February 04, 2019
انسدادِ تجاوزات مہم کامیاب غیر مؤثر؟

انسدادِ تجاوزات مہم کامیاب غیر مؤثر؟

کراچی میں انسداد تجاوزات مہم کو شروع ہوئے 3ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شہر قائد کے قلب صدر میں واقع ایمپریس مارکیٹ اور قرب و جوار میں واقع تجاوزات مہم کے بارے میں رپورٹ گزشتہ ہفتے پیش کی گئی تھی۔ اس ہفتہ کراچی کی ایک اور تاریخی عمارت لی مارکیٹ اور دیگر اہم مقامات میں ہونے والے آپریشن کا احوال پیش خدمت ہے۔
لی مارکیٹ کی تعمیر 1927ء میں عمل میں آئی تھی۔ پہلے اس تاریخی عمارت کا نام، اس کو ڈیزائن کرنے والے برطانوی انجینئر کے نام پر میشام لی مارکیٹ(MEASHAM LEA) رکھا گیا تھا، جو بعد میں مختصر ہو کر لی مارکیٹ ہوگیا۔ اس جگہ کا انتخاب پرانے کراچی کی آبادی کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔ مارکیٹ سے جو راستے آبادیوں کی طرف جاتے تھے، ان میں نیپئر روڈ، کمہار واڑہ روڈ، شیدی ولیج روڈ، ایمبنکمنٹ روڈ (EMBANKMENT ROAD)، کندن اسٹریٹ اور ریور اسٹریٹ شامل ہیں۔ شروع میں یہ مارکیٹ دو گیلریوں (حصوں) پر مشتمل تھی، جس میں سبزیوں اور پھلوں کی تھوک فروشی کا کام ہوتا تھا۔ بعدازاں مرحلہ وار دودھ، گوشت اور مچھلی وغیرہ کے حصے قائم کئے گئے اور خوردہ فروخت بھی شروع ہوگئی۔ مارکیٹ کی بالائی منزل پر آویزاں کلاک ٹاور دور ہی سے اس کے صدر دروازے کا تعین کردیتا ہے۔ چونکہ یہ مارکیٹ پسماندہ علاقے لیاری میں واقع ہے لہٰذا کراچی کے دیگر مضافاتی علاقوں کی طرح اس کے اطراف میں بھی گندگی اور کوڑا کرکٹ کے انبار نظر آتے ہیں۔ موجودہ انسداد تجاوزات مہم سے پہلے بھی کئی بار اس علاقے میں تجاوزات اور منشیات کے خلاف آپریشن کئے جاچکے ہیں مگر مستقل بنیادوں پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ حالیہ آپریشن سے پہلے اس جگہ پر بیشتر وقت بدترین ٹریفک جام رہتا تھا اور رینگ رینگ کر آگے بڑھتا تھا۔ راہگیروں کو ایک ایک قدم بھی محتاط انداز میں رکھنا ہوتا تھا کہ نہ جانے کس لمحےکس سمت سے کوئی سواری آکر ٹکرا جائے۔
لی مارکیٹ میں آپریشن کے دوران ایک بار پھر ناجائز قابضین نے انتظامیہ کے کام میں مداخلت کی، تاہم ماضی کے برعکس اس دفعہ کی مہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اور تمام تر انتظامات کے ساتھ انجام پارہی تھی لہٰذا پُرتشدد کارروائی اور احتجاج کرنے والے زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کرسکے۔
انسداد تجاوزات کا تیسرا بڑا آپریشن زولوجیکل گارڈن (چڑیا گھر) کے دو اطراف میں تقریباً تین دہائیوں سے قائم سیکڑوں دکانوں کے خلاف ہوا، جنہیں عوام نے حیرت و استعجاب کے عالم میں دیکھا۔ ان کی حیرت کے دو بڑے سبب تھے۔ اوّل یہ کہ اس قدر اہم ترین تفریحی مقام پر اتنے طویل عرصے تک کتنے آزادانہ طریقے سے تجاوزات قائم کرکے کروڑوں، اربوں کا کاروبار ہوتا رہا اور انتظامیہ گھوڑےبیچ کر سوتی رہی۔ دوئم سبب یہ کہ سپریم کورٹ کا حکم اور اس پر انتظامیہ کا عمل درآمد اتنی آسانی سے ہوگیا۔ عوام نے اس اقدام کو قابل تحسین اور سکون و اطمینان کا باعث بھی قرار دیا کہ آئندہ قبضہ مافیا اس طرح کے ناجائز کام آنے سے پہلے سو بار ضرور سوچے گی۔ عوام کی خواہش ہے کہ انتظامیہ کراچی کے اتنے قدیم اور اہم ترین تفریحی مقام کو لاہور اور اسلام آباد کے چڑیا گھر جیسا صاف ستھرا، بدبو ، گندگی سے پاک اور تفریحی سہولتوں سے آراستہ بنانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
