تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
کرسی آپ کی جان لے رہی ہے؟

کرسی آپ کی جان لے رہی ہے؟

امریکا میں قائم مایو کلینک میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جیمز لیوین کے مطابق اگر آپ یہ مضمون کھڑے ہو کر پڑھ رہے ہیں تو یہ عمل آپ کی زندگی میں کچھ اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب "Get up! : Why Your Chair is Killing You and What You Can Do About It" میں مختلف تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’ہماری کرسیاں ہمیں ہلاک کررہی ہیں۔‘‘ انہوں نے لکھا ہے کہ بیٹھے رہنا، سگریٹ نوشی سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارا یہ عمل اتنا ہلاکت خیز ہے کہ ایڈز کے ایچ آئی وی سے اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوتے جتنے بیٹھے رہنے کی عادت سے ہوتے ہیں۔ ہم بیٹھنے کی حالت میں اپنا زیادہ وقت گزار کر خود کو موت سے قریب تر کررہے ہیں۔ ڈاکٹر لیوین کے یہ دعوے ایک طبی جائزے پر مبنی ہیں جس کا نام Non-exercise activity thermogenesis یا NEAT ہے۔ یہ دراصل توانائی کی وہ مقدار ہے جو ہم سونے، کھانے اور ورزش کے سوا ہر کام میں استعمال کرتے ہیں۔ NEAT کی سرگرمیوں میں کام پر جانا، سڑک پر جمی برف کو پھائوڑے سے ہٹانا اور چہل قدمی کرنا شامل ہیں اور آپ کا جو کام جتنا زیادہ حرکت والا ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ NEAT کیلوریز آپ جلاتے ہیں۔ ڈاکٹر لیوین کہتے ہیں کہ جو لوگ دبلے پتلے ہوتے ہیں، وہ فربہ افراد کے مقابلے میں روزانہ تقریباً سوا دو گھنٹے زیادہ کھڑے رہتے اور زیادہ چلتے ہیں۔ اگرچہ ان اضافی دو گھنٹوں میں نسبتاً کم سرگرمی نظر آتی ہے لیکن ان کی وجہ سے صحت پر بہت زیادہ مثبت اثرات پڑتے ہیں اور صرف مٹاپے سے ہی نجات نہیں ملتی۔ اگر NEAT کی مقدار کم ہو تو اس سے جہاں اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہیں وزن بڑھ جاتا ہے۔ ذیابیطس، دل کے دورے اور کینسر کے امکانات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیوین کے مطابق کم NEAT کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایسے دفاتر اور کلاس رومز بنائے جائیں جہاں کھڑے ہوکر کام کیا جائے۔ ڈیسک اتنے اونچے ہوں کہ آپ کو پائوں پر کھڑا ہونا پڑا۔ انہوں نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ جن کام کی جگہوں پر لوگ زیادہ چلتے پھرتے اور کھڑے رہتے ہیں، ان کی پیداواری استعداد زیادہ ہوتی ہے اور ایسے لوگ زیادہ پیداواری افرادی قوت ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں نے اس قسم کے پروگرامز پر عمل کیا، ان کی بنیادی پیداواریت میں لگ بھگ 11فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سوئیڈن، جرمنی اور امریکا کے جن کلاس رومز میں طلبہ کو کھڑے ہو کر کام کرنا پڑا وہاں اوسطاً دیگر بچوں کے مقابلے میں ان کے گریڈز میں 10؍ سے 15؍ فیصد بہتری آئی۔ تاہم اسٹینڈنگ آفیسز اور کلاس رومز پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ دن بھر ڈیسک کے سامنے کھڑے رہنے سے صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ’’ٹورنٹو ورکرز ہیلتھ اینڈ سیفٹی سینٹر‘‘ کی ایک ریسرچ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت دیر تک کھڑے رہنے سے پیٹھ، کمر اور پائوں میں درد شروع ہوسکتا ہے اور Varicose Veins کا مسئلہ بھی سامنے آسکتا ہے جس میں پائوں کی رگوں میں خون کی پھٹکیاں دوران خون میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور ٹانگوں میں سوجن اور درد کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔  دوسری جانب امریکی طبی جریدہ ’’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘‘ میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ ہر 30 منٹ پر وہ اپنی نشست سے اٹھ کر تھوڑی دیر چلیں پھریں کیونکہ بہت دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے طبعی عمر سے