تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
شمائل کے دوست

شمائل کے دوست

ہم سب دوستوں نے شمائل کو بری طرح سے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا،آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم نے اسے چوٹ پہنچانے کیلئے گھیر رکھا تھا بلکہ ہم تو اسے یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ کھیل کود کے ساتھ نماز اور تعلیم بھی اہم ہے۔ ’’دیکھو! ہٹ جائو، مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔‘‘ شمائل بولا۔ ’’لیکن اس کام سے زیادہ بڑھ کر ضروری ایک اور کام بھی ہے جو تمہیں ہر کامیابی دلا سکتا ہے۔ ‘‘میں نے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔ شمائل حیران ہوا، ’’کیسا کام ؟‘‘ ’’نماز!‘‘ میں نے فوراً کہا۔ ’’ہم تمہیں ہر روز نماز پڑھنے کا کہتے ہیں مگر تم رفو چکر ہو جاتے ہو، آج نہیں بھاگ سکو گے۔‘‘شمائل بولا،’’تم لوگ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔‘‘ ہم نے ٹھان لی تھی آج اس کی ایک بات بھی نہ مانیں گے،’’ دوسروں کو نیکی کے کام پر آمادہ کرنے کیلئے سب کچھ کرنا پڑتا ہے دوست!‘‘ عرفان نے ہنستے ہوئے بے تکلفی سے اس کے کندھے پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے کہا۔ ’’اب ہم تمہیں ایک شرط پر جانے دیں گے۔ ’’خلیق بولا ۔ ’’ شرط کا پتہ ہے مجھے، نماز پڑھوں پھر اسکول کا کام کروں، سب کی مدد کروں، بڑوں کا ادب کروں، یقیناً یہی شرط ہے۔‘‘ شمائل نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’کافی سمجھدار ہو۔ ‘‘ میں نے کہا تو سب نے قہقہہ لگایا۔’’چلو ،تمہیں ہمارے ساتھ مسجد میں جانا ہے، نماز پڑھنی ہے اور پکا عہد کرنا ہے کہ تم پنج وقتہ نمازی بنو گے۔ ‘‘ ،خلیق نے اسے مسجد کی طرف گھسیٹا ۔ ابھی ہم میں سے کوئی کچھ اور کہتا، شمائل خلیق کو دھکا دیتے اور ہمارے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے بھاگ نکلا۔ کافی دور جا کر بلند آواز میں بولا ’’میں تم لوگوں کی باتیں مانوں؟ ناممکن!‘‘ یہ کہتے ہی وہ بھاگنے لگا کہ اس کے دادا جان آگئے، وہ جلدی میں ان سے ہی جا ٹکرایا تھا، اب تو ایسا منظر تھا کہ ہماری ہنسی نہ رک رہی تھی اور شمائل کی آواز بند ہوچکی تھی، دادا جان بولے، شمائل میاں کہاں چل دیئے؟ چلو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے، پھر اسکول کا سبق بھی تو پڑھنا ہے نا۔‘‘ دادا جان کے سامنے تو شمائل کی ایک بھی نہ چلی اور اس نے مسجد کی راہ لی، راستے میں ہم بھی ساتھ ہولیے، ہم نے سرگوشی کی، ’’شمائل، یہی کام اگر تم خوشی سے کرلیتے تو کیا برائی تھی؟‘‘ اب شمائل بھی شرمندہ ہو اور ہم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اچھا معمول اپنائے گا۔