تازہ شمارہ
Title Image
January 07, 2019
بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھوبالا کی سرگزشت - قسط  :    03

بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھوبالا کی سرگزشت - قسط : 03

اُن کے رومانی سین یادگار ہوگئے

معاون اداکارہ کمو، جس نے فلم ’’راج ہٹ‘‘ اور ’’پھاگن‘‘ میں مدھو بالا کے ساتھ کام کیا، وہ بھی مدھو بالا کے بہت قریب تھی۔ وہ ان چند افراد میں سے ایک تھی جن کا مدھو بالا کے گھر میں آنا جانا تھا۔ مدھو بالا جن دنوں ’’انسان جاگ اٹھا‘‘ میں کام کر رہی تھی، وہ اس کی زندگی کا ایک نہایت کٹھن اور تکلیف دہ دور تھا۔ اس دوران اداکارہ مینو ممتاز نے مدھو بالا کا بہت ساتھ دیا۔ اس کی دلجوئی بھی کی اور حالات کی مناسبت سے، اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق مشورے بھی دیئے۔ مدھو بالا کی ایک عادت بہت عجیب تھی۔ کبھی کبھی کسی معمولی بات پر اس کی ہنسی چھوٹ جاتی تھی تو پھر رُکنے میں نہیں آتی تھی۔ اس کے جو ساتھی اداکار اور ڈائریکٹرز اس کی اس عادت سے واقف تھے، وہ تو اس کے بے تحاشا ہنسنے کا برا نہیں مانتے تھے لیکن جو لوگ پہلی بار اسے اس طرح ہنستے دیکھتے تھے اور انہیں یہ لگتا تھا کہ مدھو بالا ان کی کسی بات پر ہنس رہی ہے، وہ بہت برا منا جاتے تھے۔ تاہم مدھو بالا ان سے معذرت کر لیتی تھی۔ ’’مغل اعظم‘‘ کے ہدایت کار، کے آصف کی دوسری بیوی نگار سلطانہ جس کی آنکھیں سبز تھیں اور جس نے ’’مغل اعظم‘‘ میں کام بھی کیا ہے، اسے بھی ایک بار ڈانس کی شوٹنگ کے دوران ایسا لگا جیسے مدھو بالا اس کی کسی غلطی پر ہنس رہی ہے۔ اس بات پر دونوں کے درمیان اچھی خاصی کشیدگی ہو گئی تھی۔ تاہم جب مدھو بالا نے معذرت کر لی تو معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ مدھو بالا کو اپنی ہنسی پر قابو نہ ہونے کے سلسلے میں ایک واقعہ اس کی بہن مدھر بھوشن نے بھی سنایا۔ اس کا کہنا تھا۔ ’’مدھوبالا کو ایک بار ایک سینئر اداکار کے ساتھ محبت کا سین پکچرائز کرانا تھا۔ جب بھی وہ سینئر اداکار اپنے چہرے پر شدید اور گمبھیر قسم کے تاثرات طاری کر کے مدھو بالا کے قریب آتا تو مدھو بالا کی بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی اور پھر یہ ہنسی رکنے میں نہ آتی۔ تنگ آ کر ڈائریکٹر نے شاٹ بدل دیا۔ طے پایا کہ اس شاٹ میں مدھو بالا کا چہرہ نہیں بلکہ پشت کیمرے کی جانب ہو گی۔ یہ شاٹ اس طرح لے تو لیا گیا لیکن اگر کوئی ذرا غور سے دیکھے تو اس میں مدھو بالا کی کمر ہولے ہولے ہلتی دکھائی دے رہی ہے۔ دراصل وہ اس وقت بھی ہنس رہی تھی لیکن کیمرے کی طرف پیٹھ ہونے کی وجہ سے اس کی ہنسی چھپی رہی۔‘‘ بولی وڈ کے سنہرے دور کا تذکرہ اس زمانے کے مشہور معاشقوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہ معاشقے شہرت حاصل کرنے اور اپنے بارے میں اخبارات و رسائل میں زیادہ سے زیادہ خبریں اور تصویریں چھپوانے کے لیے نہیں ہوتے تھے۔ ان کے پیچھے سچے عشق کے شدید اور بے لوث جذبات کارفرما ہوتے تھے۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے ذہنوں میں ان معاشقوں کی یادوں کے نقوش مکمل طور پر نہیں مٹے ہیں۔ موتی لال اور شوبھنا سمرت، کامنی کوشل اور دلیپ کمار، راج کپور اور نرگس، دیوآنند اور ثریا، گرودت اور وحیدہ رحمان، اشوک کمار اور نلنی جیونت، دلیپ کمار اور مدھو بالا کے عشق کی کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ موتی لال جب بستر مرگ پر تھے اور ان کے منہ پر آکسیجن کا ماسک لگا ہوا تھا تو شوبھنا انہیں دیکھنے آ گئی۔ موتی لال نے اشارے سے نرس کو قریب بلایا اور آکسیجن ماسک ہٹانے کا اشارہ کیا۔ نرس نے ڈرتے ڈرتے آکسیجن ماسک ہٹایا تو موتی لال کے ہونٹوں پر کمزور سی مسکراہٹ رینگ آئی اور وہ گہری سانس لے کر بولے۔ ’’جب شوبھنا میرے پاس ہوتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میں آکسیجن ماسک کے بغیر بھی سانس لے سکتا ہوں۔‘‘ نلنی جیونت کا گھر اشوک کمار کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا۔ اشوک کمار نے نلنی جیونت کو بہتر طور پر دیکھنے کے لیے اپنے گھر کی ٹیرس پر اسٹینڈ والی دوربین رکھی ہوئی تھی۔ انہیں اگر نلنی جیونت کی محض ایک جھلک بھی دکھائی دے جاتی تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہتا۔ دلیپ کمار کا جن دنوں مدھو بالا سے معاشقہ چل رہا تھا تو وہ محض عید کا دن مدھو بالا کے ساتھ گزارنے کے لیے مدراس میں اپنی فلم کی شوٹنگ بیچ میں چھوڑ کر ہوائی جہاز سے ممبئی آ گئے تھے حالانکہ وہ ایک ایسے فنکار تھے جن میں پیشہ ورانہ احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔ کام کے معاملے میں وہ کبھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے اور ڈسپلن کے پابند تھے لیکن عشق انہیں بھی کبھی کبھار ان کے اصول بھلا دیتا تھا۔ شاید یہ حقیقی زندگی میں ان فنکاروں کے شدید عشق ہی کا نتیجہ تھا کہ کئی فلموں میں ان کے، محبت کے سین یادگار ہو کر رہ گئے۔ جن معاشقوں کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان میں سے صرف دلیپ کمار اور مدھو بالا، دیوآنند اور ثریا کو چھوڑ کر باقی معاشقوں میں زیادہ کشیدگی اور ہلچل اس لیے رہی کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک پہلے ہی سے شادی شدہ تھا لیکن اس کے باوجود ان معاشقوں کی وجہ سے کسی کا گھر نہیں اجڑا، کسی شادی شدہ جوڑے کے درمیان طلاق نہیں ہوئی۔ نرگس ’’مدر انڈیا‘‘ کے بعد راج کپور کی زندگی اور ان کے اسٹوڈیو سے نکل گئی تھی اور اس نے جا کر سنیل دت سے شادی کرلی تھی۔ اس کے بعد وہ جتنا عرصہ زندہ رہی، اس نے پلٹ کر راج کپور کی طرف نہیں دیکھا۔ دلیپ کمار کو نوجوانی کے زمانے میں کامنی کوشل سے عشق ہوا تھا جبکہ کامنی کوشل پہلے سے شادی شدہ تھی۔ اس کی شادی اس طرح ہوئی تھی کہ اس کی شادی شدہ بہن کا انتقال ہو گیا تو کامنی کوشل کے والدین اور اس کے خاندان والوں نے اس کا خلاء پر کرنے کے لیے کامنی کوشل کی شادی اس کے رنڈوے بہنوئی سے کر دی۔ وہ اپنی شادی سے کوئی خاص خوش نہیں تھی لیکن اس شادی ہی کی وجہ سے دلیپ کمار سے اس کا عشق کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس پر اتنا دبائو پڑا کہ اسے دلیپ کمار سے عشق کا ناتا توڑنا پڑا۔ گرودت کے وحیدہ رحمان سے عشق کی وجہ سے اس کی گھریلو زندگی میں طوفان برپا ہو گیا اور اس کی بیوی گیتا دت نے اس کی زندگی اجیرن کر دی۔ اس عشق کو کوئی انجام ملتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ شاید اس لیے گرودت نے موت کو گلے لگا لیا۔ مشہور تو یہی ہے کہ گرودت نے خودکشی کی تھی لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی موت خودکشی تھی۔ اس سلسلے میں ایک اندازہ یہ بھی قائم کیا گیا تھا کہ زندگی کے آخری دنوں میں نہ صرف اس کی مے نوشی بڑھ گئی تھی بلکہ وہ شراب میں نیند کی گولیاں بھی ملا کر پینے لگا تھا اور زندگی کی آخری رات اس سے اپنے آخری پیگ میں، نادانستگی میں، نیند کی زیادہ گولیاں گر گئی تھیں جن کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ یوں یہ عشق ایک المناک انجام سے دوچار ہوا۔ ثریا کو اس کی نانی نے دیوآنند سے شادی نہیں کرنے دی۔ ان کے درمیان مذہب کا مسئلہ بھی تھا لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا تب بھی شاید ثریا کی نانی، ثریا کو شادی نہ کرنے دیتی۔ شاید یہ سونے کی چڑیا ہاتھ سے نکل جانے کا مسئلہ تھا۔ دیوآنند نے جب دیکھ لیا کہ ثریا اپنے گھر والوں اور نانی کی حکم عدولی نہیں کرے گی تو اس نے اس عشق پر صبر کر لیا اور اپنی ساتھی اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کرلی لیکن ثریا نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ شواہد بتاتے ہیں کہ اسے زندگی کے آخری دن تک، دیوآنند سے شادی نہ کرنے کا پچھتاوا رہا۔ ایک انٹرویو میں اس نے خود بھی اعتراف کیا کہ اس کی زندگی کا واحد پچھتاوا یہی تھا۔ مدھو بالا کو جب دلیپ کمار سے اپنی شادی ممکن نظر نہ آئی تو اس نے گویا آنکھیں بند کر کے گڑھے میں چھلانگ لگا دی اور کشور کمار سے شادی کر لی جو بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ دلیپ کمار اور مدھو بالا کے عشق میں تمام فلمی لوازمات موجود تھے۔ مدھو بالا کے والد کی صورت میں سماج کی دیوار، ڈرامائی موڑ، جذباتی اتار چڑھائو، صدمے، دل شکن حالات، حتیٰ کہ عدالت کے مناظر بھی موجود تھے۔ اس عشق کی ناکامی نے مدھو بالا کے دل پر زیادہ گہرا زخم ڈالا۔ ٭ … ٭ …٭ مدھو بالا کا اصل اور پورا نام ’’ممتاز جہاں بیگم دہلوی‘‘ تھا۔ وہ ویلنٹائن ڈے پر، یعنی 14فروری کو، 1933ء میں پیدا ہوئی۔ ویلنٹائن ڈے کی علامت ’’دل‘‘ ہے اور مدھو بالا کی زندگی میں اس کے دل اور دل میں جنم لینے والے محسوسات نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ مدھو بالا دہلی میں پیدا ہوئی اور اس کا تعلق ایک پٹھان فیملی سے تھا۔ اس کے والد کا نام عطا اللہ خان تھا۔ مدھو بالا کی زندگی اور کیریئر پر سب سے زیادہ اثرات عطا اللہ خان ہی کے رہے۔ وہ ایک سخت گیر آدمی تھے اور بچوں کی تربیت کے سلسلے میں بہت زیادہ نظم و ضبط اور اپنی مرضی چلانے کے قائل تھے۔ مزاج کے بھی تیز تھے۔ مشکل سے ہی کسی کے دوست بنتے تھے لیکن اگر بن جاتے تھے تو پھر اچھے دوست ثابت ہوتے تھے۔ مدھو بالا کی والدہ ایک سیدھی سادی، غیر تعلیم یافتہ اور خالص گھریلو عورت تھیں۔ مدھو بالا کے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے انہوں نے فلموں سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ ان کی زندگی گھر اور گھرداری تک محدود تھی۔ مدھو بالا کی بہن مدھر بھوشن نے معروف فلمی جریدے ’’فلم فیئر‘‘ کے مئی2008ء کے شمارے کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے اور اپنی زندگی کے ابتدائی دور کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے بتایا ’’میرے والد دہلی میں، امپیریل ٹوبیکو کمپنی میں کام کرتے تھے لیکن اپنی تیزمزاجی کی وجہ سے انہیں یہ ملازمت چھوڑنی پڑ گئی جس کے بعد ہمیں بہت کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہماری فیملی بہت بڑی تھی۔ اتنے بڑے کنبے کے لیے گزر اوقات آسان نہیں تھی۔ والد صاحب ہمیں لے کر ممبئی آ گئے جو اس زمانے میں بمبئی کہلاتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ شاید ممبئی میں کوئی ملازمت مل جائے یا کوئی اور ذریعہ معاش میسر آ جائے لیکن ممبئی میں بھی یہ توقع پوری نہ ہوئی۔‘‘ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممبئی میں بھی اس فیملی کو بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ مدھو بالا نے ایک انٹرویو میں کہا ’’کوئی وقت تھا کہ ہم سب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ ہمیں پتا ہی نہیں تھا، زندگی کے مسائل اور مشکلات کیا ہوتی ہیں لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔ زندگی بہت مشکل ہو گئی۔‘‘ عطا اللہ خان کو جب احساس ہوا کہ اس کے سامنے، اپنے اتنے بڑے کنبے کی گزر اوقات کے لیے کوئی راستہ نہیں، تو اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ ممتاز جو اس کی اولاد میں تیسرے نمبر پر تھی، سب سے زیادہ خوش شکل اور خوبصورت تھی۔ اگر اسے فلموں میں کام مل جاتا تو گھر میں کچھ پیسہ آنے کی صورت پیدا ہوسکتی تھی۔ گو کہ ممتاز ابھی چھوٹی ہی تھی، جوان نہیں ہوئی تھی لیکن فلموں میں کم عمر لڑکے لڑکیوں کے لیے بھی کردار نکلتے رہتے تھے۔ ممتاز اس وقت آٹھ سال کی تھی۔ مدھو بالا کی بہن مدھر بھوشن نے گویا اس سلسلے میں ایک قسم کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔ ’’بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید میرے والد ممتاز (مدھو بالا) کو اس کی مرضی کے خلاف، زبردستی فلموں میں لائے تھے۔ یہ خیال درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ممتاز کو بچپن ہی سے گانے، ڈانس کرنے اور شاعری پڑھنے کا شوق تھا۔ والد صاحب کو دراصل اس کے شوق دیکھ کر ہی اسے فلموں میں کام کرانے کا خیال آیا تھا اور جب وہ فلموں میں آئی تو پھر فلمیں خود بہ خود اس کی طرف آتی چلی گئیں۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ والد نے شروع میں ہی سوچ لیا تھا کہ وہ بس ممتاز کو اسٹوڈیوز میں لیے پھریں گے اور خود کبھی دوبارہ کمانے کے بارے میں نہیں سوچیں گے۔‘‘ ممتاز نے ’’بمبئی ٹاکیز‘‘ اسٹوڈیو کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ دیویکا رانی جو خود بھی ایک اداکارہ تھیں، اس اسٹوڈیو کو رائے بہادر چنّی لال کے ساتھ پارٹنر شپ میں چلا رہی تھیں۔ اسٹوڈیو ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے عام رواج کے مطابق یہ ایک فلم پروڈکشن ہائوس بھی تھا۔ دلیپ کمار کو بھی اسی ادارے کی روح رواں دیویکا رانی نے فلمی دنیا میں متعارف کرایا تھا۔ (جاری ہے)