تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
فورٹ نائٹ گیم نوجوان ہیکرز کی کمائی کا ذریعہ

فورٹ نائٹ گیم نوجوان ہیکرز کی کمائی کا ذریعہ

آن لائن گیمز آج کل نوجوانوں اور نو عمر بچوں میں بہت زیادہ مقبوہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ 14سال کی عمر تک کے بچے ایک عالمی ہیکنگ نیٹ ورک کی مدد سے ہر ہفتے ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔ مقبول آن لائن ویڈیو گیم فورٹ نائٹ کھیلنے والوں کے اکاؤنٹس ہیک کیے جاتے ہیں اور انہیں دوسرے لوگوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ فورٹ نائٹ ویسے تو مفت گیم ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق اس نے گیم میں شامل مختلف قسم کی ’’سکنز‘‘ کی فروخت سے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کمائے ہیں۔ یہ ’’سکنز‘‘ کردار کی شبیہ تبدیل کر دیتی ہیں۔ گیم کھیلنے والے یہ ’’سکنز‘‘ خرید سکتے ہیں۔ تاہم یہ صرف دکھانے کے لیے ہوتی ہیں اور ان سے انہیں گیم کے دوران کسی قسم کی مدد نہیں ملتی۔ فورٹ نائٹ گیم کی وجہ سے ہیکروں کی ایک بلیک مارکیٹ وجود میں آ گئی ہے، جہاں ایک اکاؤنٹ ہیک کر کے اسے 25سینٹ سے لے کر سینکڑوں ڈالرز تک میںفروخت کیا جاتا ہے۔ فورٹ نائٹ بنانے والی کمپنی ایپک نے اس تحقیقات پر تبصرہ نہیں کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس گیم کی سیکورٹی کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک 14برس کے برطانوی ہیکر نے بتایا کہ وہ خود بھی اس قسم کی ہیکنگ کا شکار ہوا تھا جس کے بعد اس نے خود ہیکنگ شروع کردی۔ ایک ہیکنگ ٹیم نے خود ان سے رابطہ کیا اور انہیں اپنا حصہ بنالیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں دوسروں کے چوری شدہ یوزر نیم اور پاس ورڈ کہاں سے مل سکتے ہیں اور ہیکنگ ٹولز کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مدد سے فورٹ نائٹ کے اکاؤنٹس کو کیسے ہیک کیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ہی دن میں ایک ہزار سے زیادہ فورٹ نائٹ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی۔ سینکڑوں ہیکرز فورٹ نائٹ کے اکاؤنٹس کھلے عام ٹوئٹر اور دوسرے پلیٹ فارموں پر فروخت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے سائبر سیکورٹی حکام اس معاملے پر تشویش کا شکار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آن لائن کمپنیاں اپنی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لیں اور گیمنگ انڈسٹری سیکورٹی اداروں سے تعاون کرے۔ فورٹ نائٹ جیسی مقبول گیم، جس کے کھلاڑیوں کی تعداد 20کروڑ سے زیادہ ہے، اسے بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیکورٹی فیچرز کو بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں۔