January 07, 2019
سنتوش کمار… لاثانی رومانی ہیرو

سنتوش کمار… لاثانی رومانی ہیرو

جن فنکاروں نے پاکستان فلم انڈسٹری کے ابتدائی دور میں شاندار پرفارمنس سے اپنی دھاک بٹھائی، ان میں سنتوش کمار کا نام سرفہرست ہے۔ لاہور کے ایک سید گھرانے میں آج سے 93 سال پہلے25؍دسمبر 1925ء کو ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام موسیٰ رضا رکھا گیا، اس نے آگے چل کر پاکستانی فلمی صنعت کی آبیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سید موسیٰ رضا کا فلمی نام سنتوش کمار رکھا گیا کیونکہ اس دور میں انڈین فلموں کا غلبہ تھا اور راج کمار، دلیپ کمار، کشور کمار، پردیپ کمار جیسے نام رائج تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب فلم ’’اہنسا‘‘ بن رہی تھی، اس وقت ان کا فلمی نام سنتوش کمار رکھا گیا۔ ان کے والد سول سرونٹ تھے۔ سنتوش کمار نے حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن اور مدراس یونیورسٹی سے ماسٹرز کا امتحان پاس کرنے کے بعد سول سروس کا امتحان بھی پاس کرلیا تھا لیکن سول سروس جوائن کرنے کے بجائے انہوں نے فلمی دنیا میں طالع آزمائی کو ترجیح دی۔
پاکستان کی فلمی تاریخ کے پہلے رومانٹک ہیرو سنتوش کمار ایک انتہائی خوبرو، پروقار اور پُرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے کریڈٹ پر کئی یادگار فلمیں ہیں جو پاکستان فلم انڈسٹری کا سرمایہ ہیں۔ اس عظیم فلمی ہیرو کی شریک حیات صبیحہ خانم بقید حیات ہیں۔ سنتوش کمار کے ساتھ سب سے زیادہ فلموں میں ہیروئن بھی وہی تھیں۔ صبیحہ اور سنتوش کی مثالی فلمی جوڑی کی پہلی فلم’’ بیلی‘‘ 1950ء میں اور آخری فلم ’’دیوانے دو‘‘ 1985ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ سنتوش کمار نے آزادی سے قبل1947ء میں دو فلموں ’’اہنسا‘‘ اور ’’میری کہانی‘‘ میں کام کیا تھا لیکن پاکستان میں ان کی پہلی فلم ’’ بیلی‘‘ ہی تھی۔
35سالہ فلمی کیریئر میں ’’صبیحہ، سنتوش‘‘ جوڑی کو 40سے زائد فلموں میں ایک ساتھ دیکھا گیا، جن میں سے 30کے قریب فلموں میں وہ روایتی جوڑی یا مرکزی کرداروں میں تھے جبکہ دیگر فلموں میں ’’ینگ ٹو اولڈ‘‘ جیسے کرداروں میں نظر آئے۔ فلم ’’دو آنسو‘‘ پاکستان کی پہلی کامیاب اردو فلم تھی، جس نے سلور جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔ اس فلم کے مرکزی کردار تو شمیم اور ہمالیہ والا نے کئے تھے لیکن روایتی ہیرو کے طور پر سنتوش کمار کے مقابل صبیحہ خانم تھیں۔ سنتوش اور صبیحہ کی ’’قاتل‘‘ اور ’’انتقام‘‘ بھی بڑی فلمیں تھیں، جن کے ہدایتکار انور کمال پاشا اور موسیقار ماسٹر عنایت حسین تھے۔ اس فلم کا گیت ’’الفت کی نئی منزل کو چلا، یوں ڈال کے بانہیں بانہوں میں‘‘ موسیقی کے متوالوں کا لہو گرم کرنے کا سبب بنا، جو اقبال بانو نے گایا تھا۔ فلم ’’نذرانہ‘‘ میں سنتوش کمار، راگنی کے ہیرو بنے تھے۔ ’’پتن‘‘ مسرت نذیر کی بطور ہیروئن پہلی فلم تھی۔ اس میں سنتوش کمار ان کے ہیرو تھے۔ فلم ’’حمیدہ‘‘ اور ’’سرفروش‘‘ بھی کامیاب فلمیں تھیں۔ ’’سرفروش‘‘ میں سنتوش کمار کا ادا کیا ہوا یہ مکالمہ زبان زد خاص وعام ہوا تھا ’’چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض…!‘‘
