January 07, 2019
پھول شہزادی - قسط : 01

پھول شہزادی - قسط : 01

کسی ملک میں ایک تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام حامد تھا۔ اُسے قدرت نے ہر نعمت و خوشی سے نواز رکھا تھا۔ اس کا گھر کسی محل سے کم نہ تھا۔ قیمتی اشیاء سے گھر کی آرائش و تزئین کی گئی تھی۔ نادر و کم یاب جواہرات، نایاب نسل کے پرندے اور پھول، ملازمین کی فوج، نہایت خوبصورت و خوش اطوار بیگم، سب کچھ تھا اس کے پاس مگر… اس کی بیگم سمارہ ہمیشہ اُداس رہتی۔ خادمائیں ہر دم اس کی خدمت میں حاضر رہتیں۔ اس کے پاس قیمتی زیورات تھے مگر اولاد کی کمی اسے ہر دم محسوس ہوتی۔
حامد جب بھی کسی ملک میں تجارت کی غرض سے جاتا واپسی پر کوئی نہ کوئی قیمتی زیور یا پرندہ، یا پھر پھول لے کر آتا۔ اس کے خوبصورت سے باغ میں ایک بہت بڑا پنجرہ صرف پرندوں کے لئے موجود تھا۔ جہاں نایاب و قیمتی پرندے تھے۔ ان پرندوں میں ایک بولنے والی مینا اور بولنے والا طوطا بھی تھے۔ جن کی معصوم باتوں سے سمارہ بہت محظوظ ہوتی اور ان کا بہت خیال رکھتی۔ اب کی بار حامد ملک طرابلس تجارت کی غرض سے گیا تو واپسی پر اس کے پاس منافع کے طور پر بہت بڑی رقم تھی۔ قافلے کو وطن واپس لوٹنے میں ابھی دو دن تھے۔ سو حامد حسب عادت شہر کی سیر کو نکل گیا۔ یہ شہر بہت خوبصورت و سرسبز تھا۔ اس کے بارونق بازار بڑے بڑے تھے۔ وہ ہر جگہ تھوڑی دیر رُکتا اور ہر چیز سے لطف اندوز ہوتا چلا جا رہا تھا کہ ایک جگہ نایاب قسم کے پودے اور پھول بیچنے والا دکھائی دیا۔ اُس نے بڑی ترتیب اور خوش اُسلوبی سے پھول اور پودے سجا رکھے تھے۔ ان پھولوں کو دیکھنے کے لیے دُور و نزدیک سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ حامد بھی شوق سے ان پھولوں کو دیکھنے لگا۔ اچانک گلاب کی ایک بہت ہی خوبصورت کلی پر حامد کی نظر پڑی۔ وہ گہرے نیلے رنگ کی اَدھ کھلی سی کلی تھی۔ اس کی جسامت اور رنگ اسے تمام پھولوں سے ممتاز کر رہا تھا۔ حامد نے اس سے پہلے اس رنگ کا گلاب نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہر پھول بھول گیا اور دُکان دار سے کچھ دیر کے بھائو تائو کے بعد اس نے یہ کلی مہنگے داموں خرید لی۔ ملازم سے کہا کہ بہت احتیاط سے سرائے تک لے چلے۔ وہ خود بھی سیر کا ارادہ ملتوی کر کے سرائے واپس اپنے آرام دہ کمرے میں آ گیا۔ بہت دیر وہ اس کلی کو دیکھتا اور اس کے بارے سوچتا رہا۔ اگلے دن حامد نے شہر کے دُوسرے اہم حصوں کی سیر کی۔ وہاں کے ترقّی یافتہ عوام اور انتظامیہ کو سراہا۔ سرِشام وہ سرائے لوٹ آیا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا مگر آج پھر وہ اس خوبصورت و عجیب کلی کے سحر میں کھو گیا اور ساری تھکاوٹ بھول گیا۔ ’’جب سمارہ بیگم یہ کلی دیکھے گی تو ضرور اس کی دیوانی ہو جائے گی۔‘‘ حامد نے سوچا اور مسکرا دیا۔ پھر وہ جلد ہی سو گیا کہ صبح قافلے نے وطن واپس روانہ ہونا تھا۔
