February 04, 2019
پاکستان ایک غیر ملکی سفرنامہ نگار خاتون ایوازو بیک کی نظر میں!

پاکستان ایک غیر ملکی سفرنامہ نگار خاتون ایوازو بیک کی نظر میں!

ایوازو بیک کا تعلق پولینڈ سے ہے۔ وہ ایک نوجوان، سفر نامہ نگار ہیں۔ وہ اپنے سفرناموں پر مشتمل بلاگ لکھتی ہیں جو سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ اس سال کے آغاز پر انہوں نے پاکستان کی سیاحت کی اور اس کے بارے میں جو بلاگ لکھے، وہ سب سے زیادہ مقبول ہوئے بلکہ یوں کہیے کہ وائرل ہو گئے۔ یوٹیوب پر ان کی ڈالی ہوئی وڈیوز کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے دیکھا اور بہت پسند کیا۔ ان میں سے بیشتر لوگوں نے گویا پاکستان کا یہ ’’چہرہ‘‘دیکھا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ایسے گوشوں کی جھلکیاں لوگوں کو دکھائیں جو دنیا کی نظر سے چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی روزمرہ زندگی اور گلی کوچوں کے ایسے مناظر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے جو ان کے لیے انوکھے تھے۔
ایوازوبیک کے پاکستان آنے سے پہلے ان کے سامنے پاکستان کا جو امیج پیش کیا گیا تھا، اس کے مطابق تو ان کے ذہن میں ایک ایسے ملک کا نقشہ تھا جہاں دور دور تک چٹیل میدان اور صحرا تھے، جہاں کوئی خوبصورت یا قابل دید منظر نہیں تھا۔ انہیں یہ کہہ کر بھی ڈرایا گیا کہ کسی خاتون سیاح کا وہاں تنہا جانا خطرے سے خالی نہیں۔ ایوازوبیک کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والے بیشتر غیرملکی سیاحوں کے سامنے پاکستان کا یہی امیج پیش کیا جاتا ہے لیکن جب وہ پاکستان آتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں، مختلف علاقوں میں جاتے ہیں اور اس ملک سے شناسائی حاصل کرتے ہیں تو انہیں پتا چلتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ سنا، وہ جھوٹ تھا، صرف سنی سنائی اور خیالی باتوں سے انہیں ڈرایا جا رہا تھا۔ لوگ جو کچھ کہہ رہے تھے، معاملہ اس کے بالکل اُلٹ ہے۔ یہ غیرمہذب یا بدمزاج لوگوں کا نہیں بلکہ نہایت مہربان اور خوش اخلاق لوگوں کا ملک ہے جو مسافروں، مہمانوں اور پردیسیوں کے ساتھ محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں، ان کی خاطر مدارت کرتے ہیں، بوقت ضرورت ان کے کام آتے ہیں۔ یہ صرف چٹیل میدانوں اور صحرائوں کا ملک بھی نہیں ہے۔ یہاں تو جیسے خوبصورت اور متنوع، ایک دوسرے سے نہایت مختلف مناظر اور قدرتی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں، ویسے مناظر دنیا میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی آمد سے پہلے سیّاح اور گھومنے پھرنے کے شوقین لوگ مختلف ممالک کے بارے میں زیادہ تر سنی سنائی باتوں یا پھر ان ملکوں کے ٹورازم ڈپارٹمنٹ کے شائع کردہ کتابچوں میں دی گئی معلومات پر ہی انحصار کرتے تھے لیکن اب آپ کو ایوازوبیک جیسے بہت سے لوگوں کے ذاتی تجربات سے سوشل میڈیا کی بدولت آگاہی حاصل ہو سکتی ہے۔ یوٹیوب پر ان کی ڈالی ہوئی جو وڈیوز نہایت ذوق و شوق سے، لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے دیکھی ہیں، ان میں سے ایک کا عنوان ہے ’’وہ باتیں جو مغربی میڈیا اسلام آباد کے بارے میں کبھی نہیں بتائے گا۔‘‘ (What West Won't Tell You About Islamabad)
