January 07, 2019
سیڑھیاں طے کرکے دل کی صحت کا اندازہ لگائیں

سیڑھیاں طے کرکے دل کی صحت کا اندازہ لگائیں

آپ کتنی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں؟ یہ جاننا یوں اہم ہے کہ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو امراض قلب یا کینسر کے خطرے میں مبتلا سمجھتا ہے تو وہ اپنے اس خدشے کی سیڑھیاں طے کرنے والی ایک ہلکی ورزش کے ذریعہ تصدیق یا تردید کر سکتا ہے۔ یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی میں پیش کردہ ایک نئے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ایک ورزشی ٹیسٹ سے جس میں تیز حرکت کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس سے یہ پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ اس ٹیسٹ سے گزرنے والا فرد دل کی بیماری یا کینسر یا کسی اور مرض میں گرفتار ہو کر طبعی عمر سے پہلے موت کا خطرہ رکھتا ہے یا نہیں۔ بہت سے لوگ اپنے گھر پر کسی طبی آلے کے بغیر یہ آسان ٹیسٹ آزما سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے انہیں بہت تیزی سے سیڑھیوں کی چار منزلیں طے کرنی ہوں گی۔ ایک صحت مند شخص کو یہ ٹیسٹ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لینا چاہئے۔ امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے رکن اور کارڈیوویسکولر پری ونشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اینڈریو فری مین کہتے ہیں کہ ’’یہ جائزہ اس نظریئے کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ ورزش، قلبی شریانی امراض اور کینسر سے بچائو کے ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ایک طویل عرصے سے ہمیں یہ بات معلوم ہے اور جب ہم کسی کی سرجری کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے اس کے بارے میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس کا دِل اس قابل ہے کہ وہ اس مرحلے کو آسانی کے ساتھ گزار لے؟ مریض سے ہم ٹیسٹنگ سے پہلے ایک یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ آپ کتنی دیر اور دُور تک پیدل چل سکتے ہیں؟ اور کیا آپ آسانی کے ساتھ سیڑھیاں طے کرلیتے ہیں؟‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر کوئی شخص سیڑھیاں طے کرنے کے قابل بھی ہے تو یہ اس بات کی اچھی علامت ہے کہ وہ سرجری کے مرحلے سے آسانی کے ساتھ گزر سکے گا۔ یہ بات تو سمجھ میں آنے والی ہے کہ تیز ورزش سے قلبی شریانی مسائل کیلئے لاحق خطرات کا اندازہ لگانا ممکن ہے لیکن کینسر سے اس کا تعلق کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ ڈاکٹر فری مین نے وضاحت کی کہ یہ بات تو بہت دنوں سے لوگ جانتے ہیں کہ کینسر کے علاج کے بعد ورزش کے ذریعہ صحت یابی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ورزش سے ہم کینسر سے خود کو محفوظ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناکامی سے انسان سیکھتا ہے اور یہی ناکامی اس کا معلم بھی ہوتی ہے، اس لئے اگر کوئی شخص سیڑھیاں طے کرنے والے ٹیسٹ میں ناکام ہو جائے تو اسے اپنے ڈاکٹر سے مل کر وجہ جاننی چاہئے اور پھر وزن کم کرنے اور دیگر خرابیوں پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایسی ورزش کی عادت اپنانی چاہئے جس میں سانس پھولنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے مریضوں کو یہ عمومی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ روزانہ 30 منٹ کی ایسی ورزش کریں کہ ان کی سانس پھولنے لگے۔ روزانہ اگر ورزش کے دوران سانس تیزی سے چلے گی تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ کی صحت بہتر ہوگی اور آپ طویل عرصہ زندہ رہ سکیں گے۔ فری مین نے کہا کہ درحقیقت ورزش تمام بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ بہت سی چیزیں جو صحت کو بہتر رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، انہیں ہم قابل توجہ نہیں سمجھتے یا کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ مثلاً ہم روزانہ کتنی ورزش کرتے ہیں، ہم کیا کچھ کھاتے ہیں، ذہن کو کتنا دبائو میں رکھتے ہیں اور کتنی دیر تک سوتے ہیں؟ یہ ساری چیزیں ہمیں صحت مند رکھنے میں معاونت کرتی ہیں لہٰذا ان کا خیال رکھنا چاہئے۔