February 04, 2019
ایمریٹس دنیا کی بہترین ایئرلائن کیسے بنی… ؟

ایمریٹس دنیا کی بہترین ایئرلائن کیسے بنی… ؟

یہ ایک فضائی کمپنی کے بام عروج تک پہنچنے کی داستان ہے، کس طرح محض دو ہلکے ہوائی جہازوں پر مشتمل یہ کمپنی تھوڑے ہی عرصے میں دنیا کی چوتھی بڑی ایئر لائن بن گئی۔ یہ ہے دبئی کی ایمریٹس ایئر لائنز کی ترقی کی کہانی، جس کے تناظر میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے عروج و زوال کے اسباب کو بھی دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے، جس کا شمار کبھی دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ہوا کرتا تھا اور اب وہ نشانِ عبرت بنی ہوئی ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سر ٹم کلارک گزشتہ تین عشروں سے ایمریٹس ایئر لائنز کے ساتھ منسلک ہیں اور اس وقت کمپنی کے پریذیڈنٹ کے طور پر فرائض منصبی ادا کررہے ہیں۔ ایمریٹس ایئر لائنز نے بےمثال عروج کا یہ سفر انہی کی نگرانی میں طے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں ہم نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ ایئر لائنز کی طویل فاصلے تک کی پروازوں کے نظریئے کو نئی شکل دی۔‘‘ سر ٹم کلارک کا دفتر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہی واقع ہے۔ وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پلے بڑھے تھے۔ 69سالہ ٹم کلارک ہوابازی کی صنعت میں شاندار تجربے کے حامل ہیں۔ انہوں  نے اپنے کیریئر کا آغاز ’’برٹش کیلیڈونین‘‘ ایئر لائنز سے کیا تھا، جس کے بعد وہ1970 ء کے عشرے کے وسط میں بحرین کی ’’گلف ایئر لائنز‘‘ کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ جب 1985ء میں ایمریٹس ایئر لائنز قائم کی گئی تو ٹم کلارک نے اس کے ’’ایئر لائن پلاننگ‘‘ کے شعبے کے سربراہ کے طور پر اس نئی نویلی فضائی کمپنی کو جوائن کرلیا۔ وہ 2003 ء میں اس کے صدر کے منصب پر فائز کیے گئے اور اس وقت سے اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔ ٹم کلارک دریا کے بہاؤ کی مخالف سمت میں تیرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جب انہوں نے اماراتی فضائی کمپنی کو جوائن کیا، اس وقت ہوابازی کی دنیا میں اس ایئر لائن کو کوئی جانتا تک نہ تھا۔ یہ کمپنی محض چند چھوٹے ہوائی جہازوں کے ساتھ حبس زدہ جیو پولیٹیکل اور کلچرل ماحول میں آپریٹ کررہی تھی۔ سر ٹم کلارک بتاتے ہیں ’’میرے ساتھیوں کا گروپ ہمیں پاگل سمجھتا تھا۔‘‘ انہیں 2014 ء میں ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی جانب سے برطانیہ کی خوشحالی اور ہوابازی کی صنعت کے لئے گرانقدر خدمات پر ’سر‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم نے جنگیں دیکھیں، بغاوتیں دیکھیں، کویت اوّل، کویت دوم، کروز میزائل، سب کچھ چل رہا تھا۔‘‘
اس کے بعد ایمریٹس، شروعات میں جس کا بیڑا صرف دو بوئنگ 727طیاروں پر مشتمل تھا، مسلسل ترقی کرتے کرتے آج مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی اور کارگو کے حساب سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی ایئر لائن بن چکی ہے۔ اس کے فضائی بیڑے میں شامل طیاروں کی تعداد 268 تک جا پہنچی ہے۔ 2017ء میں ایمریٹس ایئر لائنز نے پانچ کروڑ85 لاکھ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچایا اور 26لاکھ میٹرک ٹن کارگو بھی ہینڈل کیا۔ اس برس کمپنی نے 12؍ارب 10کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا۔ ایمریٹس ایئر لائنز کا مرکز دبئی میں ہے، جہاں سے اس کی پروازیں دنیا کے 6براعظموں سے تعلق رکھنے والے 180 شہروں تک جاتی ہیں۔ اگرچہ حریف فضائی کمپنیوں کی جانب سے ایمریٹس ایئر لائنز پر یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ متحدہ عرب امارات کی حکومت سے بھاری سبسڈیز (زر تلافی) حاصل کرتی رہی ہے، جسے حریف کمپنیاں ’’ان فیئر پلے‘‘ قرار دیتی ہیں۔ تاہم ان تمام الزامات کے باوجود ایمریٹس کامیابی کی منزلیں طے کرتی رہی اور آج مغربی دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ یہ کرشمہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہوگا۔
