January 28, 2019
صائمہ انصار اک سندر سی ناری فیشن کے اس پار

صائمہ انصار اک سندر سی ناری فیشن کے اس پار

صائمہ انصار، فیشن ماڈل ہیں، وہ ٹی وی پر اداکاری بھی کرنا چاہتی ہیں اور فلموں میں کام کرنا بھی، ان کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ماڈلنگ کے دوران اُنہیں ان دونوں کاموں کی آفرز بھی اکثر ہی آتی رہتی ہیں مگر صائمہ چاہتی ہیں کہ وہ پوری توجہ صرف ماڈلنگ پر مرکوز رکھیں۔
صائمہ کو راتوں رات شہرت کا کوئی شوق نہیں ہے، وہ بہت زیادہ پیسے کمانے کی آرزومند بھی نہیں ہیں۔ وہ پچھلے چھ سال سے صرف ماڈلنگ کررہی ہیں مگر آنے والے چھ سالوں میں وہ خود کو ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ اداکاری کے میدان میں بھی ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتی ہیں۔
7؍جولائی کو کراچی میں پیدا ہونے والی صائمہ کا برج سرطان (اسٹار کینسر) ہے۔ بچپن سے ہی شرارتی صائمہ کو ماڈلنگ کا شوق شروع سے ہی تھا، وہ ٹی وی ڈراموں اور کمرشلز میں خوبصورت بنی سنوری لڑکیوں کو دیکھ کر پہلے ہی سوچ چکی تھیں کہ ایک دن وہ بھی ایسی ہی گلیمرس بن کر دکھائیں گی، اس کام کے لیے اُنہیں بہت زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی اور دراز قد، تیکھے نقوش، گوری رنگت اور جادوبھرے نینوں کی حامل، صائمہ انصار کو ابتدائی آڈیشنز میں ہی کامیابیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ مختلف برانڈز کے نسبتاً چھوٹے فیشن شوٹس کے ذریعے اُنہوں نے اس شعبے میں اپنی آمد کا بگل بجایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، نہ جانے کب وہ معروف ماڈلز کی صف میں آکھڑی ہوئیں۔
صائمہ کو گلیمر انڈسٹری میں سپورٹ کرنے والے تو اتنے ہی ملے جتنے ان کی راہ میں روڑے اٹکانے والے تھے مگر وہ خاص طور پر اپنے والد جیسے بڑے بھائی اور والدہ کے اس اعتماد کو اپنا سب سے بڑا سہارا سمجھتی ہیں۔ جنہوں نے قدم قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایا اور یہ سمجھایا کہ کوئی شعبہ برا یا اچھا نہیں ہوتا، البتہ اس میں کام کرنے والے اچھے یا برے ضرور ہوسکتے ہیں۔ اُنہیں یقین ہے کہ اگر کوئی لڑکی نہ چاہے تو ماڈلنگ اور اداکاری جیسے شعبوں میں بھی کوئی اس کی طرف میلی آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔
وہ اس عمومی خیال کو بھی رَد کرتی ہیں کہ ایک ماڈل کو آگے بڑھنے کے لیے اپنے احساسات کی قربانی دینا پڑتی ہے، وہ مانتی ہیں کہ ماڈلنگ میں لابی سسٹم ہی سکہ رائج الوقت ہے اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر راتوں رات سپر اسٹار کا درجہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے مگر بقول صائمہ انصار کے یہ ماڈل کی چوائس ہوتی ہے کہ وہ اپنے لیے کون سا راستہ منتخب کرتی ہے۔ اُنہوں نے کبھی ماڈلنگ کو ایک ایسے لانچنگ پیڈ کی طرح استعمال کرنے کا نہیں سوچا جو اُڑن کھٹولے پر بٹھاکر اُنہیں ٹی وی اور فلموں تک اُڑا لے جائے۔ وہ کراچی اور لاہور کی فیشن سیاست سے خود کو الگ تھلگ رکھ کر کام کررہی ہیں اور اُنہیں یہ بھی یقین ہے کہ ایک دن انہیں ان کے صبر اور محنت کا پھل ضرور ملنے والا ہے۔
