تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
حمیرا مغل - ان جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بسایا ہے

حمیرا مغل - ان جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بسایا ہے

پاکستانی شوبزنس میں سندھی ٹی وی ڈراموں سے اردو فلموں اور ڈراموں کی طرف آنے والے اداکاروں کی ایک طویل فہرست ہے اور حمیرا مغل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ 7؍دسمبر کو پیدا ہونے والی حمیرا کا برج قوس (Sagittarius) ہے۔ وہ انتہائی متحرک اور ہر دم کچھ نیا کرتے رہنے کی عادی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کیمرے کے پیچھے کام کرتے کرتے، جب اُنہیں خود اداکاری کی آفر ہوئی تو اُنہوں نے تھوڑے سے تردد کے بعد یہ آفر قبول کرلی اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف سندھی ڈراموں کی ایک طویل فہرست ان کے کریڈٹ پر آگئی بلکہ نجی ٹی وی چینلز پر بننے والے میگا بجٹ اردو سیریلز میں بھی وہ نظر آتی رہی ہیں۔ ’’محبت صبح کا ستارہ ہے‘‘، ’’بھول‘‘، ’’جنت‘‘، ’’مڈل کلاس‘‘ اور ’’دیا جلائے رکھنا‘‘ وغیرہ وہ ڈرامے ہیں جن میں آپ حمیرا کو فن کی باریکیوں کے ساتھ اداکاری کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ سچی، کھری اور صاف گفتگو کرنے والی حمیرا مغل کو مصنوعی پن سے کوئی رغبت نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر میں شادی شدہ ہوں اور تین سالہ بیٹی کی ماں ہوں تو میں یہ بات سب کو فخریہ انداز میں بتاتی ہوں۔ یہ میرا فن ہے کہ ڈرامے میں مجھے اداکاری کرتے دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ جیسے ابھی میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ حمیرا نے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ وہ اداکاری کے علاوہ فیشن شوٹس بھی کرواتی رہی ہیں اور کمرشل ماڈلنگ میں بھی پیش پیش ہیں۔ اکثر میوزک وڈیوز میں اُنہیں ماڈلنگ کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک برائیڈل شو کے لیے اُنہیں دبئی جانے کا موقع ملا جہاں اُنہوں نے نہ صرف اس شو میں حصہ لیا بلکہ ان کے اندر چھپا پرانا ڈائریکٹر بھی جاگ گیا۔ اُنہوں نے دبئی میں کچھ میوزک وڈیوز شوٹ کی ہیں جو اس سال منظر عام پر آنے والی ہیں۔ حمیرا کو اپنی تعریفیں سننا بھی پسند تو ہے مگر ان تعریفوں کو انہوں نے کبھی اپنے سر پر نہیں چڑھنے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ جو لوگ میری خوبصورتی کے قصیدے پڑھتے ہیں، میں اُنہیں مسکرا کر سنتی ہوں مگر جب ایکٹنگ کا موقع آتا ہے تو میں گلیمرس کرداروں سے زیادہ گاؤں کی کسی الہڑ دوشیزہ یا غریب گھرانے کی لڑکی کا کردار نبھانا زیادہ پسند کرتی ہوں۔ حمیرا کے خیال میں سندھی ڈراموں میں اداکاری کرنا، اردو سے زیادہ مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھی ان کی مادری زبان ہے، اور وہاں ہلکی سی چوک، لہجے اور تلفظ یا تاثرات میں برتی گئی کوتاہی فوراً پکڑ میں آتی ہے جبکہ اردو ڈراموں میں اداکاری کرتے وقت یہ چانس ہوتا ہے کہ ’’سندھی لڑکی ہے، کوئی بات نہیں، تھوڑی اونچ نیچ ہوگئی تو معاف کردو۔‘‘ حمیرا کا کہنا ہے کہ ماڈلنگ اور ایکٹنگ کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کرنا چاہیے، یہ دونوں بالکل ایسے ہی ہیں جیسے باکسنگ اور ریسلنگ، دونوں کی علیحدہ تکنیک اور الگ ٹریٹمنٹ ہے۔ روپ سنہرا، زلف گھنیری اور جھیل سی گہری آنکھیں، وہ ہتھیار ہیں جن کے سہارے پر حمیرا نے فن کی دنیا میں آگے کی منزلیں طے کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اُنہوں نے شوبزنس میں رہتے ہوئے بھی اپنے لیے کچھ اصول وضع کیے ہیں۔ مثلاً وہ اداکاروں کے درمیان ہونے والی رنجشوں اور سیاست سے خود کو بہت دور رکھتی ہیں۔ جتنی دیر کام ہوتا ہے اتنی دیر وہ سیٹ پر رہتی ہیں، اس کے بعد اپنے اوپر طاری کریکٹر کو سیٹ پر ہی چھوڑ کر گھر چلی جاتی ہیں۔ جہاں ایک بالکل مختلف اور اصلی زندگی اپنی مہربان بانہیں کھولے ان کا استقبال کررہی ہوتی ہیں۔ ان کے دیگر تین بہن بھائی ان سے چھوٹے ہیں مگر اُنہوں نے اس طرف آنے کی ہمت اس لیے نہیں کی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنی محنت سے باجی نے اپنے لیے مقام بنایا ہے شاید وہ اتنی محنت نہیں کرسکیں گے۔ حمیرا کے والدین کا تعلق نواب شاہ (سندھ) سے ہے مگر وہ خود کراچی میں رہتی ہیں۔ اُنہیں یاد ہے کہ بطور ٹرینی، ایک ٹی وی چینل میں اُنہیں چھ ہزار روپے پر ملازم رکھا گیا، ایک دن ان کے باس کسی ٹی وی کمرشل کی شوٹنگ کررہے تھے اور ماڈل پہنچی نہیں تھی، اُنہوں نے حمیرا کو کیمرے کے آگے یہ کہہ کر کھڑا کردیا کہ صرف ٹرائل ہے، یہ آن ایئر نہیں ہوگا۔ حمیرا نے ماڈلنگ کردی اور جب باس نے اُنہیں 20ہزار روپے کا چیک دیا تو حمیرا حیران رہ گئیں کہ ’’سر ابھی تو مہینہ بھی پورا نہیں ہوا اور چار مہینے سے بھی زیادہ کی پے منٹ؟‘‘ باس نے کہا یہ تنخواہ نہیں، تمہاری ماڈلنگ کا معاوضہ ہے۔ غیر متوقع کامیابیوں اور اچانک ملنے والی خوشیوں سے عبارت حمیرا مغل کا چھوٹا سا فنی کیریئر ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ضرور ہے، مگر حمیرا نے اپنی جھیل جیسی آنکھوں میں اک خواب بسایا ہے اور وہ خواب ہے کامیابی کا خواب۔