امتیاز علی تاج کی بطور ہدایتکار پہلی فلم ’’گلنار‘‘ میں سنتوش کی جوڑی میڈم نورجہاں کے ساتھ تھی۔ یہ موسیقار غلام حیدر کی پاکستان میں آخری فلم تھی۔ فلم ’’لخت جگر‘‘ کے ہیرو سنتوش کمار تھے اور ان کی ہیروئن صبیحہ خانم اور میڈم نورجہاں تھیں۔ ان دونوں فلموں میں اعجاز اور حبیب کو متعارف کرایا گیا تھا جو آگے چل کر بڑے فلم اسٹار ثابت ہوئے۔ ’’قسمت‘‘ اور ’’مس 56‘‘ میں سنتوش کے مقابل مسرت نذیر اور میناشوری نے اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھلائے۔ سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کی دیگر فلموں میں ’’غلام‘‘، ’’رات کی بات‘‘، ’’مسکراہٹ‘‘، ’’مکھڑا‘‘، ’’حسرت‘‘، ’’تیرے بغیر‘‘، ’’نغمہ دل‘‘ اور ’’ناجی‘‘ شامل ہیں۔ فلم ’’ناجی‘‘ کی پروڈیوسر خود صبیحہ خانم تھیں۔ 8سال ساتھ کام کرتے کرتے دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے اور پھر یکم اکتوبر 1958ء کو سنتوش کمار نے صبیحہ خانم کے ساتھ دوسری شادی کرلی۔ سنتوش کمار کی پہلی شادی جمیلہ نامی ایک گھریلو خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کی دونوں بیگمات کے مابین تعلقات انتہائی خوشگوار تھے اور دونوں ایک ہی گھر میں رہا کرتی تھیں۔ 1960ء میں فلم ’’شام ڈھلے‘‘ بنی، جس کے فلمساز اور ہدایتکار سنتوش کمار خود تھے اور اس میں صبیحہ خانم ہی ان کی ہیروئن تھیں۔ ہدایتکار خلیل قیصر کی فلم ’’حویلی‘‘ اور بالخصوص ڈبلیو زیڈ احمد کی یادگار فلم ’’وعدہ‘‘ میں سنتوش کمار نے لاجواب اداکاری کی۔ اس فلم کا ایک گیت، جو شرافت حسین نے گایا، آج تک مقبول ہے، جس کے بول ہیں ’’تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں، جب ترے شہر سے گزرتا ہوں۔‘‘ ہدایتکار حسن طارق نے کہانی نویس علی سفیان آفاقی کی اردو فلم ’’کنیز‘‘ میں پہلی بار تین بڑے سپر اسٹارز سنتوش کمار، محمدعلی اور وحید مراد کو اکٹھا کیا تھا۔ فلم ’’نائلہ‘‘ سپرہٹ ثابت ہوئی، جس میں سنتوش کمار کی جوڑی شمیم آراء کے ساتھ تھی جبکہ درپن نے نیم ولن کا رول ادا کیا تھا۔ یہ ان تینوں فنکاروں کی پہلی رنگین فلم تھی۔ سنتوش کمار کی دیگر نمایاں فلموں میں ’’دیور بھابھی‘‘، ’’آواز‘‘، ’’عشق لیلیٰ‘‘، ’’انتظار‘‘، ’’سات لاکھ‘‘، ’’سردار‘‘، ’’سلطنت‘‘، ’’موسیقار‘‘، ’’گھونگھٹ‘‘، ’’چن وے‘‘، ’’جان آرزو‘‘، ’’ووہٹی‘‘، ’’انجمن‘‘ (1970ء)، ’’گرہستی‘‘ اور ’’سلام محبت‘‘ (1971ء) شامل ہیں۔ یہ وہ دور تھا، جب وحید مراد اور محمد علی سپر اسٹار بن چکے تھے اور اردو فلم بین بظاہر سنتوش کمار، سدھیر، درپن اور حبیب وغیرہ سے اکتا چکے تھے۔ مبصرین کے مطابق سنتوش کمار کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی اداکاری میں ایک ٹھہراؤ سا آگیا تھا۔