صائمہ نے اب سے چھ سال قبل ایک نوآموز ماڈل کے طور پر ریمپ پر قدم رکھا تو اُنہیں بڑی مشکلات کا سامنا تھا، ہر طرف سے کاٹ کرنے والے ان جیسی نئی ماڈلز کے تعاقب میں تھے مگر اب جبکہ وہ ساری اونچ نیچ سمجھ چکی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بعد آنے والی ماڈلز کو ایک ایسا پلیٹ فارم میسر ہو جہاں صرف میرٹ ہی بڑے اسائنمنٹس کی ضمانت سمجھی جائے، سینئر ماڈلز، عمر کی مخصوص حد کراس کرنے کے بعد نئی آنے والیوں کے لیے جگہ خالی کریں اور نئے نئے فیشن کوریو گرافرز، فوٹوگرافرز اور فیشن ڈیزائنرز کا بول بالا ہو، جنہیں صرف اپنے برانڈ کی پروموشن سے غرض ہو، ان کا مقصد کسی ماڈل کو نیچا دکھا کر، اپنی من پسند ماڈل کا قد اونچا کرنا نہ ہو۔
صائمہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹی ہیں، اس لیے بہت لاڈپیار میں ان کی پرورش ہوئی ہے۔ وہ اپنی ضد کو اپنی خراب عادتوں میں شمار کرتے ہوئے اس سے باز رہنے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنی خوش اخلاقی کو اپنے ظاہری حسن و ادا کے بعد، اپنی کامیابی میں اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ اُنہیں ماڈلنگ کے دوران جہاں اچھے اچھے کردار ملے، کچھ حوصلہ دینے والے سینئرز کے ساتھ بھی ان کا واسطہ رہا مگر وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ پروفیشنل جیلسی میں سینئرز سے زیادہ وہ جونیئر ماڈلز آگے نظر آتی ہیں جن کو اپنی صلاحیتوں پر اعتبار نہیں ہے، ایسی ماڈلز وقت سے پہلے اوپر کی منزل پر چڑھنے کی کوشش میں، جلدی نیچے گر جاتی ہیں یا یوں کہیے کہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے کھودتے خود اسی میں گر جاتی ہیں۔
صائمہ کو مشرقی اور مغربی ملبوسات دونوں ہی پسند ہیں مگر اُنہیں سب سے زیادہ مزا عروسی ملبوسات کی ماڈلنگ میں آتا ہے۔ وہ خود کو زرق برق کپڑوں اور بھاری جیولری سے مرصع دیکھ کر، صرف فوٹوشوٹ کی حد تک خوش ہوتی ہیں لیکن اس کے بعد سادہ سا گھریلو لباس ہی اُنہیں سکون دیتا ہے۔ وہ عام ماڈلز کی طرح ڈائٹنگ ضرور کرتی ہیں مگر خود کو کمزور کرلینے کے لیے، اپنی مرغوب غذاؤں سے اجتناب کو بھی غلط سمجھتی ہیں۔ ان کے خیال میں ایک ماڈل کو بھی سب کچھ کھا لینا چاہیے مگر ایک حد میں رہ کر۔ وہ اچھا کھانے، اچھا پہننے اور دلکش دکھائی دینے کے علاوہ گھومنے پھرنے کی بھی بہت شوقین ہیں اور صرف مزیدار کھانے ہی اُنہیں پسند نہیں بلکہ اچھی کوکنگ بھی صائمہ کے شوق کا حصہ ہے۔
فیشن ریمپ کے اس پار کھڑی، اک سندر سی نار، صائمہ انصار کے لیے کوئی نئی کامیابی، منزل نہیں بلکہ نشان منزل ہے اور بظاہر پُرخار راستوں کا طویل اور کٹھن سفر، ہر ہر قدم پر اُنہیں ایک ایسی روشن صبح کی طرف لے جارہا ہے جو صائمہ کے خیال میں بس اب بہت قریب ہے۔