کراچی کی پرانی آبادیوں میں سے ایک برنس روڈ کا علاقہ قدیم بالکونی والے فلیٹوں اور فوڈ اسٹریٹ کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ اس نام کے حوالے سے ٹی وی ڈراموں نے بھی بے حد مقبولیت حاصل کی ہے۔ ایک زمانے میں یہاں کی ایک مٹھائی کی دکان اور تکہ، کباب اور نہاری کا ایک ریستوران اس قدر مقبول تھا کہ دوردراز علاقوں سے کھانے پینے کے شوقین افراد یہاں اہتمام سے آتے تھے۔ بعد میں تو یہاں پربریانی، حلیم، ربڑی وغیرہ کی مشہور دکانیں کھل گئیں۔ برنس روڈ کی اہمیت اس کے پہلو میں واقع ہائیکورٹ، سندھ اسمبلی اور سندھ سیکرٹریٹ کی وجہ سے بھی دوچند ہوجاتی ہے۔ سیاسی اثر رسوخ کی بناء پر آج تک کسی کو یہاںپر تجاوزات ہٹانے کی ہمت نہیں ہوسکی تھی۔ تاہم موجودہ پاور فل انسداد تجاوزات مہم میں سرکاری مشینری نے اتنی تیزی سے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ لوگوں کو یقین کرنا پڑا کہ یہ مہم بھرپورانداز میں چلائی جارہی ہے اور کسی بھی فرد یا ادارے سے نرمی یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب کوئی شخص کچھ عرصہ بعد یہاں کا دورہ کرتا ہے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا کہ بڑی بڑی حیثیتوں کے مالک اور رشوت خور اداروں اور اہلکاروں کو رشوت، بھتہ یا نذرانہ دے کر اپنا کاروبار جاری رکھنے والے آج بالکل بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ دیگر علاقوں کی طرح یہاں کے بیشتر افراد نے اپنی دکان یا مکان پر قائم تجاوزات کو خود اپنے ہاتھوں سے یا اپنی نگرانی میں ختم کیا۔
برنس روڈ سے بالکل قریب اُردو بازار اور آرام باغ کے علاقے میں بھی تجاوزات کے خلاف مہم کو شہریوں نے سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ کام عوام الناس کو سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے کیا ہے، اسی لئے وہ اس کا خیرمقدمکررہے ہیں۔ آرام باغ اور ایم اے جناح روڈ کے درمیان واقع فرنیچر مارکیٹ میں قائم تجاوزات نے تو ریکارڈ ہی توڑ دیا تھا۔ تجاوزات کے خاتمے کے بعد معلوم ہورہا ہے کہ قبضہ مافیا نے کتنی بڑی سرکاری زمین پر اپنا کاروبار پھیلا کر لوگوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔
ایم اے جناح روڈ پر کے ایم سی کی مرکزی عمارت کے قریب واقع لائٹ ہائوس یا لنڈا بازار کے نام سے پہچانے جانے والا مقام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دو دہائی قبل یہاں پر لائٹ ہائوس کے نام سے ایک سینما گھر ہوا کرتا تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سینما ہائوس پہلے بنا تھا یا لنڈا بازار والوں نے یہاں پہلے ڈیرے ڈالے تھے۔ البتہ یہ ’’لنڈا بازار‘‘ سیکنڈ ہینڈ گرم کپڑوں کی فروخت کے اعتبار سے کراچی بھر کے باشندوں کا ’’آئیڈیل‘‘ بازار رہا ہے۔ بڑی بڑی نامور کمپنیوں کے مہنگے ترین کوٹ، پتلون، سوئٹر، شال، جوگرز وغیرہ ان ہی سے ملتے جلتے(نقل) یہاں ایک چوتھائی سے بھی کم قیمت میں مل جاتے تھے، جو غریب اورمتوسط طبقے کا بھرم رکھ لیا کرتے تھے۔ شروع میں یہاں ایک دو درجن ہی اسٹال یا دکانیں قائم ہوئی تھیں مگر پھر رفتہ رفتہ دکانوں کی ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری لائن کا اضافہ ہوتا گیا اور یوں اس نے مارکیٹ کی شکل اختیار کرلی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں سے300 اور دکانداروں کے مطابق 450دکانوں کو مسمار کیا گیاہے۔