حامد اپنے گھر پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ سمارہ اس کے استقبال کے لیے گھر کے دروازے پر موجود تھی۔ تاجر تھکا ہوا تھا۔ اس نے رات کا کھانا بھی نہ کھایا اور سونے کے لیے چلا گیا۔ مالی نے ملازم سے کلی لے لی اور باغ کا رُخ کیا۔ سمارہ کی آنکھ مینا اور طوطا کے شور مچانے پر کھلی اس کے کمرے کی ایک کھڑکی باغ کی جانب کھلتی تھی۔ شور و غل سُن کر وہ جلدی سے باغ کی جانب آگئی۔ مینا اور طوطا اپنے پنجروں میں شور مچا رہے تھے۔ ’’صبح بخیر‘‘ پیاری مینا! سمارہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مگر مینا نے اس کی بات اَن سُنی کرتے ہوئے نیچے جھک کر دیکھا اور بولی۔ ’’وہ دیکھو! اس میں کچھ خاص ہے۔‘‘ طوطا ہر بات دُہراتا تھا، وہ بھی بولا۔ ہاں کچھ خاص ہے۔ وہ اپنی گول گول آنکھیں نیچے مرکوز کئے ہوئے تھا۔
توجہ دلانے پر سمارہ نے بھی غور سے دیکھا اور پھر وہ نظر ہٹانا بھول گئی۔ اتنی بڑی اور انوکھے رنگ کی گلاب کی کلی؟ اچھا! تو اب کی بار حامد یہ نایاب کلی لائے ہیں۔ وہ بہت دیر تک اس عجیب و خوبصورت اَدھ کھلی کلی کو حیران ہو کر دیکھتی رہی۔ مینا پھر بولی۔ اس میں کچھ خاص ہے۔ ہاں بھئی! خاص تو یہ ہے، سمارہ نے کہا اور نرم گھاس پر چہل قدمی کرتے آگے بڑھ گئی مگر مینا کا شور و غل سن کر وہ تیزی سے مڑی، تمام پرندے بے چینی سے پنجرے میں اُڑ رہے تھے۔
پھر سمارہ نے نہایت حیرت انگیز منظر دیکھا۔ کلی کی پتیاں سرک رہی تھیں اور ان میں سے دو انسانی بازو جھانک رہے تھے۔ جو انتہائی نازک اور ننھے سے تھے۔ سمارہ نے بہت نرمی سے درمیانی پتیوں کو انگلی سے ہٹایا، ’’اُوہ میرے خدا!‘‘ اس نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ پرندوں نے پہلے سے بھی زیادہ شور مچانا شروع کر دیا۔ تمام ملازمین اور حامد بھی بھاگتے ہوئے باغ میں آپہنچے۔ سب ششدر تھے۔
کلی کھل کر پھول بن چکی تھی… حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پھول کے بیچوں بیچ ایک نہایت خوبصورت اور ننھی سی شہزادی، خوف کے مارے اپنی آنکھوں پر دونوں بازو رکھے کھڑی تھی۔ مینا نے چیخ کر کہا۔’’فارس کی مٹی، فارس کی مٹی۔ نیل کنٹھ لائو! نیل کنٹھ لائو۔‘‘ مینا اپنی بات دہرارہی تھی۔
حامد نے ایک ملازم سے کہا۔ ’’اسے مالکن کے کمرے میں حفاظت سے رکھ دو۔‘‘ ملازم نے حکم کی تعمیل کی۔ حامد اور سمارہ مینا کے پنجرے کے پاس آگئے۔ ’’پیاری مینا پرسکون ہو جائو۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس بہت مفید علم ہے۔ تم آنے والے خطرے سے جلد باخبر ہو جاتی ہو۔ لیکن معاملہ کیا ہے؟‘‘ مینا بولی۔’’ راز کی بات ہے، راز کی بات ہے۔‘‘ طوطے نے بھی بات دہرائی، پھر مینا بولی،’’مالک نیل کنٹھ لائو۔ بغداد کا نیل کنٹھ، محمود عمار سے جلدی لائو۔ جلدی لائو۔‘‘
’’ٹھیک ہے لے آئوں گا۔‘‘ حامد بولا۔ ’’مگر بغداد سے کیوں؟ اگر میں اپنے شہر کے پرندوں والے بازار سے لے آئوں تو…؟‘‘
نہ، نہ ! میناچیخی۔ بس بغداد کا نیل کنٹھ محمود عمار کا، جلدی لائو۔ فارس کی مٹی بچائو حامد یہ سن کر اندر چلا گیا۔ سمارہ بھی ساتھ چل دی۔ دونوں شہزادی کے پاس پہنچے۔ شہزادی اب پر سکون تھی۔ سمارہ کو اس کی معصومیت پر بڑا پیار آیا۔
’’اچھی شہزادی ڈرو نہیں۔‘‘ حامد نے پیار سے شہزادی کو مخاطب کیا۔ وہ اب پرسکون ہو چکی تھی۔ تم کون ہو اور یہاں اس پھول میں کیسے آئی؟ سمارہ نے پوچھا۔ (جاری ہے)