تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
مریخ پر تحقیق میں پیش رفت

مریخ پر تحقیق میں پیش رفت

مریخ سے آنے والی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف یورپ کے خلائی ادارے ’’ای ایس اے‘‘ نے برف سے بھرے ایک گڑھے کی تصویر جاری کی ہے تو دوسری طرف ناسا کا مشن ’’اِن سائٹ‘‘ بھی اپنے مختلف آلات کو کام میں لا رہا ہے۔ زمین کا قطبِ شمالی اپنے برفانی مناظر کیلئے مشہور ہے۔ تاہم سردیوں میں صرف زمین پر برف باری نہیں ہوتی۔ یورپی خلائی ادارے نے مریخ کے قطب شمالی کے قریب واقع کورولیو کریٹر کی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ کریٹر 82کلومیٹر چوڑا ہے اور 1.8کلومیٹر کی گہرائی تک برف سے بھرا ہے۔ یہ تصاویر مارز ایکسپریس ہائی ریزولیوشن کیمرے سے لی گئی ہیں۔ مارز ایکسپریس مِشن ’’ای ایس اے‘‘ کا کسی دوسرے سیارے پر بھیجا جانے والا پہلا مشن ہے۔ اسے دو جون 2003ءمیں لانچ کیا گیا اور اسی سال 25دسمبر کو یہ مریخ کے مدار میں داخل ہو گیا۔ امریکی خلائی ادارے’’ ناسا‘‘ کے مریخ پر بھیجے جانے والے تازہ ترین مِشن ’’اِن سائٹ‘‘ نے اپنے آلات استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ مِشن کے روبوٹِک بازو نے ایک ایسا گھنٹی نما آلہ اپنے سامنے فرش پر رکھ دیا ہے جو زلزلوں کو ناپنے کا کام کرے گا۔ فرانس اور برطانیہ میں بنایا گیا یہ آلہ مریخ پر آنے والے زلزلوں سے، جنہیں ’مارز کویک‘ کہا جا رہا ہے، پیدا ہونے والی آوازوں کو سننے کی کوشش کرے گا، جس سے مریخ کی اندرونی ساخت کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ ’’اِن سائٹ‘‘ نے گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں مریخ کے اِکویٹر یعنی خطِ استوا کے قریب کامیاب لینڈِنگ کی تھی۔ زلزلوں کو ناپنے والے آلے (سیسمومیٹر) کے علاوہ ’’اِن سائٹ‘‘ میں درجۂ حرارت کو ناپنے والا آلہ بھی لگا ہے جو پانچ میٹر زیر زمین جا سکتا ہے۔ یہ سارا ڈیٹا مجموعی طور پر مریخ کی سطح پر پتھروں کی تہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ ان معلومات کا موازنہ پھر زمین کے ڈیٹا کے ساتھ کیا جاسکے گا۔ سیسمومیٹر کو مریخ کی ہواؤں کے شور اور بدلتے درجۂ حرارت سے بچانے کے لیے اس پر ایک غلاف لگایا گیا ہے۔