January 07, 2019
آپ کی ناک کیوں بہتی ہے؟

آپ کی ناک کیوں بہتی ہے؟

نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار کی کیفیت میں اکثر لوگوں کی ناک یا تو بند ہوجاتی ہے یا بہنے لگتی ہے اور لیس دار سیال مادہ نتھنے سے باہر آنے لگتا ہے، ساتھ میں لگاتار چھینکیں بھی آتی ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو اس بات پر حیرت ہو کہ بند یا بہتی ہوئی ناک کیلئے عام طور پر ناک کے اندر موجود سیال مادہ یا Mucus ذمہ دار نہیں ہوتا ہے بلکہ ناک کی اندرونی دیوار کی سوجن اور سوزش اس کا سبب ہوتی ہیں۔ اگر ناک جراثیم یا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوجائے یا حساسی ردعمل (Allergic Reaction) کا اظہار کرنے لگے تو جسم کا مدافعتی نظام بڑی مقدار میں کیمیائی پیغامبر تیار کرنا شروع کردیتا ہے جو ناک کی اندرونی دیواروں کے ساتھ لگی ہوئی خون کی باریک نالیوں کو پھیلا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ بڑی تعداد میں خون کے سفید خلیات اس علاقے میں داخل ہونے لگتے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ انفیکشن کا مقابلہ کریں لیکن اس کے ساتھ خون کی نالیوں سے رسائو بھی شروع ہوجاتا ہے اور ٹشوز میں سیال مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔ہماری ناک کے اندر بہت چھوٹے بال جیسی چیز ہوتی ہے جو ناک میں رسنے والے چپچپے مادے کو حلق کے پیچھے کی جانب حرکت دیتی رہتی ہے تاکہ مریض یا تو اسے نگل لے یا کھنکھار کر باہر تھوک دے۔ یہ لیسدار مادہ Glycoproteins ہوتے ہیں جو پانی میں حل ہوکر جل جیسا مادہ بن جاتے ہیں۔ یہی چپچپا مادہ تباہ شدہ وائرسیز کے ملبے کو اپنی گرفت میں لے کر باہر نکالتا ہے۔ جسم میں پانی جتنا زیادہ ہوگا، یہ لیسدار مادہ اتنی ہی تیزی سے بہے گا۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ مادہ بنتا کہاں ہے تو ہماری ناک کی اندرونی دیواروں کے ساتھ بہت سے Goblet خلیات ہوتے ہیں جو یہ چپچپا مادہ تیار کرتے ہیں۔ جب ناک سوزش یا انفیکشن کا شکار ہوتی ہے تو سوزش کی خبر دینے والے کیمیائی مادے خون کی نالیوں کو پھیلنے کی ہدایت کرتے ہیں جس سے پانی کو ٹشوز میں رسنے کا موقع مل جاتا ہے پھر یہ پانی لیسدار مادے کو مزید پتلا کرتا ہے اور یوں ناک بہنے لگتی ہے۔ ناک کھولنے کیلئے جو دوائیں استعمال کی جاتی ہیں، ان میں ایک کیمیکل شامل ہوتا ہے جو ایڈرینالین جیسا ہوتا ہے اور یہ کیمیائی مادہ خون کی نالیوں کو سکیڑ دیتا ہے جس سے سیال مادے کا رسائو تھم جاتا ہے۔