالک بھجوائی جاتی ہے اور یہاں کے لوگ سوغات کے طور پر بھی اسے اپنے عزیز و اقارب کو بھجواتے ہیں۔ زیارت بنیادی طور پر پشتونوں کا علاقہ ہے جہاں پر زیادہ تر پشتون قبیلہ کاکڑ آباد ہے۔ زیارت کے لوگوں کا ذریعۂ معاش زراعت اور سیاحت کا پیشہ ہے۔ انگریز بلوچستان میں 1839ء میں داخل ہوئے اور کافی عرصے تک انہیں قبائلیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار انگریزوں نے بلوچستان کو برٹش بلوچستان اور ریاستی بلوچستان میں تقسیم کرکے کچھ حصوں میں اپنے قوانین نافذ کئے اور بیشتر حصے کو اندرونی طور پر آزاد اور خودمختار تسلیم کرتے ہوئے مختلف قبائلی شخصیات سے معاہدے کرکے بعض علاقوں میں ریلوے لائنیں بچھائیں اور بعض میں اپنے ٹھکانے بنائے۔ انہوں نے 1878ء میں کوئٹہ شہر آباد کیا اور جنوری 1880ء تک سکھر سے سبی تک ریلوے لائن تعمیر کی۔ ضلع سبی کا شمار دنیا کے گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جب کہ زیارت سرد ترین علاقہ ہے۔ انگریزوں نے 1885ء میں زیارت میں ایک قصبہ تعمیر کرنے کے لئے یہ پورا علاقہ سارنگزئی قبائل کی شاخ سادیزئی سے 14لاکھ روپے میں خریدا اور اسے ضلع سبی کا گرمائی ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔  اس زمانے میں تپ دق (ٹی بی) ایک لاعلاج بیماری تھی اور اس سے متاثرہ افراد کو خشک اور سرد آب و ہوا والے خطوں میں بھیجا جاتا تھا۔ کوئٹہ اور زیارت ایسے ہی خطے ہیں۔ اس لیے انگریزوں نے 1892ء میں زیارت میں ٹی بی سینی ٹوریم کے لئے یہ عمارت بنائی۔ عمارت میں اوپر اور نیچے چار چار کمرے اور بالائی منزل پر ایک وسیع بالکونی تھی اور ایک جانب ملازمین کے لئے چار کوارٹر تعمیر کئے گئے تھے۔ یہ عمارت اس لیے بنائی گئی تھی کہ اگر کسی انگریز افسر کو ٹی بی ہوجائے تو علاج کے لئے اسے یہاں لایا جائے مگر جب بلوچستان کے انگریز حاکم ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل نے اس عمارت میں پہلی بار قیام کیا تو انہوں نے اسے اے جی جی کی ریزیڈنسی قرار دے دیا اور یہ اس وقت سے بلوچستان میں انگریز حاکم ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کی قیام گاہ بن گئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو بلوچستان سے خاص لگاؤ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں طبی ماہرین نے سرد علاقے میں قیام کا مشورہ دیا تو انہوں نے بیرون ملک یا پاکستان میں ہی کسی اور ٹھنڈے مقام کی بجائے زیارت کو ترجیح دی۔ بابائے قوم نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں اس صوبے کے متعدد دورے کیے۔ قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے بلوچستان کے دوروں کا آغاز 1934ء کے وسط سے ہوا تھا۔ اس وقت انہوں نے صوبے میں تقریباً دو ماہ قیام کیا، اس کے بعد قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے کوئٹہ اور زیارت سمیت مستونگ، قلات، پشین، ڈھاڈر کے کئی دورے کئے۔ بانی پاکستان کی بلوچستان سے محبت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے مشہور14 نکات میں اس صوبے میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ جناح کیپ کے نام سے شہرت پانے والی اور بابائے قوم کی شخصیت کا حصہ بن جانے والی ’’قراقلی ٹوپی‘‘ بھی انہیں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیش کی گئی تھی۔ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے بلوچستان سے اپنی محبت کا ثبوت قیام پاکستان کے بعد فروری 1948ء میں سبی میں پہلے سالانہ دربار میں طبیعت کی خرابی کے باوجود شرکت کرکے بھی دیا۔ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان کی ریاستوں کی پاکستان میں شمولیت قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کی دیرینہ خواہش تھی، اسی لئے کسی وفد یا رہنما کو بھیجنے کی بجائے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ خود بلوچستان تشریف لائے تھے اور یہاں کے اکابرین سے کامیاب ملاقاتوں کے نتیجے میں قائد کی کوششوں سے بلوچستان کی ریاستیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق پاکستان کا مضبوط حصہ بنیں۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ جب قیام پاکستان سے قبل بلوچستان آئے تو انہیں یہ جگہ بہت پسند آئی تھی جبکہ قیام پاکستان سے قبل قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ڈاکٹر نے انہیں بتادیا تھا کہ انہیں ٹی بی کا مرض لاحق ہے اور یہ بیماری اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ان کا زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ یہ سن کر قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے ڈاکٹر کو سختی سے ہدایت کی کہ اس بات کو راز رکھا جائے۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی قوت ارادی سے دن رات کام کیا۔ آزادی کے تھوڑے عرصے بعد ہی ٹی بی کا مرض شدت اختیار کرگیا اور معالجین کے مشورے پر قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ یکم جولائی 1948ء کو اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح، معالج ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش، سیکرٹری کے ایچ خورشید اور دیگر عملے کے ارکان کے ہمراہ زیارت کی اسی ریزیڈنسی میں آگئے اور 10؍ستمبر 1948ء تک اس میں قیام کیا۔ یوں آزادی کے بعد وہ بحیثیت گورنر جنرل پاکستان ایک برس 27دن زندہ رہے جس میں سے اپنی زندگی کے آخری دو مہینے اور دس دن زیارت کی اس ریزیڈنسی میں بسر کئے۔ قیام پاکستان کی پہلی سالگرہ قریب تھی، لیکن قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ اپنی علالت کے سبب سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے معذور تھے اور یہیں انہوں نے پاکستان کی پہلی سالگرہ بھی منائی۔ اس ریزیڈنسی کی بالائی منزل کی چھت پر قومی پرچم لہرایا گیا۔ زیارت سے ہی آپ نے قوم کے نام ایک پیغام جاری کیا جس میں کہا کہ ’’پاکستان کا قیام ایک ایسی حقیقت ہے، جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ دنیا کی ایک عظیم ترین مسلمان ریاست ہے۔ اس کو سال بہ سال ایک نمایاں کردار ادا کرنا ہے اور ہم جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے، ہم کو ایمانداری، مستعدی اور بے غرضی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا ہوگی۔‘‘ زیارت میں قیام کے دوران آپ کی طبیعت میں قدرے بہتری آئی اور آپ اکثر و بیشتر اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اور اپنے عملے کے ارکان سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کرنے لگے۔ شام کو اکثر ریزیڈنسی کے احاطے میں لگے قدیمی درخت کے نیچے کرسی میز پر بیٹھ جاتے اور وہاں مقامی معتبرین سے ملاقاتیں اور گفتگو کرتے۔ زیارت کے رہائشی و بزرگ صحافی محمد صدیق لالہ نے ماضی کے اوراق الٹتے ہوئے کہا کہ اُن کے والد بابو محمد گل رینج فاریسٹ افسر تھے جو اکثر قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آ کر بیٹھتے اور مختلف موضوعات پر گفت و شنید کی جاتی۔ اس کے علاوہ سردار پائیو خان کا بھی بانیٔ پاکستان سے قریبی تعلق تھا اور وہ بھی کافی وقت محمدعلی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گزارتے۔ قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ واک کیلئے بھی نکلا کرتے اور ’’نری سر‘‘ کے مقام تک جاتے اور پھر وہیں سے واپس لوٹ آتے۔ اُن کے ہمراہ ریزیڈنسی کے چوکیدار و کک طوطی خان کاکڑ بھی ہوتے جو اُن کی رہنمائی کرتے اور ٹرانسلیٹر کا فریضہ بھی انجام دیتے۔ ایک مرتبہ قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ واک کر رہے تھے اور ایک چرواہا اپنے مال مویشی کو قریبی کھیت میں لئے کھڑا تھا۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے رک کر اُس سے گفتگو شروع کی۔ چرواہا قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو پہچان نہیں سکا تھا اور اس نے بتایا کہ قیام پاکستان سے پہلے، انہیں یہاں کھیت تک مال مویشی لانے کی اجازت تھی اور وہ اپنے مویشیوں کو یہاں پر ہی باندھ کر سودا سلف لینے بازار چلے جاتے تھے، چونکہ اب آزاد ملک پاکستان بن چکا ہے، امید ہے کہ مال مویشیوں کو یہاں تک روکنے کی پابندی ختم ہو جائے گی۔  جس پر قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اُس سے استفسار کیا کہ وہ پاکستان بننے پر خوش ہے؟ چراوہے نے کہا کہ ہمیں آزاد اسلامی ملک مل گیا ہے اور سنا ہے کہ جس نے یہ ملک بنایا ہے وہ بھی بہت قابل اور باصلاحیت شخصیت ہے۔ طوطی خان کاکڑ نے بتایا کہ یہ وہی شخص قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ ہیں، جس پر چرواہا ورطۂ حیرت میں پڑ گیا اور اس نے نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ طوطی خان کاکڑ کا 1992ء میں 80برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ان کے 70سالہ صاحبزادے عبدالواحد نے اپنے والد کی یادداشتیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ میرے والد دو ماہ دس دن تک قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ رہے۔ والد صاحب کے مطابق محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ بیماری میں بھی بہت زیادہ محنت و دلجمعی سے سرکاری امور نمٹاتے۔ کتب رسائل و جرائد کا مطالعہ باقاعدگی سے کرتے ۔ کبھی ریزیڈنسی کے احاطے میں آ کر بیٹھ جاتے اور ان سے زیارت کے قبائلی معتبرین اور چاہنے والے ملاقاتوں کیلئے بھی آتے۔ زیادہ وقت دفتری امور نمٹانے میں گزار دیتے۔ وہ چونکہ بہت ضعیف ہوچکے تھے، اُن کیلئے معالج کی ہدایت کے مطابق ہی کھانا تیار کیا جاتا جو وہ بہت کم مقدار میں تناول کرتے۔ یخنی کا زیادہ استعمال کرتے۔ قہوہ یا دودھ کی چائے پیتے تھے۔ بیماری کے باوجود وہ روزانہ صبح شیو بنواتے اور صبح ساڑھے چھے بجے ناشتہ کرتے۔ اپنے رفقائے کار کےساتھ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کے مطابق فاطمہ جناح نہ صرف اپنے بھائی کی علالت پر شدید متفکر تھیں بلکہ وہ اُن کا بہت زیادہ خیال کرتیں۔ معالج اور ہمیشرہ اصرار کرتے کہ آپ آرام زیادہ کیا کریں اور محنت طلب کام کم کیا کریں، لیکن وہ ہمیشہ اس کا الٹ کرتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کس خطرے کی طرف بڑھ رہے ہیں- طوطی خان کاکڑ کے صاحبزادے نے مزید بتایا کہ وہ محکمہ بی اینڈ آر سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور بہت زیادہ علیل ہیں جبکہ بیٹوں کا کوئی روزگار نہیں جس کی وجہ سے نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ میرے والد کی جانب سے بابائے قوم کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے میرے کسی بیٹے کو سرکاری ملازمت دی جائے تاکہ ہم گزر بسر کر سکیں۔ زیارت میں بسر کئے جانے والے 70شب و روز میں دو واقعات بہت مشہور ہوئے۔ ایک دن کافی سردی پڑ رہی تھی۔ معالج کرنل الٰہی بخش نے انہیں نئے موزے پیش کئے۔ آپ نے دیکھے تو بہت پسند کئے اور ان کا ریٹ پوچھا، جس پر کرنل نے بتایا کہ 2روپے۔ آپ گھبرا کر بولے، کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں۔ اس نے ہنس کر بتایا کہ سر، یہ تو آپ کے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں جس پر آپ نے کہا میرا اکاؤنٹ بھی تو قوم کی امانت ہے۔ ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے۔ موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ زیارت میں ہی ایک نرس کی خدمت سے متاثرہوئے اور اس سے پوچھا۔ بیٹی میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ جس پر نرس نے کہا کہ سر میں پنجاب سے ہوں۔ میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے۔ میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں۔ آپ میری ٹرانسفر پنجاب کروا دیں، جس پر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا۔ سوری بیٹی! یہ کام محکمہ صحت کا ہے، گورنر جنرل کا نہیں۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے جو اس وقت قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے معالج تھے، اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا ہے ’’جب میں 17؍جولائی کو قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ مسہری پر دراز تھے۔ جسم نحیف اور کمزور، لیکن چہرہ باوقار اور پُرجلال، آنکھوں میں بَلا کی چمک اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، وہ بہت کمزور ہوگئے تھے۔ رخساروں کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں اور گال اندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ بیماری کی وجہ سے رنگ اور زیادہ نکھر آیا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ ایک شاعریا فلسفی کی طرح چہرے کی جھریاں ان کے گہرے مطالعے اور تدبر کی باریکیوں کو نمایاں کررہی تھیں۔ آپ علی الصباح بیدار ہو جاتے، جس پر ہم نے اصرار کیا کہ اگر آپ سو رہے ہوں تو بہتر ہے کہ آپ کو نہ اٹھایا جائے کیوں کہ آپ کے لیے آرام اور نیند اشد ضروری ہے۔ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ جواباً مسکرا دئیے اور کہا، صحت کے لیے زندگی بھر کے اصول ترک نہیں کئے جاسکتے۔  زیارت میں محترمہ فاطمہ جناح پورے انہماک سے قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کی تیمارداری میں مصروف رہیں۔ اس دوران انہوں نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کی علالت میں کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ آخری دنوں میں آپ بہ مشکل بات چیت کرتے اور ایک ایک لفظ کی ادائیگی انتہائی مشکل سے کرتے۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کا بلڈپریشر خاصا گرگیا تھا اور پائوں پر ورم آگیا تھا جس کے باعث آپ کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت سے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ قائداعظم کے معالج کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب ’’ود دی قائداعظم ڈیورنگ ہز لاسٹ ڈیز‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’پانچ ہفتے کی تسلی بخش صحت کے بعد 3؍ ستمبر کو آپ کی حرارت بڑھ گئی۔ حرارت کا یوں اچانک بڑھ جانا بہت تشویشناک تھا۔ چنانچہ ہم نے بڑی احتیاط سے ان کا معائنہ کیا، لیکن پھر بھی بخار کا سبب دریافت نہ کرسکے۔‘‘ 9 ؍ستمبر کو کرنل الٰہی بخش نے معائنے کے بعد محترمہ فاطمہ جناح سے قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا، مگر محترمہ فاطمہ جناح نے امید کا دامن نہ چھوڑا اور برابر طبیعت کی بحالی کی آرزو مند رہیں۔ 10؍ستمبر کو ڈاکٹروں کے مشورے پر محترمہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو کراچی لے جانے پر آمادگی ظاہر کردی۔ چنانچہ 11؍ستمبر کو آپ کا طیارہ سوا چار بجے ماری پور کے ہوائی اڈے پر اترا۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کو ایک اسٹریچر پر لٹا کر بذریعہ ایمبولینس گورنر جنرل ہائوس پہنچایا گیا۔ رات تقریباً ساڑھے نو بجے آپ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ چند منٹ کے اندر کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور ڈاکٹر مستری گورنر جنرل ہائوس پہنچ گئے۔ اس وقت قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبض کی رفتار بھی غیرمسلسل تھی۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انجکشن لگایا، مگر حالت بگڑتی چلی گئی۔ رات دس بج کر 25منٹ پر بابائے قوم اور ذہانت کے پیکر ہمیشہ کے لیےا ﷲ کی رحمت میں پہنچ گئے۔ قائداعظم ریزیڈنسی جہاں محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے، 29؍اکتوبر 2008ء کو زلزلے میں متاثر ہوئی تھی جس کی پاک فوج نے فوری مرمت کی۔ پھر 15؍جون 2013ء کو وہ دلخراش واقعہ رونما ہوا جس کا زیارت جیسے پُرامن ضلع کے عوام تصور بھی نہیں کرتے تھے۔ آدھی رات کو تخریب کاروں نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے قائداعظم ریزیڈنسی کو تباہ کردیا جس میں قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ اور فاطمہ جناح کے زیر استعمال فرنیچر جن میں کرسیاں، میز، پلنگ اور الماریاں شامل تھیں، مکمل طور پر خاکستر ہوگئیں۔ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے زیارت ریذیڈنسی میں قیام کے دوران زیادہ تر اشیاء جو ان کے استعمال میں رہیں، ان میں سے غالباً کچھ فاطمہ جناح اپنے ساتھ لے گئی تھیں جو بعد میں کراچی منتقل کردی گئیں۔ وہ اس طرح محفوظ رہیں۔ اس قومی یادگار پر نہ صرف زیارت کے پہاڑوں سے راکٹ فائر کئے گئے بلکہ موٹر سائیکل سواروں نے عمارت پر دستی بم بھی پھینکے اور جب بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچا تو عمارت میں نصب چار مزید بم برآمد ہوئے جو اگر پھٹ جاتے تو عمارت راکھ کا ڈھیر بن جاتی مگر راکٹس اور دستی بموں سے بھی اس تاریخی عمارت کو بے پناہ نقصان پہنچا تھا۔ حکومت کی جانب سے اس عمارت کو اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان کیا گیا اور تعمیر نو کے لیے ملک کے نامور ماہر تعمیر نیّر علی دادا کی خدمات حاصل کی گئیں اور صرف 13ماہ کی مدت میں 16کروڑ کی لاگت سے دوبارہ اس عمارت کو تعمیر کیا گیا اور اُس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے عمارت کا افتتاح کیا۔ اب عمارت کے اردگرد سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ ایف سی اہلکاروں سمیت بلوچستان کانسٹیبلری کا پورا دستہ وہاں تعینات ہے۔