1980 ء کی دہائی میں متحدہ عرب امارات کے تعلقات اپنے پڑوسی ملکوں بحرین، عمان اور قطر کے ساتھ زیادہ خوشگوار نہ تھے اور ’’گلف ایئرویز‘‘ نے متحدہ عرب امارات کے لئے اپنی پروازیں کم کردی تھیں۔ ’’ایرو پالیٹکس‘‘ کا لفظ شاید ڈکشنری میں موجود نہ ہو لیکن اس وقت کے مشرق وسطیٰ میں یہ ایک بہت بڑی حقیقت بن چکا تھا۔ اس دور میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے یہ سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان کی اپنی فضائی کمپنی ہو۔ چنانچہ دبئی کے شاہی خاندان کے ایک بااثر رکن شیخ احمد بن سعید آل مکتوم نے، جو دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے سوتیلے چچا ہیں، یہ بیڑا اٹھایا اور اس مشن کو انتہائی کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
سر ٹم کلارک کہتے ہیں ’’ہمارا مرکز (دبئی) دنیا کے مشرقی نصف کرّے اور مغربی نصٖف کرّے کے بالکل درمیان میں واقع ہے۔ اس وقت (ایمریٹس کے قیام کے وقت) تک مشرق ابھرنا شروع نہیں ہوا تھا، آسمانوں میں مغربی فضائی کمپنیاں چھائی ہوئی تھیں۔‘‘ اس دور میں نئی کمپنی کی مینجمنٹ نے طویل فاصلے کی پروازوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر اس وقت پین ایم، لفت ہنسا اور برٹش ایئرویز جیسی بڑی مغربی ایئر لائنز کی اجارہ داری تھی۔ ٹم کلارک کے بقول ’’ان بڑی مغربی ایئر لائنز کی برتری اور سبقت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں مختلف ممالک کے مابین کیے جانے والے ایئر ایگریمنٹس میں بڑے تحفظات فراہم کیے گئے تھے، ہمیں ایمریٹس کے قیام کے بعد مختلف ملکوں کی حکومتوں کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے ایک مشن شروع کرنا پڑا کہ ترقی کا راستہ کثیرالفریقی (Multilateralism) ہے نہ کہ کچھ مخصوص فضائی کمپنیوں کو تحفظ دینا۔‘‘ وقت گزرنے کے ساتھ متحدہ عرب امارات دیگر ملکوں کے ساتھ ’’اوپن اسکائیز ایگریمنٹ‘‘ کرنے میں کامیاب ہوتا چلا گیا، جن کا مقصد ایئر لائنز کے روزمرہ اور پالیسی امور میں حکومتی مداخلت کو ختم کرنا تھا۔ اس ’’ایرو پولیٹیکل‘‘ کھیل اور امریکا اور یورپ جیسی بڑی مارکیٹس کی ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں ایمریٹس اور کئی دیگر فضائی کمپنیوں کے لئے طویل فاصلے کے فضائی سفر کے لئے نئے راستے تلاش کرنا ممکن ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں فضائی کمپنیوں کے درمیاں ایسے وائیڈ باڈی جیٹ طیاروں کے حصول کا مقابلہ شروع ہوگیا، جن میں زیادہ سے زیادہ مسافروں کو کھپایا جاسکے اور جو طویل ترین پروازیں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
مختلف ملکوں کے مابین نئے ایئر ایگریمنٹس کے نتیجے میں اب طویل فاصلے کی پروازیں زیادہ منافع بخش ہوگئی تھیں۔ ایمریٹس نے شروعات نسبتاً چھوٹے ایئربس A300 اور A330طیاروں سے کی، پھر ایئربسA340، اس کے بعد بہت بڑے سائز کے بوئنگ777اور پھر ایئربسA380 طیارے حاصل کرلئے۔ ڈبل ڈیکر ایئربسA380دنیا کا سب سے بڑا مسافر بردار طیارہ ہے۔ سر ٹم کلارک نے بھی پہلے پہل تو یہی خیال کیا تھا کہ 500سے زائد مسافروں کی گنجائش والا یہ ہوائی جہاز ضرورت سے زیادہ بڑا ہے لیکن پھر یہی طیارہ ایمریٹس کا ’’فلیگ شپ‘‘ اور پہچان بن گیا۔ ابتدا میں اماراتی فضائی کمپنی نے ایسے 15طیارے حاصل کئے تھے، اس تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا اور اب ایمریٹس کے بیڑے میں شامل ایئربس A380طیاروں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی ہے، انہی کی مدد سے ایمریٹس ایئر لائنز کے لیے آسمانوں پر اپنی بالادستی قائم کرنا ممکن ہوا۔
تاہم ایمریٹس کی یہ ترقی اس کی حریف کمپنیوں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ امریکی ایئر لائن انڈسٹری نے ماضی میں یہ الزام بھی لگایا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایمریٹس اور ابوظبی کی ’’اتحاد ایئرویز‘‘ کی معاونت کے لئے سرکاری امداد، ایئرپورٹ فیس سے استثنیٰ اور دیگر مدوں میں 25؍ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جو کہ ’’اوپن اسکائیز ایگریمنٹس‘‘ کی خلاف ورزی ہے۔ ایمریٹس ایئر لائنز ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے اور اپنے بیانیے کے حق میں ’’پرائس واٹر ہاؤس کوپرز‘‘ جیسی مؤقر فرم کے پبلک آڈٹس کا حوالہ دیتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود امریکی فضائی کمپنیوں اور لیبر یونینز پر مشتمل ایک ٹریڈ گروپ 2015ء سے امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا چلا آیا ہے کہ وہ ایمریٹس کے خلاف کارروائی کرے۔ اسی تناظر میں مئی 2018ء میں امریکا اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک سمجھوتا طے پایا، جس کی رو سے امارات کی فضائی کمپنیاں اب زیادہ شفاف اکاؤنٹنگ انفارمیشن جاری کیا کریں گی۔