1957ء میں جب پاکستان میں پہلی بار فلمی ایوارڈز دیئے گئے تو سنتوش کمار کو فلم ’’انتظار‘‘ کیلئے بہترین اداکار کا پہلا نگار ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز ملا تھا۔ 1962ء اور1963ء میں بھی ان کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1973ء میں سنتوش کمار نے آخری بار پنجابی فلم ’’شرابی‘‘ میں ٹائٹل رول کیا تھا۔ جس کے بعد ان کے کیریئر پر زوال کے سائے منڈلانے لگے اور ان کی فلمی مصروفیات کم ہوگئیں۔ اس دور میں انہیں ایک انٹرنیشنل کمپنی میں ملازمت بھی کرنی پڑی۔ سنتوش کمار نے 36سال قبل11 ؍جون 1982ء کو محض57برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کیا۔ وہ لاہور میں مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سنتوش کمار کو 2016ء میں (بعد از مرگ) ستارۂ امتیاز عطا کیا گیا۔ ’’مس ہپی‘‘، ’’طلاق‘‘، ’’آنگن‘‘ اور ’’دیوانے دو‘‘ سنتوش کمار کے انتقال کے بعد ریلیز ہونے والی ان کی فلمیں تھیں۔ سنتوش کمار نے اپنے 35سالہ فلمی کیریئر میں 85 کے لگ بھگ فلموں میں کام کیا۔ ’’شام ڈھلے‘‘(1960ء) اکلوتی فلم ہے، جس کے فلمساز اور ہدایتکار سنتوش کمار خود تھے جبکہ فلمساز کے طور پر ان کی فلمیں ’’دامن‘‘ (1963ء) اور ’’تصویر‘‘ (1966ء) تھیں۔
سنتوش کمار کی فیملی میں کئی افراد کا تعلق شوبز کی دنیا سے رہا۔ سنتوش کمار کے بھائی درپن نامور ہیرو رہے، دوسرے بھائی ایس سلیمان نے ہدایت کاری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ایک اور بھائی منصور نے بھی اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمائی مگر زیادہ کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ نہ صرف سنتوش کمار کی اہلیہ صبیحہ خانم بلکہ بھابھی نیّر سلطانہ (درپن کی اہلیہ) اور زرین پنا (ایس سلیمان کی شریک حیات) بھی اداکارہ کے طور پر فلمی صنعت سے وابستہ رہیں۔
ممتاز ہدایت کار ایس سیلمان اپنے بڑے بھائی کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ’’سنتوش کمار کی پرفارمنس حقیقت سے قریب تر اور متنوع ہوا کرتی تھی۔ وہ اسکرین پر سنتوش کمار نہیں بلکہ صرف ایک کیریکٹر نظر آتے تھے۔ فلم ’اہنسا‘ کے پروڈیوسر نوین صاحب نے ان کا نام موسیٰ رضا سے بدل کر سنتوش کمار رکھا تھا۔ وہ ہمارے والد کی طرح تھے، ہر موقع پر رہنمائی کی۔ سنتوش بھائی نے ہمیں زندگی کا فلسفہ اور جینا سکھایا۔ مجھے ڈائریکشن کے شعبے میں لانے والے بھی وہی تھے۔ انہی کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے کامیابی کی منزل پائی۔‘‘