تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
آپ ہر وقت ڈیجیٹل آلات استعمال کرتے ہیں؟

آپ ہر وقت ڈیجیٹل آلات استعمال کرتے ہیں؟

جس طرح سے ہم اپنے کھانے پینے کے معمول کو کنٹرول کرتے ہیں اسی طرح ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ہم سب کو گاجر اور دیگر سبزیوں کی افادیت معلوم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر وقت سبزی ہی کھاتے ہیں؟ کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال، فائدے کی بجائے الٹا نقصان پہنچاتا ہے اور ہم میں سے بہت سے لوگ ٹیکنالوجی کے کثرت سے استعمال سے خوش دکھائی دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والی کمپنی گلوبل ویب انڈیکس کی جانب سے 34 ممالک میں کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد روزانہ اوسطً چھ گھنٹے تک آن لائن رہتے ہیں۔ ان ممالک میں شامل تھائی لینڈ، فلپائن اور برازیل میں لوگ روزانہ نو گھنٹے سے بھی زیادہ وقت آن لائن رہتے ہیں جس میں ایک تہائی وقت سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اب بھی اس کے ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات پر سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ کینیڈا میں بچوں اور بالغوں کی دماغی صحت کی ماہر ڈاکٹر شمی کانگ کی توجہ بھی ٹیکنالوجی کی لت میں مبتلا افراد پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کا اضطراب، ذہنی دباؤ، خود سے بیزاری کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ کے کثرت سے استعمال کی اب طبی تشخیص کی جاتی ہے۔ جیسے خوراک میں صحت مند کھانوں کے ساتھ سپر فوڈ اور جنک فوڈ دستیاب ہوتے ہیں اسی طرح ٹیکنالوجی کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور اگر آپ ان کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس کے آپ کے دماغ پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر کانگ کا کہنا ہے کہ ہمارا دماغ ٹیکنالوجی سے رابطے میں آنے پر کیمیائی تبدیلی سے گزرتا ہے اور ہمارے جسم میں چھ مختلف قسم سے نیورو کیمیکل جاری کرتا ہے جن کی تفصیلات کچھ یوں ہیں: سیروٹونن:یہ نیورو کیمیکل تب جاری ہوتا ہے جب ہم کچھ تخلیقی کام کر رہے ہوتے ہیں، کسی سے رابطے میں ہوتے ہیں اور کسی کام میں شامل ہوتے ہیں۔ اینڈورفن:یہ کیمیکل انسانی جسم کے لیے دردکش کی حیثیت رکھتا ہے۔ اوکسیٹاکسن: یہ معنی خیز باتوں کے تبادلے سے جاری ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ ایک مفید نیورو کیمیکل ہے، مگر انٹرنیٹ پر دوسروں کو ہدف بنانے والے افراد اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ڈوپامین: اس نیوروکیمیکل کا تعلق فوری فائدہ ملنے سے ہوتا ہے لیکن یہ ایک لت بھی ہے۔ اس کیمیکل کو ریلیز کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ ایڈرینالین:یہ نیوروکیمیکل لڑائی اور اڑان جیسی سرگرمیوں میں ہمارے ردِعمل کو منظم کرتا ہے لیکن لائیکس، پوکس اور سوشل میڈیا پر موازنے سے بھی جاری ہوتا ہے۔ کورٹیسول:یہ نیوروکیمیکل دبائو کا شکار، نیند سے محروم، بہت مصروف اور مضطرب افراد کی پہچان ہے۔ ڈاکٹر کانگ کہتی ہیں کہ مفید ٹیکنالوجی میں ہر وہ چیز شامل ہے جو دماغ کی افزائش کرنے والے سیراٹونن، اینڈورفن یا اوکسیٹاکسن کو جاری کرتی ہے۔ میڈیٹیشن ایپس، تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والی ایپس اور لوگوں کے ساتھ پکے اور سچے تعلقات کوفروغ دینے والی ایپس اس کی مثالیں ہیں۔ لیکن اگر آپ اس میں عادت کو پکا کرنے والے ڈوپامین کی اچھی مقدار ملائیں تو یہ آپ کو سوشل میڈیا کا عادی بنا دے گی۔ ڈاکٹر کانگ کہتی ہیں کہ ’’مثال کے طور پر ایک تخلیقی ایپ ہے اور آپ کا بچہ اس کا استعمال موویز بنانے کے لیے کرتا ہے۔ لیکن سوچیں اگر وہ اس ایپ کو چھ یا سات گھنٹے استعمال کرنا شروع کر دے۔ یہ کینڈی کرش کی طرح جنک ٹیکنالوجی نہیں ہے جو صرف ڈوپامین جاری کرتی ہے لیکن پھر بھی آپ کو محتاط ہونا پڑے گا اور ایک حد کا تعین کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس ہم جنک ٹیکنالوجی کا استعمال صرف خود کو تباہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ہم مضرِ صحت چیزوں کی فکر اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس میں ملنے والے فائدے میں مزا آتا ہے، جیسے فحش مواد، سائبر غنڈا گردی، جوا، سلاٹ مشین جیسی لت اور ویڈیو گیمز اور نفرت آمیز گفتگو وغیرہ۔ ڈاکٹر کانگ کا کہنا ہے کہ کسی بھی صحت مند ٹیکنالوجی ڈائٹ میں زہریلی چیزوں سے دور رہنا چاہیے۔ لیکن اعتدال میں رہتے ہوئے تھوڑا سا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم سب کو تلقین کی جاتی ہے کہ پراسسڈ کھانا اور میٹھے مشروبات سے گریز کریں لیکن ہفتے میں ایک دن بچوں کے ساتھ پیزا اور پوپ کارن کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کبھی کبھار بغیر سوچے سمجھے انسٹاگرام پر اسکرول کرنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ڈاکٹر کانگ کہتی ہیں کہ اگر آپ کو ذیابیطس ہے یا لاحق ہو سکتی ہے تو چینی کو لے کر آپ کی طبی تجویز عام لوگوں سے قدرے سخت ہو گی۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایسے فرد ہیں جس کے خاندان میں کوئی شخص کسی چیز کا عادی رہا ہے یا اضطراب، ذہنی دباؤ کا شکار رہا ہے تو آپ کو خیال رکھنا پڑے گا، کیونکہ آپ کی عادات زہریلی لت میں تبدیل ہونے کے امکانات خطرناک حد تک زیادہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں خاص طور پر بچے بہت غیر محفوظ ہوتے ہیں اور اتنی ریسرچ موجود ہے کہ آن لائن کسی مسئلے کا شکار بننے والے بچوں کا پہلے سے ہی پتہ چلایا جا سکے۔ دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی اور موبائل فون کا زندگیوں میں عمل دخل دن بدن بڑھ رہا ہے، مگر آئے دن مسلسل ایک دوسرے سے جڑی زندگیوں کے خلاف مزاحمت دیکھنے میں آتی ہے۔ گلوبل ورلڈ انڈیکس کے مطابق امریکا اور برطانیہ میں ہر 10میں سے سات انٹرنیٹ صارفین نے ’’ڈیجیٹل ڈائیٹنگ‘‘ یا ’’مکمل ڈیجیٹل ڈیٹوکس‘‘ کیا ہے۔