January 07, 2019
جلد کیسے بنائیں کومل

جلد کیسے بنائیں کومل

’’عمریا‘‘ گزری جائے

خواتین شادی کے بعد اپنی ذات سے بالکل ہی بے پروا ہوجاتی ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ اپنا اور اپنی جلد کا خیال صرف نوجوانی یا شادی سے پہلے ضروری نہیں، ہر عمر کی خواتین کے لیے یہ کام بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ اپنا خیال رکھنے کی عادت زیادہ خوبی سے اپنالینا چاہئے، کیونکہ یہ اچھی عادت بڑی مفید ثابت ہوتی ہے۔ جو خواتین شروع سے ہی اپنی جلد کا خیال رکھتی ہیں، بڑھتی عمر میں بھی ان کی جلد تروتازہ اور پرکشش نظر آتی ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات کو کبھی اور کسی عمر میں بھی نظر انداز نہ کریں، البتہ ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ عمر کے ساتھ اسکن کیئر روٹین تبدیل کر لی جائے۔
جس طرح عمر کے ساتھ کپڑے پہننے کا انداز تبدیل کیا جاتا ہے، ویسے ہی جلد کی دیکھ بھال کا انداز بدلنا بھی لازم ہے۔ خود سوچئے جو ہیئر اسٹائل آپ نے پچیس برس کی عمر میں اپنا رکھا ہے، کیا وہ چالیس برس کی عمر میں جچے گا؟ رنگ، لباس، بال اور جلد، عمر کے ساتھ ساتھ تبدیلی چاہتے ہیں، اس تبدیلی کو سمجھ کر بہترین طریقے اختیار کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
ہم سب جانتی ہیں کہ وقت کے ساتھ جلد میں تبدیلی آتی ہے، رنگت، صحت اور جلد کی رعنائی اور توانائی متاثر ہوتی ہے، الٹرا وائلٹ شعاعیں اور آلودگی بھی اس کی دشمن بنی رہتی ہے، ایسے میں نہایت ضروری ہوجاتا ہے کہ روزمرہ صفائی کے منصوبے پر مشتمل ایک روٹین ایسی ہو جو آپ کی جلد کی رونق برقرار رکھنے میں مدد دے۔ آئیے جانتے ہیں عمر کے مختلف حصوں میں اپنی جلد کا خیال رکھنے کے لیے خواتین کو کیا کرنا چاہئے:
20سے 30برس عمر کی خواتین
کیا زمانہ ہوتا ہے یہ، سمجھئے ایک طرح سے پارٹی ٹائم ہے، دو تین گھنٹے کی نیند بھی کافی محسوس ہوتی ہے لیکن توانائی اور تروتازگی سے بھرپور اس زمانے میں اپنی جلد کی قدرتی رعنائی کو سدا بہار سمجھ کر نظر انداز نہ کیجئے، یہی وقت اس پر توجہ دینے کا ہے کیونکہ اس زمانے میں اپنائی گئی اچھی اور بری عادتیں ہی مستقبل کے لیے بنیاد فراہم کریں گی۔ ہم سب کوئی نہ کوئی میک اپ اور اسکن کیئر پروڈکٹ استعمال کرتے ہی ہیں، ان کو یکسر زندگی سے نکال دینا ممکن نہیں، البتہ بہترین معیار کا سامان استعمال کرنا آسان ہے۔ ماہرین جلد کا خیال ہے کہ اس عمر میں ایسی اسکن پروڈکٹس استعمال کرنا بہتر ہے جس میں ایس پی ایف موجود ہو، SPF والا میک اپ، سن اسکرین اور موائسچرائزر آپ کی جلد کودلکشی کے ساتھ ساتھ صحت اور نمی بھی دے گا۔
آج اسمارٹ فون کا استعمال عام ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسمارٹ فون ہماری جلد کو زبردست انداز میں متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسمارٹ فونز کا بڑھتا ہوا استعمال، ہماری جلد کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور بڑھاپے کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس عمر کی خواتین میں بے رونق جلد، رنگت کی خرابی، دھوپ اور آلودگی سے جلد کا متاثر ہونا اور جھریاں پڑجانے کی شکایت ان ہی اسباب کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ یہ عمر جھریاں پڑنے کی نہیں لیکن بے پروائی اور موبائل کا زیادہ استعمال ان مسائل کی بنیاد بن رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس پریشانی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟ ماہرین جلد کا ماننا ہے کہ اس عمر کی خواتین کو کیا کرنے سے زیادہ اس بات پر توجہ دینا ہوگی کہ وہ کون سے کام نہ کریں۔ بیس سے تیس برس کی عمر تو آپ کی زندگی کی ابتداء ہے، خود سوچئے اسی عمر سے جلد متاثر ہوجائے گی تو آگے چل کر کیا حال ہوگا؟ ماہرین امراض جلد کا مشورہ ہے کہ اس عمر کی خواتین کو گلائیکولک ایسڈ (Glycolic Acid)جیسے سخت اجزاء استعمال نہیں کرنا چاہئے، فیشل پیلز (Facial Peels) بھی اس عمر کی خواتین کے لیے مناسب نہیں، تیس برس کی عمر کے بعد ان کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ۔
جلد کا خیال کیسے رکھنا ہوگا؟
بیس سے تیس برس کی خواتین کے لیے وٹامن سی بہت اہم ہے۔ یہ وٹامن جلد کو دھوپ کے تاثر سے محفوظ کرتا ہے، جلد پر کولاجن (Collagen) کا اضافہ کرتا ہے اور یہ جلد کی قدرتی رنگت نمایاں کرنے میں بھی مددگار ہے۔ سمجھ لیجئے کہ جلد کو طویل عرصے تک تروتازہ اور جوان رکھنے کے لیے یہ لازمی جزو ہے۔ اس عمر کی خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی جلد کی صفائی کا بھی خصوصی خیال رکھیں، باقاعدگی سے کلینزنگ کیجئے، جلد کو دھول مٹی، آلودگی اور میک اپ کی باقیات سے بچائیے، میک اپ معیاری ہونا لازم ہے اور اسے اچھی طرح صاف کرنا بھی ضروری ہے۔ اس عمر کی خواتین کو ہفتے میں ایک بار قدرتی فیس ماسک بھی استعمال کرنا چاہئے، تاکہ جلد کی نمی برقرار رہ سکے۔
30سے40برس عمر کی خواتین
غور کیجئے اس عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ کا طرز زندگی تبدیل ہوا ہوگا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ کی جلد بھی تبدیل ہوجائے اور اس پر منفی اثرات کا غلبہ ہو۔ یہ وہ عمر ہے جب جلد پر فائن لائنز اور جھریاں نمودار ہونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، عمر کے ساتھ ہارمونز کی سطح میں ظاہر ہونے والی اہم تبدیلی، حمل، جلد کے مسام کھولنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اس عمر میں ورزش کے معمول پر بھی توجہ دیجئے، جو بات سب سے زیادہ توجہ کے قابل ہے وہ ’’جِم فیس‘‘ سے بچنا ہے۔ ورزش اچھی بات ہے لیکن ضرورت سے زیادہ کارڈیو ویسکیولر ایکسرسائز مثلاً دوڑ لگانا، سائیکل چلانا اور ٹریننگ ایکسرسائز کی وجہ سے ہارٹ ریٹ تیزی سے بڑھتا ہے، خون کی نالیاں چوڑی ہوجاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن جسم کے تمام حصے میں گردش کرسکے۔ پندرہ منٹ تک تو یہ ورزش بہترین ہے لیکن پندرہ منٹ کے  بعد بھی جب ورزش جاری رکھی جاتی ہے تو مسلز مزید آکسیجن حاصل کرنے کی کوشش میں چہرے پر سے بھی آکسیجن کھینچنا شروع کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے چہرے پر موجود Fat Pads آکسیجن سے خالی ہوجاتے ہیں اور گال سکڑ جاتے ہیں، ان سکڑے ہوئے رخساروں کو ہی جِم فیس کہا جاتا ہے۔ اس عمر میں جم فیس، چہرے پر بڑھاپے کی جھلک نمایاں کرنے کا سب سے اہم سبب ہے۔