شہر کے مختلف علاقوں ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، ملیر، کورنگی، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور دیگر مین شاہراہوں کی فٹ پاتھوں پر گرم کپڑے فروخت کرنے والوں کا سیلاب امڈ آیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لنڈا بازار اور صدر سے بے دخل ہونے والے افراد نے یہاں پر ڈیرے ڈال دیئے ہیں، جو مستقبل میں انتظامیہ اور شہریوں کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایمپریس مارکیٹ، لی مارکیٹ، چڑیا گھر، لنڈا بازار، برنس روڈ، اردو بازار اور آرام باغ کے علاقے سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4700 اور دکانداروں کے بقول6900 دکانیں ختم کردی گئیں۔ جس سے تقریباً 30ہزار افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ان علاقوں میں آپریشن کے وقت میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر ذمہ داروں نے آپریشن سے متاثر دکانداروں، خاص طور پر کے ایم سی سے معاہدہ کرکے ٹیکس یا کرایہ دینے والوں کو متبادل جگہ اور دکانیں دینے کا وعدہ اور اعلان کیا تھا۔ کبھی خبر آئی کہ کے ایم سی دکانوں کی نیلامی روک دی گئی ہے اور یہ دکانیں متاثرین کو دی جائیں گی۔ کبھی اعلان کیا گیا کہ عنقریب آپریشن سے متاثرہ افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے دکانیں الاٹ کی جائیں گی مگر یہ وعدے اور اعلانات پورے نہ ہوسکے، جس سے بے روزگار ہونے والے افراد میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ’’اخبار جہاں‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے ایک دکاندار نے ڈبڈبائی آنکھوں سے سوال کیا کہ آپ خود سوچئے کہ کوئی آدمی دو ماہ تک بے روزگار رہے تو اس کے بیوی بچوں پر کیا گزرے گی؟ ہم روز کے کمانے والوں کے پاس اتنی رقم بھی جمع نہیں ہوتی کہ اگلے دن کا چولہا جل سکے۔ ایک چائے فروش نے کہا کہ میرا اسٹال ختم ہونے سے میرے ساتھ کام کرنے والے چار لڑکے بھی بے روزگار ہوگئے۔ ایک دکاندار نے شکوہ کیا کہ نیا پاکستان بنانے والوں نے ہماری زندگی ہی بدل کر رکھ دی یعنی ملیامیٹ کردی۔ انہوں نے لاکھوں نوکریاں تو کیا دینا ہے، ہزاروں افراد کو ضروربے روزگارکردیا ہے۔ فٹ پاتھ خالی کرانے کے ساتھ ہمیں بھی فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا۔
مختلف علاقوں کے دورے کے بعد یہ تشویش ناک صورت حال بھی سامنے آئی کہ جن جن مقامات پر دکانیں مسمار کی گئی ہیں، اب تک وہاں سے ملبہ اٹھانے کا کام مکمل نہیں کیا جاسکا۔ پورا شہر قائد کھنڈرات میں تبدیل ہوکر آثارِ قدیمہ کا منظر پیش کررہا ہے، جس سے ماحول میں آلودگی بڑھنے کے ساتھ ٹریفک جام کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ انسداد تجاوزات کا مشن وسیع کرنے سے پہلے آپریشن کئے گئے علاقوں سے ملبہ صاف کرکے منصوبے کے مطابق ان مقامات پر آرٹ گیلری، پارک اور دیگر تعمیرات قائم کی جائیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ علاقوں میں صبح سے دوپہر تک تو حالات معمول کے مطابق ہوتے ہیں مگر دن ڈھلتے ہی پھر پتھارے وغیرہ لگنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں شام کے بعد ٹھیلوں پر فروٹ اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے نصف سے زائد سڑک گھیر لیتے ہیں، جس سے تقریباً ہر بڑی سڑک پر بدترین ٹریفک جام ہونا معمول ہوگیا ہے۔ روزانہ قائم ہونے والی ان عارضی تجاوزات کو ہٹانا کے ایم سی اور ٹریفک پولیس میں سے کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، جس کا حل ہونا بے حد ضروری ہے۔ عوام الناس کا کہنا ہے کہ شہر کو اس کی اصل حالت میں لانے، خوبصورت اور دیدہ زیب بنانے اور لوگوں کو سہولتیں بہم پہنچانے کا اتنا کثیر المقاصد منصوبہ بنایا گیا ہے تو جب تک مسائل کو جوں کا توں رکھنے والے ان عوامل کا سدباب نہ کیا گیا تو اس اہم ترین منصوبے کے ثمرات عوام الناس کو نہیں پہنچ سکیں گےاور یہ منصوبےکراچی کو خوبصورت بنانے کی بجائے یہاں کے نچلے اورمتوسط طبقے کے معاشی قتلِ عام کے مترادف ہوں گے۔
بندوق اٹھائیں یاکچھ بھی کریں
غیر قانونی عمارتیں گرا کر کراچی کی
40 سال پرانی شکل بحال کریں، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ کے روبرو کنٹونمنٹ بورڈ میں عسکری اداروں کی جانب سے کمرشل تعمیرات سمیت شہر قائد میں تجاوزات سے متعلق سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ڈی ایچ والے تو سمندر کو بھی بیچ رہے ہیں، یہ سمندر کوبھی امریکہ سے ملانا چاہتے ہیں۔اس لیے کراچی تباہ کردیا گیا۔ کوئی خوب صورت مقام نہیں چھوڑا، ان کا بس چلے تو یہ سڑکوں پر بھی شادی ہالز بنادیں۔ وفاقی نہ و صوبائی، کراچی میں حکومت ڈی ایچ اے والے کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کراچی کو اصل پلان کے تحت بحال کرے۔ بندوق اٹھائیں یاکچھ بھی کریں۔ تمام غیر قانونی عمارتیں گرا کر کراچی کی 40 سال پرانی شکل بحال کریں۔ فوجی زمینوں پر کمرشل سرگرمیاں ختم کی جائیں۔ کم از کم 500 عمارتیں گرانا ہوں گی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی افتخار قائم خانی سے کہا کہ کام نہیں کرسکتے تو عہدے پر کیوں چمٹے بیٹھے ہو، آپ کے چپراسی بھی ارب پتی ہوگئے ہیں۔ آپ بھی چند دنوں بعد کینڈا چلے جائیں گے۔ آپ نے شہر کو لاوارث، جنگل اور گٹر بنادیا۔ آپ کے افسران آگ سے کھیل رہے ہیں۔ عدالت اس شہر کو وفاق کے حوالے بھی کرسکتی ہے۔ عدالت نے جام صادق پارک پرشادی ہال، شاپنگ سینٹر، پیٹرول پمپ اور اپارٹمنٹس کی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیا تھا لیکن آپ یہاں ہمارے سامنے اس کا دفاع کر رہے ہیں۔ آپ کو آپ کا فرض یادنہیں تو پھر آپ کو فارغ کردیتے ہیں۔ ایک موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ختم کریں لوکل حکومت، یہ خود کو سٹی فادر کہلاتے ہیں اور الف ب تک نہیں جانتے۔گلی گلی میں شادی ہال، شاپنگ سینٹر اور پلازوں کی اجازت کون دے رہا ہے۔ عدالت نے سندھ حکومت کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے شہر کی تباہی پر کابینہ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا۔
شہر کے مسائل کی پیچیدگی اور ان کے تمام پہلوئوں کو سمجھنے والوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ کراچی کی 40 سالہ پرانی شکل کو بحال کرنے کے لیے اس کی آبادی کو بھی چالیس سال پیچھے لے جانا ضروری ہے۔ گزشتہ 40 سال کے دوران مقامی آبادی میں اضافے کے علاوہ دوسرے صوبوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ شہر کی شکل بگڑنے میں اس کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ بھی ایک بڑی وجہ ہوتا ہے۔ اس کا کیا حل ہے؟ کیا کوئی یہ بھی بتائے گا؟ (جاری ہے)