اس وڈیو میں ایوازوبیک آپ کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گاڑی ڈرائیو کرتی دکھائی دیں گی۔ وہ آپ کو بتا رہی ہیں کہ انہوں نے دنیا کے جن ممالک کے دارالحکومت دیکھے ہیں، اسلام آباد ان میں سب سے زیادہ سرسبز ہے۔ وہ آپ کو ایک کیفے میں ایک ڈرنک سے لطف اندوز ہوتی، پھر مغربی طرز کے ایک شاپنگ سینٹر میں خریداری کرتی نظر آئیں گی۔ وہاں کافی کے کئی ایسے امریکی برانڈز بھی رکھے نظر آئیں گے جن کے بارے میں ایوا آپ کو بتائیں گی کہ انہوں نے اس سے پہلے ان کے نام بھی نہیں سنے تھے۔
وہ کھانے پینے کی چیزوں کی کئی دکانوں پر بھی جائیں گی جن میں ایک ایسی بیکری بھی شامل ہوگی جسے پولینڈ کے لوگ چلا رہے ہیں۔ وہ بلجیم کے ایک ریسٹورنٹ اور انٹرنیشنل فرنچائزڈ دکانوں پر بھی جاتی دکھائی دیں گی۔ پھر مارگلہ ہلز پر نظر آئیں گی جہاں سے شہر کا خوبصورت نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو اس سے بہت مختلف دکھائی دے گا جو امریکی ٹی وی شو ’’ہوم لینڈ‘‘ میں دکھایا جاتا ہے۔ اس میں کبھی کبھی اسلام آباد کو ایک ایسے گنجان شہر کے طور پر دکھایا جاتا ہے جہاں چھوٹی چھوٹی عمارتیں ہیں جن پر گرد جمی ہوئی ہے اور سڑکیں گندی ہیں جبکہ ایوا کے خیال میں اسلام آباد ایک صاف ستھرا اور جدید شہر ہے۔
ایک اور وڈیو میں ایوازوبیک کراچی میں گھومتی پھرتی، بریانی کھاتی، گھوڑے اور منی بس کی سواری کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر میراتھن ریس میں حصہ لیتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک تازہ وڈیو میں وہ گوادر میں، سندھ کی قدیم روایتی چادر ’’اجرک‘‘ اوڑھے نظر آتی ہیں۔
ایوازوبیک نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں فرانسیسی اور جرمن زبان کی تعلیم حاصل کی ہے۔ ٹریول بلاگر بننے سے پہلے انہوں نے ایک میڈیا ہائوس میں سیاحت کے شعبے میں کام کیا ہے۔ وہ ’’کلچر ٹرپ‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کرتی تھیں۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ہی انہوں نے ملازمت چھوڑی ہے۔ وہ آزادانہ طور پر کام کرنا چاہتی تھیں۔ اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے محسوس کیا تھا کہ وڈیو ایک نہایت مؤثر اور طاقتور ذریعۂ اظہار اور ذریعۂ ابلاغ ہے۔ انہوں نے ایک کیمرا خرید کر نہ صرف وڈیو بنانا، بلکہ انہیں ایڈٹ کرنا بھی سیکھا۔ پھر انہوں نے سیاحت شروع کر دی۔ اب تک وہ پاکستان، بھارت، نیپال، چین اور منگولیا کی سیاحت کرچکی ہیں۔