ایمریٹس اور دبئی کی حکومت پر حریف فضائی کمپنیوں کی جانب سے کچھ اور حوالوں سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے، مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات میں لیبر یونینز پر پابندی ہے، جس کے سبب ناقدین کے بقول ایمریٹس کو تنخواہیں کم رکھنے اور حسب ضرورت ملازمین کی چھانٹی میں بڑی سہولت ملتی ہے، اس کے علاوہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ہوائی اڈوں پر رات کے وقت شور کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں، جن کے باعث یہ ایئرپورٹ رات کے اوقات میں پروازوں کے لیے بند کردیئے جاتے ہیں، اس کے برعکس دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو ایمریٹس ایئرلائنز کا ہب (Hub) ہے، کبھی پروازوں کے لیے بند نہیں ہوتا، شاید یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈا بن گیا ہے۔ اس ایئرپورٹ کا ایک ٹرمینل صرف ایمریٹس ایئر لائنز کے لیے مختص ہے۔ یاد رہے کہ دبئی ایئرپورٹ نے2014 ء میں دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹ کا اعزاز لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے چھینا تھا اور پانچ سال سے کامیابی سے اپنے اس اعزاز کا دفاع کررہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2018ء میں دبئی ایئرپورٹ آنے اور یہاں سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد 9کروڑ رہی جبکہ اس ہوائی اڈے پر 4لاکھ 8ہزار پروازوں نے لینڈ اور ٹیک آف کیا۔
تاہم سر ٹم کلارک کو نکتہ چینی کی کوئی پروا نہیں اور ان کے خیال میں ایمریٹس کا مستقبل نہایت تابناک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ ایمریٹس ایئر لائنز نے رواں برس صرف ایندھن کی مد میں 10؍ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ایمریٹس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایئرپورٹس پر تمام سروسز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر وغیرہ کی مدد سے خودکار ہوجائیں گی۔ ایمریٹس نے پہلے قدم کے طور پر دبئی میں ’’ٹرائل بایو میٹرک پاسپورٹ کنٹرول ٹنل‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے مستقبل میں ایئر لائنز کے لیے ہوائی اڈوں پر تعینات اپنے عملے کی تعداد کو بہت کم کردینا ممکن ہوجائے گا۔ سر ٹم کلارک کہتے ہیں ’’میں ایک پرامید شخص ہوں اور مجھے ایسا ہونا بھی چاہیے۔ میں گزشتہ 45 برس سے مشرق وسطیٰ میں زندگی گزارتا آیا ہوں، اب میں یہاں کے ماحول میں ڈھل چکا ہوں۔‘‘
ایمریٹس ایئر لائنز اپنے عملے کو بہترین عملی تربیت فراہم کرتی ہے۔ ایمریٹس کی سینئر وائس پریذیڈنٹ برائے کیبن کریو ٹریننگ کیتھرین بیئرڈ بتاتی ہیں کہ ایوی ایشن کالج میں فلائٹ اٹینڈنٹس کی ٹریننگ تین شفٹوں میں ہوتی ہے، جو صبح ساڑھے پانچ بجے شروع ہوکر رات ساڑھے11 بجے ختم ہوتی ہیں۔ ہر ہفتے 120 نئے فلائٹ اٹینڈنٹس، ٹریننگ کالج آتے ہیں، جہاں انہیں ہوائی جہازوں کے ’’لائف سائز ریپلیکا‘‘ میں کھانے اور مشروبات سرو کرنے کے علاوہ واٹر لینڈنگ، آتشزدگی اور دیگر مختلف ایمرجنسی ڈرلز کرائی جاتی ہیں۔ ایمریٹس جیسی تربیتی سہولتیں شاید ہی دنیا کی کسی اور ایئر لائنز کے پاس ہوں۔ ایمریٹس ایوی ایشن کالج میں تربیت پانے والے عملے کا تعلق دنیا کے 140 ملکوں سے ہے، جو یہاں دو ماہ تک تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ٹرینی عملے کے سلیکشن کا معیار بہت ہی سخت ہے۔ ہر سال تین ہزار کے لگ بھگ اسامیوں کے لیے کم و بیش دو لاکھ امیدوار درخواست دیتے ہیں اور کڑی چھان پھٹک کے بعد ان میں سے موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