January 07, 2019
بابا کھوجی کا کارنامہ

بابا کھوجی کا کارنامہ

رمضو بھی ساتھ تھا۔ بابا بولا، ’’یہاں ویسے ہی نشان موجود ہیں جیسے ہم نے دلدلی علاقے میں دیکھے تھے۔‘‘ اس نے نظر اٹھا کر دیوار کو دیکھا پھر بولا۔ ’’تمہارے پاس سیڑھی ہے؟‘‘ رمضو نے گردن ہلائی اور سیڑھی لے آیا۔ بابا سیڑھی پر چڑھا اور دیوار کا جائزہ لینے لگا۔ پھر اس نے جیب سے چاک نکال کر دیوار پر کچھ نشان لگایا اور نیچے اتر آیا۔ اور سانس درست کرتے ہوئے بولا۔ ’’دیوار پر مٹی کی لپائی تازہ لگتی ہے؟‘‘
’’ہاں کل ہی میری بیوی نے لپائی کی تھی۔ ’’میرے ساتھ آئو۔‘‘ بابا پر جوش لہجے میںبولا۔ وہ چوپال پر پہنچے، بابا نے پھر سب کو جمع کرلیا اور بولا ’’ثبوت مل گئے ہیں بھولو، تمہارے پیروں کے نشان رمضو کے گھر کے پچھلے حصے میں بھی موجود ہیں۔‘‘
’’میں گائوں میں ادھر ادھر جاتا رہتا ہوں۔ وہاں بھی گیا ہوں گا۔‘‘
’’اچھا… یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہوا ہے؟‘‘
بھولو نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا جس کی ایک انگلی غائب تھی۔ ’’یہ بہت پرانی بات ہے میں گوشت بنا رہا تھا کہ غلطی سے چاقو انگلی پر جا لگا۔ بہت خون بہہ گیا تھا، انگلی بھی ضائع ہوگئی تھی۔‘‘ سب کی نظریں اس کے ہاتھ پر جم گئیں۔ جس میں دوسری انگلی غائب تھی۔ بابا بولا۔ ’’آپ لوگ دیکھ رہے ہیں بھولو کے ہاتھ میں چار انگلیاں ہیں۔‘‘ لوگوں نے گردن ہلائی۔ ’’سب میرے ساتھ آئیں۔‘‘ بابا بولا۔ وہ رمضو کے گھر کے پیچھے پہنچے۔ بابا نمبردار سے بولا، ’’آپ ذرا تکلیف کریں۔‘‘ نمبردار سیڑھی پر چڑھا پھر نیچے اتر آیا۔ وہ بھولو کو گھور رہا تھا۔ دوسرے لوگ بھی اوپر گئے اور نشان دیکھا۔ آخر بھولو کو بھی اوپر چڑھایا گیا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ پھر سب واپس چوپال میں چلے آئے۔ نمبردار بولا۔ ’’بھولو جرم ثابت ہوگیا ہے۔ تمہارے ہاتھ کا نشان دیوار پر موجود ہے۔ جس میں چار انگلیاں ہیں۔‘‘ بھولو کا سر جھک گیا۔
بھولو کو پولیس کے حوالے کردیا گیا، اسے سزا ملی اور گائے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ اس واقعے کے بعد بابا کھوجی اکثر کہتے کہ میں نے ساری زندگی چوروں کو ان کے پیروں کے نشان کے ذریعے پکڑا لیکن ایسا پہلی بار ہوا کہ کوئی چور ہاتھ کے نشان کی وجہ سے پکڑا گیا۔ گائوں کے لوگ جو پہلے ہی بابا کی صلاحیتوں کے قائل تھے۔ ان کی اور زیادہ قدر کرنے لگے تھے۔