January 28, 2019
’’پارکنسنز‘‘ کے مریض چلنے لگیں گے

’’پارکنسنز‘‘ کے مریض چلنے لگیں گے

برطانیہ میں پاکستانی طالبہ کی ایجاد کردہ چھڑی سے

لندن میں مقیم ایک پاکستانی طالبہ، جن کے نانا پارکنسنز ڈیزیز کی وجہ سے بہت زیادہ نقاہت والی زندگی گزار رہے تھے، نے ایک ایسی جدید چھڑی ایجاد کی ہے جس کے سہارے چلنے سے اس مرض میں مبتلا افراد کی زندگی قدرے بہتر ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی آف دی ویسٹ آف انگلینڈ کی 24 سالہ گریجویٹ مس نیہا شاہد چوہدری نے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اپنے نانا کو پاکستان میں پارکنسنز ڈیزیز کی اذیتیں جھیلتے دیکھا تھا اور ان کی حالت دیکھ کر ہی انہیں چلنے میں سہارا دینے والی یہ چھڑی ایجاد کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے نانا زندگی کے آخری دور میں اس بیماری میں مبتلا ہوئے اور ہم ان کی حالت بہتر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ جب ان کے گھٹنوں کے جوڑ اَکڑ جاتے تو وہ اکثر چلتے چلتے گر پڑتے اور اس طرح کئی بار زخمی بھی ہوئے۔‘‘ اس بیماری میں دماغ کے اعصابی نظام پر اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے پٹھوں کو حرکت دینے میں دُشواری ہوتی ہے اور مریض وقتی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ اب تک اس مرض کا کوئی مناسب علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے اور مریض کی خود اپنی قوت اِرادی پر اس بات کا انحصار ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ حرکت کر سکے گا یا نہیں۔ نیہا نے بتایا کہ انہوں نے اس چھڑی پر اپنی یونیورسٹی کے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ انگلستان میں بہت سارے لوگوں پر اس اِسٹک کا تجربہ کیا جا چکا ہے اور نیشنل ہیلتھ سروسز (NHS) نے بھی ان کے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس مقصد کے لئے نیہا نے خود اپنی کمپنی ’’واک ٹو بیٹ‘‘ (Walk to Beat) قائم کی ہے۔ یہ چھڑی پلاسٹک سے بنائی گئی ہے جو ہلکی پھلکی ہے اور آسانی سے اُٹھائی جا سکتی ہے۔ اس میں ہائی ٹیک سنسرز لگے ہیں جو مردہ پٹھوں کو پھر سے متحرک کرتے ہیں اور ٹانگوں کو حرکت دینے میں مریضوں کی مدد کرتے ہیں۔ نیہا چوہدری نے جو چھوٹی سی ’’واکنگ اِسٹک‘‘ ایجاد کی ہے، اس کی برطانوی ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔ ان کی اس ایجاد کو استعمال کرنے والے افراد کی ٹانگیں جب جام ہو جاتی ہیں اور وہ اپنا چلنا پھرنا جاری نہیں رکھ سکتے تو اس وقت یہ چھڑی ان کی حالت کا سراغ لگا لیتی ہے۔ جونہی چھڑی کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرکت میں وقفہ آ گیا ہے، اسی وقت اس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس سے مریض کی حرکت میں باقاعدگی آ جاتی ہے اور وہ پھر سے چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ نیہا نے وضاحت کی کہ ان کی ایجاد دیکھنے میں ایک عام واکنگ اِسٹک نظر آتی ہے لیکن اس کے پلاسٹک ہینڈل میں ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس چھڑی میں ایک سینسر لگا ہوا ہے جو اس بات کا پتہ چلاتا ہے کہ استعمال کرنے والے نے کس وقت قدم اُٹھانا چھوڑ دیا ہے یا اس کے قدم ڈگمگا رہے ہیں۔ جس کے بعد یہ فوری طور پر ہینڈل میں لگے وائبریٹر کو پیغام بھیجنا شروع کر دیتا ہے اور وائبریٹر ارتعاشی لہریں خارج کرتا ہے جس سے مریض دوبارہ چلنے لگتا ہے۔ نیہا نے بتایا کہ یہ چھڑی مریضوں کیلئے اس وقت یاددہانی کے آلے کے طور پر کام کرتی ہے جب ان کی ٹانگیں ’’منجمد‘‘ ہو جاتی ہیں۔ جب مریض چلتے چلتے رُک جاتا ہے یا اس کے پٹھے اَکڑ جاتے ہیں تو یہ آلہ اس حالت کو محسوس کرتا ہے اور جب مریض دوبارہ چلنے لگتا ہے تو وائبریٹر خودکار طور پر آف ہو جاتا ہے۔ اس چھڑی کو استعمال کرنے والے مریضوں نے بتایا کہ یہ آلہ چلنے کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور وہ لوگ اس کے ساتھ اپنی رفتار ملانا سیکھ جاتے ہیں۔ نیہا نے کہا کہ میں نے یہ آلہ روایتی چھڑی کی طرح اس لئے بنایا ہے کہ لوگ مریضوں اور ان کی حالت کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ نیہا نے اپنا حتمی آزمائشی آلہ ’’روبوٹکس انوویشن فیسیلٹی‘‘ میں پیش کیا جو برسٹل روبوٹکس لیبارٹری میں واقع ہے جہاں یہ آلہ تیار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 2 سال کے عرصے میں اس واکنگ اِسٹک کی تیاری کے سلسلے میں وہ تقریباً ایک لاکھ پائونڈ کا سرمایہ حاصل کر چکی ہیں۔ نیہا چوہدری نے بتایا کہ برطانیہ میں تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار افراد پارکنسنز میں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میں روزانہ تقریباً 100 افراد کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اس مرض سے متاثر ہیں۔ دو سال پہلے برطانوی وزارت داخلہ نے ویزا تجدید کرنے والے درخواست فارم میں ایک غلطی کی وجہ سے نیہا چوہدری کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا لیکن بعد میں ان کی خدمات کے پیش نظر ان کے ویزا کی تجدید کر دی گئی اور انہیں برسٹل میں قیام کی اجازت دے دی گئی۔