تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
منیبہ کے بھیا

منیبہ کے بھیا

’’بھیا، مجھے ریاضی کے سوال سمجھادیں، پلیز بھیا۔‘‘ منیبہ اپنے بھیا کے پاس ریاضی کے سوال حل کروانے آئی مگر حماد تو ہر وقت موبائل پر لگا رہتا تھا۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ گیم کھیلنا اور موبائل پر وقت گزارنا تھا۔ منیبہ کی گزارش پر اس نے صاف انکار کرنے میں بالکل دیر نہ کی، حماد نےکہا، ’’میرے پاس وقت نہیں ہے، تمہیں یہ فضول سوال سمجھانے کا۔‘‘ بھیا کا جواب صاف تھا۔ اب منیبہ کیا کر سکتی تھی؟ منیبہ اپنی جماعت کی بہت ہی لائق فائق بچی تھی۔ ہمیشہ جماعت میں اول پوزیشن آتی تھی۔ منیبہ اور حماد دو ہی بہن بھائی تھے، اس لیے اپنے والدین کے بہت لاڈلے بچے تھے۔ منیبہ اپنی ماما کے ساتھ کام میں ہاتھ بھی بٹاتی تھی۔ منیبہ بہت ہی سمجھدار اور سلجھی ہوئی بچی تھی۔ آج کل اسے ریاضی کے سوال اپنے اساتذہ کی سے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے، جب ہی وہ بھیا کی مدد لینا چاہتی تھی، تاکہ گھر میں پڑھائی آسان ہوجائے، کچھ ہی دنوں میں اس کے امتحان شروع ہو نے والے تھے۔ وہ سارے مضامین کی زور و شور سے تیاری کر رہی تھی، بس پریشانی یہ تھی کہ گھر سے اس کو اچھی مدد نہیں مل پارہی تھی۔ حساب کے سوال میں جب اٹک جاتی اور امی کی مصروفیت کی وجہ سے بھیا سے سوال کرتی تو وہ ٹال دیتے۔ منیبہ یوں تو ذہین تھی مگر حساب کے مضمون میں تھوڑی کمزور تھی۔ اس لئے وہ ہر وقت پریشان رہنے لگی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس بار اس کا ریاضی کا پرچہ اچھا نہیں ہوسکے گا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ دن بھی آگیا۔ آج منیبہ کا پہلا پرچہ تھا اور وہ بہت زیادہ پریشان تھی مگر اللہ کا نام لے کر اس نے پرچہ شروع کیا پرچہ مشکل تھا مگر زیادہ مشکل نہیں تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے سارے پرچے ختم ہو گئے۔ آج اس کا رزلٹ آگیا۔ اس کے پاپا اس کا رزلٹ لے کر آئے لیکن اس بار اس کی پوزیشن سیکنڈ آتی تھی۔ منیبہ کو بہت زیادہ دکھ ہوا۔ سب حوصلہ بڑھا رہے تھے مگر وہ جانتی تھی کہ اس کی پوزیشن خراب کیوں ہوئی ہے۔ جب اس نے رزلٹ اپنے بھیا کو دیکھایا تو اس کے بھیا کو بھی دکھ ہوا۔ منیبہ بہت روئی، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے بھائی نے کہا، ’’منیبہ افسوس نہ کرو، آئندہ سے ریاضی کی تیاری میں کروایا کروں گا۔ پھر تم ضرور حساب کا مضمون سمجھ جائو گی۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے پہلے تمہیں پڑھانے کا نہیں سوچا، آج سے میرے کھیل ایک طرف مگر پہلے پڑھائی ہوگی، میں سمجھ گیا ہوں کہ پڑھائی ترک کرنا اچھا نہیں اور ایک دوسرے کی مدد کی جائے تو کامیابی کا امکان بڑھایا جاسکتا ہے۔‘‘ یہ سن کر منیبہ نے آنسو پونچھ لیے۔ کیا آپ منیبہ کے بھیاکی طرح اپنے چھوٹے بہن بھائی کی مدد کے لیے تیار ہیں؟