January 07, 2019
رانی مکھرجی پر تنقید

رانی مکھرجی پر تنقید

بولی وڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی نے بھی بھارت میں ’’می ٹو‘‘ مہم پر رائے دی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے بیان پر شدید مخالفانہ ردّعمل سامنے آیا ہے۔ رانی مکھرجی نے حال ہی میں دپیکا پڈوکون، عالیہ بھٹ، انوشکا شرما، تبو اور تاپسی پنو کے ساتھ ایک پروگرام میں شرکت کی تھی جس میں متعدد موضوعات پر بات کی گئی۔ ’’می ٹو‘‘ مہم پر اپنی رائے دیتے ہوئے رانی مکھرجی نے کہا کہ خواتین کو خود کو اتنا مضبوط بننے کی ذمہ داری لینی چاہئے کہ وہ اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کو ایسے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے اور مارشل آرٹس سیکھنا چاہئے تاکہ وہ جنسی ہراساں کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے سکیں۔ رانی مکھرجی نے کہا کہ خواتین مارشل آرٹس سیکھ کر خود کو مضبوط سمجھ سکیں گی اور اپنا تحفظ خود کرسکیں گی۔ ان کے بقول مارشل آرٹس کو اسکول میں لڑکیوں کے لیے لازمی بنانا چاہئے۔ دپیکا پڈوکون، عالیہ بھٹ اور انوشکا شرما نے اس بارے میں رانی مکھرجی سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا تھا کہ تمام خواتین اس کے لیے تیار نہیں ہوسکتیں۔ رانی مکھرجی کے نقطۂ نظر پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اداکارہ ان افراد میں شامل ہیں جو اس طرح کے واقعات کا ذمہ دار خواتین کو قرار دیتے ہیں، حملہ آوروں کو نہیں، تاہم کچھ نے ان کی رائے کو سراہا بھی۔ رانی مکھرجی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ خواتین کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ خواتین اس حد تک خود مختار ہوجائیں کہ کوئی بھی شخص ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کرسکے۔
اس سے پہلے اداکارہ پریٹی زنٹا کو بھی می ٹو مہم کے حوالے سے بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے اس پر ٹوئٹر پر معذرت اور وضاحت بھی جاری کی تھی۔ ’’می ٹو‘‘ مہم کے حوالے سے اداکارہ نے کہا تھا ’’میرا خیال ہے کہ می ٹو مہم کا شروع ہونا ضروری تھا لیکن خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مہم کو صحیح جگہ استعمال کریں، کیوں کہ ایسی بھی بہت سی خواتین ہیں جو اپنے مفاد کے لیے اسے استعمال کر رہی ہیں تاکہ انہیں مقبولیت مل سکے۔‘‘
اس پر پریٹی زنٹا سے سوال کیا گیا کہ کیا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کبھی کسی نے انہیں جنسی ہراساں کیا؟ تو اس پر اداکارہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’نہیں میرے ساتھ می ٹو کا کوئی تجربہ نہیں لیکن کاش ہوتا، تاکہ میں بھی کچھ شیئر کرسکتی۔‘‘
بعدازاں بولی وڈ اداکارہ نے انٹرویو لینے والے صحافی پر الزام عائد کیا کہ ان کے بیان کو ایڈٹ کرکے اس معاملے کو غیراہم اور غیر حساس بنایا گیا۔ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