شروع میں انہیں تھوڑی سی الجھن ہوئی کیونکہ وہ کیمرا لے کر وڈیو بناتی اور لوگوں سے باتیں کرتی گلی کوچوں، سڑکوں اور بازاروں میں پھرتی تھیں تو سب لوگ رک کر ان کی طرف دیکھنے لگتے تھے، بعض اوقات تو مجمع بھی لگ جاتا تھا لیکن اب وہ ان چیزوں کی عادی ہو گئی ہیں۔ اس وقت ایک لاکھ سے زائد افراد ان کی وڈیوز باقاعدگی سے دیکھنے لگے ہیں جو سیر و سیاحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ان کا پسندیدہ ترین علاقہ سوات ہے جو ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے باعث بربادی اور خوف کی آماجگاہ بنے رہنے کے بعد دوبارہ امن اور خوبصورتی کی طرف لوٹ آیا ہے۔
سوات میں ایوا کو ایک دکان میں ایک خوبصورت شال نظر آئی۔ انہوں نے بعض لوکیشنز پر اسے تصویروں میں استعمال کرنے کے لیے خریدنا چاہا مگر دکاندار نے بتایا کہ شال پورے ڈریس کے ساتھ تھی۔ ایوا کو ڈریس کی ضرورت نہیں تھی۔ دکاندار نے کہا کہ آپ ڈریس سمیت شال ’’مستعار‘‘ لے جائیں۔ شال کو فوٹوگرافی میں استعمال کرنے کے بعد شام کو ایوا وہ سب چیزیں واپس کرنے پہنچی تو اس نے ڈریس اور شال کے سلسلے میں ادائیگی کرنا چاہی۔ دکاندار حالانکہ ایک غریب سا آدمی دکھائی دیتا تھا لیکن اس نے کوئی معاوضہ لینے سے انکار کر دیا۔ وہ ایوا کے انتہائی اصرار کے باوجود پیسے لینے پر آمادہ نہ ہوا۔ ترجمان کے ذریعے اس نے ایوا سے صرف یہ فرمائش کی’’آپ سوات کی اس شال کے ساتھ تصویریں دنیا سے شیئر کریں اور انہیں بتائیں کہ ہم امن پسند اور شریف لوگ ہیں، دہشت گرد نہیں ہیں۔ اگر ہماری طرف سے آپ یہ پیغام تھوڑے سے لوگوں کو بھی دے دیں گی تو بس یہی میرا معاوضہ ہو گا۔‘‘
ایوا بتاتی ہیں کہ غریب اور اَن پڑھ دکاندار کی یہ بات سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
گزشتہ ماہ ایوا نے ایک ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے بارے میں ایک سیاحتی پروگرام سوشل میڈیا چینلز پر لانچ کیا ہے۔ اس میں وہ پاکستان کے ان علاقوں کی سیر کراتی ہیں اور ان کے بارے میں بتاتی ہیں جن کے بارے میں دنیا کے لوگوں کو تو کیا، خود پاکستانیوں کو بھی بہت کم معلومات ہیں۔ ان میں بلوچستان اور سندھ، بشمول کراچی، کے علاقے قابلِ ذکر ہیں۔ یہ شو ہفتے میں پانچ دن چلتا ہے مگر جلد ختم ہو جائے گا۔ یہ شو، فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر چل رہا ہے۔ تعارفی پروگرام میں ایوا نے کہا تھا کہ مغربی میڈیا سیروسیاحت کے نقطۂ نظر سے پاکستان کو بہت کم کوریج دیتا ہے۔
اس پروگرام میں انہوں نے بتایا کہ ایک بار میں لاہور میں اپنے کام کے دوران اپنے عملے کے ساتھ ایک ’’چھپر ہوٹل‘‘ یا ’’ڈھابے‘‘ سے کھانا کھا کر نکلی تو ایک آدمی شور مچاتا، دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا۔ میں ڈر گئی لیکن پھر میں نے دیکھا، اس کے ہاتھ میں میرا پرس تھا، جو میں اندر ہی میز پر بھول آئی تھی۔ اس میں میری رقم،کریڈٹ کارڈ، پاسپورٹ،سب کچھ تھا۔ ویٹر کے طور پر کام کرنے والا اور خاصا غریب سا دکھائی دینے والا وہ شخص میرا پرس مجھے دینے کیلئے دوڑا آ رہا تھا۔ ایوا کہتی ہیں ’’میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں، یہ ہے اصل پاکستان…!‘‘