پہلے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ریسرچرز نے کہا ہے کہ بیٹھنے کی حالت میں وقت گزارنے اور کسی بھی سبب سے موت میں ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ تقریباً 8 ہزار بالغ افراد کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیسے جیسے آپ کے بیٹھنے کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے، اسی حساب سے طبعی عمر سے پہلے موت کے خطرے میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی مثبت خبر یہ ہے کہ جو لوگ ایک وقت میں 30؍ منٹ سے بھی کم وقت، اپنی نشست پر بیٹھے رہے ان میں طبعی عمر سے پہلےموت کا خطرہ سب سے کم دیکھا گیا۔ اس جائزہ رپورٹ کے مصنف اور کولمبیا یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنس دان کیتھ ڈائز کہتے ہیں کہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بھی ہم سب پر زور دیتی ہے کہ ’’کم بیٹھیں، زیادہ حرکت کریں‘‘ ہم نے بھی اپنی تحقیق میں یہ دیکھا ہے کہ مسلسل بیٹھے رہنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ نقصان اس وقت بھی ہوتا ہے جب آپ ورزش کی عادت اپناتے ہیں۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ مسلسل 30؍ منٹ تک ایک جگہ بیٹھے رہنے کے بعد اٹھ جائیں اور پانچ منٹ تک ذرا تیز قدموں کے ساتھ چلیں پھریں۔ پھر اپنے کام کی جگہ پر واپس آکر 30؍ منٹ تک کام کریں، پھر اٹھ جائیں اور چہل قدمی کریں یعنی مسلسل جم کر ایک جگہ نہ بیٹھیں، تھوڑی تھوڑی دیر سے اٹھ کر چلیں پھریں۔ ایک اور رپورٹ جو ’’جرنل آف ہیپاٹالوجی‘‘ میں شائع ہوئی ہے اور جس میں ادھیڑ عمر کوریائی باشندوں کو شریک کیا گیا تھا، اس میں یہ دیکھا گیا کہ ایک جگہ بیٹھے رہنے کی عادت اور غیر متحرک طرز زندگی اختیار کرنے والے افراد میں جگر کے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جگر کی خرابی عموماً شراب نوشی سے ہوتی ہے لیکن جو لوگ شراب نہیں پیتے ہیں، ان کے جگر بھی ناکارہ ہوسکتے ہیں اور یہ خرابی NAFLD کہلاتی ہے جو Non-Alcoholic Fatty Liver Disease کا مخفف ہے۔ جو لوگ جسمانی طور پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں مختلف مزمن بیماریوں کا خطرہ اور ان کے نتیجے میں موت کا امکان کم ہوتا ہے لیکن ایک اوسط شخص دن کے جس حصے میں جاگ کر وقت گزارتا ہے، اس کا آدھے سے زیادہ حصہ غیر متحرک سرگرمیوں میں مثلاً بہت دیر تک کمپیوٹر یا دیگر آلات کے سامنے بیٹھ کر گزرتا ہے۔ ٹائلٹ میں کموڈ پر بیٹھنا، ڈائننگ ٹیبل کے سامنے کرسی پر بیٹھنا، کار چلاتے وقت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا اور میٹنگ میں ڈیسک کے گرد بیٹھنا، اس کے علاوہ غیر متحرک سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ حال ہی میں اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ اضافی جسمانی سرگرمی کے باوجود غیر متحرک رویئے سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے جو بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں، ان میں مٹاپا، ذیابیطس، انسولین سے مزاحمت، میٹابولک سنڈروم، قلبی شریانی امراض، کینسر حتیٰ کہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ کوریائی جائزے میں ایک لاکھ 40؍ہزار مقامی باشندوں کو شریک کیا گیا تھا اور مارچ 2011ء اور دسمبر 2013ء کے درمیان ان کی صحت جانچی گئی تھی۔ اس دوران ان کی جسمانی سرگرمیاں اور بیٹھنے کے دورانئے کا بھی اندازہ لگایا گیا تھا۔ ان کے جگر میں چربی کی مقدار کا تعین کرنے کیلئے الٹراسونوگرافی سے مدد لی گئی تھی۔ جن لوگوں کا جائزہ لیا گیا ان میں سے تقریباً 40؍ ہزار میں NAFLD کی تصدیق ہوئی تھی اور ریسرچرز نے یہ دیکھا تھا کہ بہت زیادہ دیر تک بیٹھنے کی عادت اور محدود جسمانی سرگرمیاں اس کے لئے ذمے دار تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں تعلق ان مریضوں میں بھی دیکھا گیا جن کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) 23 سے بھی کم تھا۔