January 07, 2019
قادرخان انتقال کرگئے

قادرخان انتقال کرگئے

بولی وڈ کے ورسٹائل اداکار اور مصنف قادر خان طویل علالت کے بعد کینیڈا میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 81برس تھی۔ وہ چند سال سے بیمار تھے اور کافی عرصے سے کینیڈا میں ہی مقیم تھے۔ 46 سالہ فلمی کیریئر میں قادر خان نے فلم بینوں کو ہمیشہ اپنی پرفارمنس سے محظوظ کیا۔ تقسیم ہند سے قبل 1937ء میں افغانستان میں پیدا ہونے والے قادر خان نے 1971ء میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ قادر خان نے اپنے پورے کیریئر میں 250 فلموں کے لیے مکالمے لکھے جبکہ انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ بطور اداکار قادر خان کی پہلی فلم ’’داغ‘‘ (1973ء) تھی جس میں انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ کام کیا۔ قادر خان کو بچپن سے ہی فلمیں پسند تھیں اور انہیں ڈائیلاگز ادا کرنے کا شوق تھا۔ ایک رات فلموں میں کام کرنے والے اشرف خان نامی شخص ممبئی کے یہودی قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک بچے کو ڈائیلاگز کی طرح کچھ بولتے ہوئے سنا، وہ بچہ قادر خان تھا۔
اصل میں تو قادر خان کا فنی سفر اسی وقت شروع ہوگیا تھا۔ جب قادر خان نے بعد میں1977ء میں فلم ’’مقدر کا سکندر‘‘ لکھی تو اس میں ایک اہم سین ہے جہاں بچپن میں امیتابھ بچن رات کو قبرستان میں ماں کے مرنے پر رو رہے تھے۔ وہاں سے گزرنے والا ایک فقیر (قادر خان) اس بچے سے کہتا ہے کہ ’’اس فقیر کی ایک بات یاد رکھنا۔ زندگی کا صحیح لطف اٹھانا ہے تو موت سے کھیلو ، سُکھ تو بے وفا ہے چند دنوں کے لیے آتا ہے اور چلا جاتا ہے، دُکھ تو اپنا ساتھی ہے، اپنے ساتھ رہتا ہے، پونچھ دے آنسو۔ دکھ کو اپنا لے۔ تقدیر تیرے قدموں میں ہوگی اور تو مقدر کا بادشاہ ہوگا۔‘‘
یہ سین قادر خان نے اپنے گھر کے پاس واقع قبرستان میں ہی لکھا تھا۔ قادر خان نے 70ء کی دہائی سے ڈائیلاگز لکھنے اور فلموں میں اداکاری تک خوب نام کمایا۔ ’’خون پسینہ‘‘، ’’لاوارث‘‘، ’’پرورش‘‘، ’’امر اکبر انتھونی‘‘، ’’نصیب‘‘، ’’قلی‘‘ کے مکالمے قادر خان نے ہی لکھے، تاہم قادر خان کی ابتدائی زندگی کافی تکالیف سے بھری رہی۔ کئی انٹرویوز میں قادر خان بتا چکے ہیں کہ افغانستان میں ان کے جنم سے پہلے ان کے تین بھائیوں کی موت ہو چکی تھی جس کے بعد ان کے ماں باپ نے افغانستان چھوڑ کر بھارت جانے کا فیصلہ کیا۔ قادر خان کے بچپن میں ان کے والدین کی طلاق ہوگئی۔ انہوں نے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا اور ممبئی کے کالج میں پڑھانے لگے۔ کالج میں ایک بار ناٹک یعنی تھیٹر مقابلہ تھا جہاں نریندر بیدی اور کامنی کوشل جج تھے۔ قادر خان کو بہترین اداکار و مصنف کا انعام ملا اور ساتھ ہی ایک فلم کے لیے مکالمے لکھنے کا موقع بھی ملا، جس کے لیے انہیں 1500روپے معاوضہ دیا گیا۔ یہ فلم ’’جوانی دیوانی‘‘ (1972ء) تھی جو کہ ہٹ ہوئی اور یوں قادر خان بطور اسکرین رائٹر فلموں کے لیے قلم چلانے لگے۔ قادر خان کی زندگی نے اہم موڑ 1974ء میں لیا جب من موہن ڈیسائی اور راجیش کھنہ کے ساتھ فلم ’’روٹی‘‘ کے لیے اسکرپٹ لکھنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے ڈائیلاگز من موہن ڈیسائی کو اس قدر پسند آئے کہ انہوں نے قادر خان کو ایک لاکھ 20ہزار روپے معاوضہ دیا۔ یہ پہلی بار قادر خان کو ڈائیلاگ لکھنے پر ایک لاکھ سے زیادہ کا معاوضہ ملا تھا۔ قادر خان کی لکھی فلمیں اور ڈائیلاگز ایک کے بعد ایک ہٹ ہونے لگے۔ ’’اگنی پتھ‘‘، ’’ستے پہ ستا‘‘، ’’ شرابی‘‘ جیسی فلموں میں امیتابھ کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک مکالمے قادر خان نے لکھے۔ فلم ’’داغ‘‘ (1973ء) میں اداکاری کے بعد قادر خان ولن کے روپ میں لوگوں میں پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ 1983ء میں قادر خان نے فلم ’’ہمت والا‘‘ لکھی اور اپنے لیے کامیڈی کردار بھی لکھا۔ تب تک وہ ولن موڈ سے باہر آنا چاہتے تھے۔ وہاں سے ان کے لکھنے اور اداکاری دونوں میں تبدیلی کا دور شروع ہوگیا۔ مکالموں میں نفاست کی جگہ ٹپوری پن والے ڈائیلاگ نے لے لی۔ قادر خان فلموں کی بگڑتی زبان کا الزام خود کو بھی دیتے تھے۔ 90ء کی دہائی تک آتے آتے قادر خان نے لکھنا کم کر دیا لیکن ڈیوڈ دھون، گوندا کے ساتھ ان کی جوڑی خوب جمنے لگی لیکن تب بھی اپنے ڈائیلاگ وہ خود ہی لکھتے۔ بنِا خود ہنسے یا آڑے ترچھے منہ بنائے بغیر فلم بینوں کو کیسے ہنسایا جا سکتا ہے، یہ گُر قادر خان میں تھا۔