تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
دنیا بھر میں 25سال کی عمر کے بعد فالج کا خطرہ بڑھ گیا ہے

دنیا بھر میں 25سال کی عمر کے بعد فالج کا خطرہ بڑھ گیا ہے

ایک نئے طبّی جائزے میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پوری دُنیا میں ایک چوتھائی افراد 25 سال کی عمر کے بعد فالج کے حملے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ افریقہ میں صحارا کے ذیلی خطے کے لوگوں میں یہ خطرہ مشرقی ایشیا اور وسطی و مشرقی یورپ کے باشندوں کے مقابلے میں پانچ گنا کم جبکہ آخر الذکر خطوں کے افراد میں فالج کا خطرہ سب سے زیادہ بڑھا ہوا دیکھا گیا۔ ریسرچرز نے اپنی تحقیق میں یہ دیکھا ہے کہ 1990ء میں 25 سال کے بعد فالج کا خطرہ تقریباً 23 فیصد افراد میں تھا جو 2016ء میں 25 فیصد تک بڑھ گیا۔ امریکا میں مرد اور خواتین دونوں صنفوں میں یہ خطرہ 19 فیصد تھا تاہم چین میں 25 سال کے بعد فالج کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھا ہوا دیکھا گیا جو تمام ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ جائزہ رپورٹ ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئی ہے جس کے لئے ریسرچ ٹیم نے ’’گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹڈی‘‘ کا ڈیٹا استعمال کیا تھا جس میں مختلف بیماریوں، زخموں اور خطرناک عوامل کی وجہ سے موت کا تعین کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مصنفین نے پہلی بار پیش آنے والے فالج کے دونوں اقسام کے واقعات کا احاطہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک خرابی اسکیمک (Ischemic) کہلاتی ہے جس میں دماغ کے اندر خون لے جانے والی کوئی نالی مسدود ہو جاتی ہے اور دُوسری قسم کا فالج ہیمرجک (Hemorrhagic) کہلاتا ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے اندر کوئی شریان پھٹ جاتی ہے۔ 195 ملکوں اور علاقوں سے حاصل شدہ ڈیٹا کا 1990ء اور 2016ء کے درمیان جائزہ لیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کے جائزوں میں فالج کے خطرے کے ابتدائی واقعات کیلئے 45 سال کی عمر کی حد مقرر کی گئی تھی لیکن یہ پہلا جائزہ تھا جس میں 25 سال کی عمر کو فالج کے پہلے حملے کیلئے قابل غور سمجھا گیا تھا۔ دُنیا کے تین خطے ایسے ہیں جہاں زندگی میں کسی وقت فالج کا سب سے زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔ مشرقی ایشیا میں یہ خطرہ 38.8 فیصد، وسطی یورپ میں 31.7 اور مشرقی یورپ میں31.6 فیصد تھا۔ مجموعی طور پر سب سے زیادہ خطرہ چین میں دیکھا گیا جس کے بعد کے تمام ممالک کا تعلق مشرقی یورپ سے ہے جن میں لیٹویا، رومانیہ، مونٹے نیگرو، بوسنیا اور ہرزے گووینا شامل ہیں۔ جن ملکوں میں خطرے کی شرح 11 فیصد سے کم دیکھی گئی، وہ صحارا کے نیچے کے افریقی ممالک ہیں جن میں وسطی افریقی جمہوریہ، لیسوتھو، صومالیہ، سوازی لینڈ، یوگینڈا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ہیلتھ میٹرکس سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر گریگوری روتھ کہتے ہیں کہ اس ریسرچ کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کو 25 سال سے زیادہ عمر کے مریضوں سے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے بارے میں گفتگو کرنی چاہئے اور انہیں صحت بخش خوراک، باقاعدگی سے ورزش اور سگریٹ و شراب نوشی ترک کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور پالیسی سازوں پر بھی زور دیا کہ وہ کولیسٹرول اور ہائی بلڈپریشر کی دوائوں کی قیمت کم کرانے میں بھی کردار ادا کریں۔