January 28, 2019
بچوں کو انٹرنیٹ دور کررہی ہیں؟

بچوں کو انٹرنیٹ دور کررہی ہیں؟

سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، نوجوان نسل کیا، اہم عہدوں پر فائز سنجیدہ اور باشعور افراد بھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ سوشل ویب سائٹس ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے، جس سے دامن چھڑانا ممکن نہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے بڑھتے رابطے نے جہاں زندگی کو نئی سہولت سے متعارف کروایا ہے، وہیں یہ بھی سچ ہے کہ اب معاشرتی تعلقات، محبت اور دوستی کے رشتوں کے بجائے ڈیجیٹل انداز میں ڈھل رہے ہیں۔ سماجی زندگی، موبائل کی اسکرین تک محدود ہے، اور حال یہ ہے کہ برابر میں بیٹھے فرد سے زیادہ، انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ جو ایسے ماحول میں سمجھدار افراد کے لیے سوشل میڈیا کو محفوظ انداز میں استعمال کرنا مشکل ہے تو بچوں سے یہ امید کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو معتدل انداز میں استعمال کرسکیں گے؟
آج بچوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے دور کرنا بہت مشکل ہے، انٹرنیٹ تک آسان رسائی نے برقی رابطہ قائم کرنا بے حد سہل کردیا ہے، ایک سروے کے مطابق، ہر سال سوشل ایپس استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان ایپس کو استعمال کرنے والوں کی زیادہ تر تعداد نوعمر بچوں پر مشتمل ہے۔ اس صورتحال میں والدین پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اپنے بچوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا محفوظ استعمال سکھانے کی ذمہ داری۔ مان لیجئے کہ آپ بچے پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی پابندی نہیں لگا سکتیں، یہ تعلیمی سرگرمی، علمی تحقیق و تجربے کے لیے ناگریز ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال، جدید تعلیمی نظام کا حصہ ہے، ایسی صورت میں ان پر پابندی لگانا، یا یہ سمجھنا کہ موبائل اور کمپیوٹر سے دور کرنا ہی واحد حل ہے، غلط فہمی پر مبنی ہے۔ بطور والدین آپ کا فرض ہے کہ بچے کو اچھی، بری عادت اور مناسب، ضروری استعمال کا فرق سمجھائیں۔ جب بچہ انٹرنیٹ اور موبائل کے مضرات کو سمجھے گا، تب ہی ان کا بہترین استعمال سیکھ سکے گا۔ زیادہ تر مائیں بچوں پر زور زبردستی کے ذریعے پابندی لگانے کی کوشش کرتی ہیں، موبائل فون چھین لیے جاتے ہیں، انٹرنیٹ پر پابندی لگا کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب بچے ان چیزوں سے دور ہوجائیں گے لیکن نتیجہ اس کے متضاد ہوتا ہے، اس لیے اپنے گھر کو میدان جنگ نہ بنائیے جبکہ آپ محبت اور سمجھداری، صبر اور عقل سے یہ کام کر سکتی ہیں۔
سوچئے، آپ بچے کو موبائل اور سوشل میڈیا سے دور کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ کیونکہ آپ کا خیال ہے کہ ان سے گہری وابستگی بچے کا معمول متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے، سوشل ویب سائٹس سے لگائو، بچے کی ذہنی اور جذباتی شخصیت بھی متاثر کرنے کا سبب ہوتی ہے۔ لیکن کیا یہ باتیں بچوں کو زور زبردستی سے سمجھائی جاسکتی ہیں؟ بچے اس عمر میں نازک احساسات کے مالک ہوتے ہیں، یہ معاملہ آپ کی سمجھداری کا امتحان ہے۔ سب سے پہلے صبر کا دامن تھام لیجئے، کیونکہ اس کے بعد ہی آپ اپنے بچے کو انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے اور اس کے مضراثرات سے بچنے کی تربیت دے سکیں گی۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالے سے بچوں کی تربیت کیجئے: میڈیا ہماری زندگی پر کیا اثر ڈال رہا ہے، اس سلسلے میں سمجھانے اور بتانے کے لیے اب بھی دیر نہیں ہوئی، جس طرح آپ دیگر معاملات میں نرمی اور محبت سے بچوں کی تربیت کرتی ہیں، میڈیا بھی اسی طرح زندگی کا حصہ ہے۔ ان کو بتائیے، ایک محدود اور محتاط رابطہ قائم کرنا کیوں ضروری ہے اور یہ کیسے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ جب آپ ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے ایک خاص فاصلہ رکھیں گی تو بچے بھی اس عادت کو مثبت انداز میں اپنائیں گے۔
عمر کے مطابق تربیت :بچوں کو 13برس کی عمر تک سوشل میڈیا اور کمپیوٹر ڈیوائسز سے دور رکھنا بہتر ہے۔ 7سے 11برس کی عمر میں بچوں کے سوچنے کا انداز حتمی ہوتا ہے، فرضی یا قیاس پر مبنی باتیں سمجھنے اور سمجھانے کیلئے یہ عمر بے حد نازک ہے۔ وہ اس عمر کی معصومیت اور انٹرنیٹ کے منفی تاثر کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے، اس لیے امید ہے کہ آپ جو بھی سمجھائیں، اس کو وہ نظر انداز کردیں، اس لیے بہتر ہے کہ 13برس کی عمر سے پہلے ان کو سوشل میڈیا اکائونٹ اور ڈیجیٹل رابطے کی وسیع دنیا سے دور رکھا جائے۔
نوعمر بچوں کا سوشل میڈیا پرہونا، خطرناک کیوں ہے:بچے معصوم جذبات کے مالک ہوتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا، نفرت، ناپسندیدگی، بدتمیزی اور منفی جذبات کے اظہار کی سب سے اہم جگہ بن چکا ہے۔ ایک ہی جماعت یا شہر اور ملک سے تعلق رکھنے والے اجنبی اور جانے پہچانے افراد، تنقید کرتے ہوئے کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ اس مسئلے سے بچنے کا طریقہ زور زبردستی نہیں بلکہ بچے میں بہترین انتخاب کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے۔