اس پریشانی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟ یہ عمر جلد کی نمی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کے لیے اہم ہے، کیوں؟ کیونکہ جلد جتنی موائسچرائزرہے گی اس پر جھریاں اور فائن لائنز کا مسئلہ اتنا ہی کم ہوگا۔ اس حوالے سے ایسی مصنوعات کا استعمال مفید ثابت ہوگا جن میں ہائیلورنک ایسڈ (Hyaluronic Acid) موجود ہو۔ جلد کی نمی برقرار رکھنے میں یہ جزو حیران کن صلاحیت کا حامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھے کلینزر کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ باقاعدگی سے جلد صاف کیجئے، بام اور فیس جیل ہر قسم کی جلد پر استعمال کیا جاسکتا ہے، البتہ یہ ایسی خواتین کے لیے بہترین ہے جن کی جلد حمل کے بعد زیادہ چکنی ہوگئی ہو، یا مسام کھل کر ان میں بلیک ہیڈز ابھر آئے ہوں۔ سورج کی شعاعوں اور کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور موبائل فونز سے نکلنے والی نیلی روشنی سے پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اس عمر کی خواتین کو ایسا سیرم استعمال کرنا چاہئے جس میں ہائیلورنک ایسڈ (Hyaluronic Acid) اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوں۔ اس کے علاوہ ایک اچھا فیشل آئل بھی آپ کی اچھی جلد کے لیے لازم ہے، اس سلسلے میں کسی ماہر امراض جلد سے مدد لی جاسکتی ہے۔ آج کل کئی قسم کے فیشل آئلز مقبول ہیں لیکن آپ کے لیے وہی بہترین ہے، جس کی قدرتی خوبیاں، آپ کی جلد کے لیے مناسب ہو۔
40سے 50برس عمر کی خواتین
یہ وہ عمر ہے جب آپ کا کیرئیر اور گھریلو زندگی دونوں ہی ہموار راستے پر گامزن ہوتی ہے لیکن یہی وہ عمر بھی ہے جب آپ کی طرح، آپ کی جلد بھی میچور نظر آنے لگتی ہے۔ جلد کے مسام کھل جاتے ہیں، وائٹ اور بلیک ہیڈز کا مسئلہ بھرپور انداز میں سامنے آتا ہے، مناسب نمی نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی خشکی کی وجہ سے جھریاں نمودار ہونے لگتی ہیں، دھوپ کے اثرات جو اب تک بے ضرر معلوم ہو رہے تھے، تیزی سے نمایاں ہوکر جلد پر ظاہر ہونے لگتے ہیں اور سب سے اہم مسئلہ جلد کی رنگت کا سامنے آتا ہے جو مدھم اور بے رونق ہونے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ وہ جلد ہی نہیں جو چند سال پہلے آپ کی پہچان تھی۔ ماہر امراض جلد کے مطابق، ’’بے رونق رنگت، منہ، رخسار اور جبڑے کے گرد موجود جلد کا سکڑنا اور ماتھے کی جھریاں، اس عمر کی خواتین کی عام شکایت میں شامل ہے۔‘‘
اس پریشانی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق، ’’ایک مناسب اور محفوظ اسکن کیئر روٹین اپنا لینا آسان ہے لیکن جب بات ہو اچھی جلد کی، تو زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی جلد کی مناسبت سے ایک بہترین منصوبہ ترتیب دیا جائے اور اس پر باقاعدگی کے ساتھ عمل ہو۔ اس طرح نہ صرف جلد پر عمر کے اثرات کو روکا جاسکتا ہے بلکہ رنگت اور صحت کو بھی بچانا ممکن ہوگا۔‘‘ ویسے چالیس برس سے زائد عمر کی جلد کے لیے گلائیکولک ایسڈ (Glycolic Acid) بہترین جزو ہے۔ یہ جلد پر ایکنی، پگمنٹیشن اور عمر کے اثرات ختم کرتا ہے اور نئی جلد کی صحت بحال رکھنے میں مددگار ہے۔ ایسا ایکس فولی ایٹر استعمال کیجئے جس میں گلائیکولک ایسڈ شامل ہو، لیکن اسے شام میں استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ چہرے سے مردہ جلد صاف ہونے کے بعد یہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رہے۔ آنکھوں کے اردگرد ان کا استعمال درست نہیں۔ اس کے علاوہ اس عمر کی خواتین کے لیے آئی کریم بھی لازم ہے، ایسی کریم کا انتخاب کیجئے جو ہلکی پھلکی اور آنکھوں کے گرد موجود جھریوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو۔ ایکس فولی ایشن کے بعد دوسرے دن ایک معیاری ایس پی ایف سے بھرپور موائسچرائزر استعمال کرنا بھی لازم ہے۔