تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
جیتی ہوئی بازی، پھر ہارے

جیتی ہوئی بازی، پھر ہارے

پاکستانی ٹیم کی بدترین بیٹنگ پرفارمنس کے بعد ناقص فیلڈنگ اور متنازع امپائرنگ کی بدولت جنوبی افریقہ نے پہلے ٹیسٹ میچ میں 6 وکٹ سے فتح اپنے نام کر کے سیریز میں 0-1سے برتری حاصل کر لی۔ سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے پانچویں دن جنوبی افریقہ نے 149رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو دن کے دوسرے ہی اوور میں حسن علی نے ایڈن مرکرم کو پویلین لوٹا دیا جو وکٹوں کے سامنے پیر لانے کے جرم میں آؤٹ قرار پائے۔ اس موقع پر پاکستانی بولرز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو رنز بنانے سے باز رکھا اور رنز کے حصول کی کوشش میں حسن علی کی گیند پر ہاشم آملہ غلطی کر بیٹھے لیکن سلپ میں موجود فخر زمان ان کا سیدھا کیچ تھامنے میں ناکام رہے اور بعد میں یہی کیچ پاکستان کو کافی مہنگا پڑا۔ دوسرے اینڈ سے شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اگلے ہی اوور میں ڈین ایلگر سلپ میں اظہر علی کو کیچ دے بیٹھے، البتہ جنوبی افریقی بلے باز کو گیند زمین پر گرنے کا شبہ ہوا جس کے سبب تھرڈ امپائر سے رابطہ کیا گیا۔ ری پلے سے واضح تھا کہ اظہر علی نے گیند کو زمین پر گرنے سے قبل ہی تھام لیا لیکن پاکستانی ٹیم سمیت میدان میں موجود تمام ہی افراد اس وقت دنگ رہ گئے جب ٹی وی امپائر نے ایلگر کو ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ ان دو مواقعوں کے بعد دونوں بلے بازوں نے سنبھل کر بیٹنگ کی اور کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ دونوں کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں اسکور کر کے میچ میں پاکستانی ٹیم کی واپسی کے تمام دروازے بند کر دیئے۔119 رنز کی اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب پارٹ ٹائم بولر شان مسعود کی گیند پر ایلگر وکٹوں کے عقب میں کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 50رنز بنائے۔ ڈی برون کی اننگز 10رنز پر تمام ہوئی اور یاسر شاہ نے انہیں آؤٹ کر کے میچ میں واحد وکٹ حاصل کی جبکہ جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیوپلیسی دوسری اننگز میں بھی صفر پر پویلین لوٹے۔ البتہ ان نقصانات کے باوجود جنوبی افریقہ نے بہ آسانی 4وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر کے میچ میں 6وکٹوں سے فتح حاصل کر لی، آملہ 63رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ جنوبی افریقی بولر ڈوان اولیویئر کو میچ میں 11وکٹوں پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔ پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن میچ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے کپتانوں نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی سرفراز احمد کی ناکامیوں کا سلسلہ برقرار رہا اور ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں صفر پر پویلین لوٹے۔ اسی طرح جنوبی افریقی کپتان فاف ڈیوپلیسی کے لیے بھی یہ ٹیسٹ انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے اچھا ثابت نہ ہوا اور وہ بھی دونوں اننگز میں کھاتا کھولے بغیر ہی پویلین سدھار گئے۔ دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے اس بدترین کارکردگی کے ساتھ ہی مشترکہ طور پر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے میچ میں ’’پیئر‘‘ حاصل کیا ہو یعنی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے ہوں۔ سرفراز احمد نے میچ میں ’’صفر کا پیئر‘‘ حاصل کیا اور یہ بدترین ریکارڈ اپنے نام کرنے والے پاکستان کے چوتھے کپتان بن گئے۔ سرفراز سے قبل پاکستان کے جو تین کپتان ٹیسٹ میچ میں پیئر کا شکار ہوئے ان میں امتیاز احمد، راشد لطیف اور وقار یونس شامل ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں تھرڈ امپائر سے خراب روّیہ اختیار کرنے پر پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کو وارننگ جاری کرتے ہوئے ایک منفی پوائنٹ ایوارڈ کردیا۔ سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے میزبان ٹیم کو فتح کے لیے 149رنز کا ہدف دیا تھا جس کے تعاقب میں وہ صفر پر ہی پہلے اوپنر سے محروم ہو گئی۔ پاکستان کو جلد ہی دوسری کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملا لیکن فخر زمان نے کیچ ڈراپ کر کے پاکستانی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا لیکن اگلے ہی اوور میں اظہر علی نے ڈین ایلگر کا کیچ لے کر پاکستان کو اہم کامیابی دلا دی۔ میچ کے 9ویں اوور میں ڈین ایلگر سلپ میں اظہر علی کو کیچ دے بیٹھے، البتہ جنوبی افریقی بلے باز کو گیند زمین پر گرنے کا شبہ ہوا جس کے سبب تھرڈ امپائر سے رابطہ کیا گیا۔ ری پلے سے واضح تھا کہ اظہر علی نے گیند کو زمین پر گرنے سے قبل ہی تھام لیا لیکن پاکستانی ٹیم سمیت میدان میں موجود تمام ہی افراد اس وقت دنگ رہ گئے جب ٹی وی امپائر نے ایلگر کو ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ جنوبی افریقی بلے باز کو ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے پر قومی بلے بازوں کی کارکردگی سے نالاں پاکستانی کوچ مکی آرتھر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے ٹی وی امپائر جو ولسن کے کمرے میں جا کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فیصلے پر سوالات اٹھائے اور پھر غصے میں کمرے سے باہر آ گئے۔ تھرڈ امپائر جو ولسن نے میچ ریفری کو پاکستانی ٹیم کے کوچ کے خراب روّیے کی شکایت کی۔ امپائر کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنے پر آرتھر آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے اور میچ کے اختتام پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ میچ ریفری ڈیوڈ بون نے آرتھر کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور پاکستانی ہیڈ کوچ نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا، جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ آئی سی سی کی جانب سے مکی آرتھر کو سرزنش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ نے ڈریسنگ روم کا ماحول خراب کرنے سے متعلق افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان کوئی اختلافات موجود نہیں ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر طلعت علی کا کہنا تھا کہ کوچ مکی آرتھر پر کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ منیجر طلعت علی نے بتایا کہ کھیل کے اختتام پر کوچ مکی آرتھر کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں میٹنگ ہوئی جو معمول کے مطابق تھی اور اس میں تمام کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کی جانب سے کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے یا ان پر غصہ کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ طلعت علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ، کوچ، کپتان اور تمام کھلاڑی بہترین نتائج دکھانے کے لیے متحد ہیں۔ گوگل نے پاکستان کے عظیم بلے باز (مرحوم) حنیف محمد کو 84ویں یومِ پیدائش پر ان کی خدمات کے سلسلے میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے گوگل ڈوڈل بنایا۔ گوگل کی جانب سے بنائے گئے ڈوڈل میں حنیف محمد روایتی انداز میں بیٹنگ کرتے دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ اس پر ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور 337 رنز بھی درج ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو تاریخی فتوحات دلوانے والے حنیف محمد پاکستان بننے سے قبل 21 دسمبر 1934 ء کو ریاست گجرات کے شہر جونا گڑھ میں پیدا ہوئے اور 11؍اگست 2016 ء کو کراچی میں 81 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ حنیف محمد نے 55 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے تقریباً 44 کی اوسط سے 3 ہزار 9 سو 15 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کرکٹ کے عظیم بلے باز اپنے پستہ قد اور شاندار بیٹنگ مہارت کی وجہ سے ’’لٹل ماسٹر‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اور یہی لقب بعد میں بھارتی بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کو بھی دیا گیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں اولین ٹرپل سنچری بنانے کا ریکارڈ بھی حنیف محمد کے پاس ہے جو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 1958 ء میں برج ٹاؤن میں اسکور کی۔ خیال رہے کہ یہ وہی ٹیسٹ میچ ہے جس میں حنیف محمد نے کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین بیٹنگ کرکے نہ صرف پاکستان کے لیے میچ بچایا تھا بلکہ 970 منٹ تک کریز پر رہنے کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا تھا جو اب بھی ان ہی کے پاس ہے۔ حنیف محمد نے میچ کی چوتھی اننگز میں تقریباً 3 دن بیٹنگ کرکے 337 رنز اسکور کیے تھے جو اب تک کسی بھی پاکستانی کا ٹیسٹ میچ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اور حنیف محمد کے بیٹے شعیب محمد کہتے ہیں کہ ان کے والد کو پاکستان میں وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حد تو یہ ہے کہ پی سی بی نے ہائی پرفارمنس اکیڈمی سے حنیف محمد کا نام تک ہٹادیا جس پر ان کے بیٹے شعیب محمد بھی بورڈ اور حکام سے نالاں نظر آئے۔ پی ایچ ایف نے سینئر کھلاڑیوں کے خلاف آپریشن کلین اَپ کرتے ہوئے پرو لیگ سے قومی ہاکی ٹیم کے کئی سینئر کھلاڑی ڈراپ کردیئے۔ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کیلئے جونیئر کھلاڑیوں پر تجربہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سینئر کھلاڑیوں کے خلاف آپریشن کلین سوئپ شروع کردیا۔ پرولیگ کیلئے جاری کردہ فہرست سے ڈراپ ہونے پر سینئرز سخت نالاں ہیں۔  ہاکی ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کو قصوروار دے کر فیڈریشن نے انہیں اپنی گڈ بک سے باہر کردیا۔ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کیلئے پی ایچ ایف نے جونئیر کھلاڑیوں کی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مذکورہ کھلاڑیوں نے قومی ٹیم سے محرومی کے بعد لیگز کھیلنے ارادہ کرلیا۔ سینئر کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف کا تھنک ٹینک غلط ہاتھوں میں ہے، ٹیمیں کمبی نیشن سے بنتی ہیں، مینجمنٹ قومی کھیل کو ترقی تو نہیں البتہ تنزلی کی جانب ضرور پہنچا دے گی۔  واضح رہے کہ پرو ہاکی لیگ کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 26کھلاڑیوں کے ناموں کو فائنل کرکے بھجوا دیا ہے۔ نئے اسکواڈ میں کپتان رضوان سینئر، عرفان سینئر، تصور عباس، محمد توثیق، راشد محمود اور عمر بھٹہ شامل نہیں ہیں۔ عبوری ٹیم میں تین گول کیپر منیب الرحمٰن، وقار اور حیدر علی جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں علی رضوان، تعظیم الحسن، امجد خان، معین شکیل، محمد کمال، محمد مشتاق، عدیل لطیف، محمد یعقوب اور سہیل ریاض، محمد ابوبکر عماد بٹ اور علی مبشر ٹیم کا حصہ ہیں۔  اس کے علاوہ محمد عتیق، رانا عبدالرحمٰن، محمد حماد الدین، ساران، افراز اور شان ارشاد کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ خیر شاہ، سہیل انجم، علی غضنفر اور جنید منظور بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے گول کیپر عمران بٹ انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔ بھارت میں ہونے والا ورلڈ کپ ان کا آخری ایونٹ تھا۔ عمران بٹ نے مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زائد میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اطلاعات کے مطابق قومی ہاکی ٹیم میں ایک بار پھر بڑا آپریشن کلین اپ شروع ہوچکا ہے لیکن ہاکی کے متعلقہ حلقے اس آپریشن سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا کھیل جتنے تجربات سے گزرا ، ان کے ہوتے ہوئے بھی کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ لہٰذا اب قومی ہاکی ڈھانچے کو مکمل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