February 04, 2019
اور شاہ ایران کیلئے زمین تنگ ہوگئی! آخری قسط

اور شاہ ایران کیلئے زمین تنگ ہوگئی! آخری قسط

]گزشتہ سے پیوستہ 21؍تا 27؍جنوری کے شمارے میں آپ نے سابق شہنشاہ ایران محمد رضا پہلوی کے باقی ماندہ اہل و عیال کی موجودہ زندگی کے بارے میں پڑھا ہوگا۔ اب یہ جانئے کہ شاہ ایران نے جلاوطنی کے بعد کن عبرت ناک حالات میں زندگی بسر کی اور پناہ کیلئے انہیں کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔[
ایران کے سابق شہنشاہ محمد رضا شاہ کو 1974ء میں ہی ان کے فرانسیسی ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہیں جس نے 6سال بعد ان کی جان لے لی لیکن اس راز کو اتنی ہوشیاری سے چھپایا گیا کہ امریکیوں کو بھی اس کی ہوا نہ لگ پائی کیونکہ 1977ء کے اواخر میں امریکی سی آئی اے نے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کو جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ شاہ پوری طرح صحت مند ہیں۔ اس علم کے بعد کہ موت ان کی گھات میں ہے، محمد رضا اپنی زندگی کے آخری سالوں میں اس قدر شدید افسردگی اور یاسیت کا شکار ہوئے کہ انہوں نے مملکت کے کاموں میں حصہ لینا ہی چھوڑ دیا۔ 1978ء کے موسم بہار میں جب طبیعت زیادہ بگڑنے لگی تو شاہ، عوام کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ مسلسل نزلہ، زکام میں مبتلا ہیں۔ مئی 1978ء میں محمد رضا نے ہنگری اور بلغاریہ کا دورہ اچانک منسوخ کر دیا حالانکہ اس دورے کی طویل عرصے سے تیاری کی جا رہی تھی اور پھر وہ منظرعام سے غائب ہوگئے۔ انہوں نے 1978ء کا پورا موسم گرما بحیرہ کیسپین کے کنارے اپنے پسندیدہ صحت افزا مقام پر گزارا جہاں فرانس کے دو ممتاز ڈاکٹرز جین برنارڈ اور جارجز فلینڈرین ان کا علاج کرتے رہے۔ ان کے کینسر کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ڈاکٹروں نے شاہ کو ایک کینسر کش دوا ’’پریڈنی سون‘‘ بھی استعمال کروائی جو دمہ اور جوڑوں کے درد میں بھی استعمال کی جاتی ہے لیکن اس دوا سے ڈپریشن اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں خلل واقع ہوتا ہے۔
ایک طرف شاہ ایران کی طبیعت مسلسل بگڑتی جا رہی تھی اور دوسری جانب پورے ملک میں احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ زور پکڑ چکا تھا۔ ایران کے شاہی دربار کو محمد رضا شاہ سے حکومتی معاملات پر فیصلوں کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا تھا کیونکہ وہ شدید مایوس کن حالات میں فیصلے کی صلاحیت کھو چکے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیرہ کیسپین کے تفریحی مقام پر وہ ان دنوں مسلسل دور خلائوں میں تکتے رہا کرتے تھے اور انقلاب، ایران کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ وہ شہنشاہ جو ہمہ وقت عالمی خبروں میں رہتے تھے، ان کے اچانک پس منظر میں جانے سے ان کی صحت کے بارے میں افواہوں نے زور پکڑ لیا اور شاہی رعب و دبدبہ کا طلسم اپنا اثر کھونے لگا۔ جون1978ء میں شاہ کے فرانسیسی ڈاکٹروں نے پہلی بار فرانس کی حکومت کو بتایا کہ محمد رضا کا کینسر کتنا سنگین ہوچکا ہے اور ستمبر1978ء میں فرانس نے امریکی حکومت کو خبر دی کہ شاہ کینسر کے مرض میں قریب المرگ ہیں۔ ایرانی نژاد امریکی مورخ عباس میلانی کے مطابق محمد رضا نے حکمرانی کا ایک بہت ہی مرکزی نظام بنا رکھا تھا جس میں تمام اہم فیصلے وہ خود کیا کرتے تھے لیکن1978ء کے موسم گرما میں وہ ذہنی طور پر تقریباً معذور ہو چکے تھے۔ ایک دن وہ جوش و جذبے سے بھرپور اور پُرامید نظر آتے اور دوسرے دن یا ایک گھنٹے بعد ہی ان پر غصے اور جھنجھلاہٹ کا دورہ پڑ جاتا۔ قوت فیصلہ کھونے کی وجہ سے پورا ملکی نظام تعطل کا شکار ہوچکا تھا۔ ان حالات میں ملکہ فرح دیبا نے متعدد بار شاہ کو مشورہ دیا کہ وہ بیرون ملک جا کر اپنے علاج پر توجہ دیں اور اپنا نائب بنا کر ملکی معاملات چلانے کی ذمہ داری انہیں سونپ دیں لیکن شاہ کی ’’مردانگی‘‘ اس مشورے کو قبول کرنے میں مانع رہی۔
محمد رضا شاہ نے پورے ملک کی طرح فوج کی کمان بھی اپنے ہاتھوں میں لے رکھی تھی اور اس فوج کو چونکہ شہری علاقوں میں پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں اور فسادات سے نمٹنے کی کوئی تربیت نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے ایسے کئی واقعات پیش آئے جن میں فوجی یونٹوں نے مشتعل ہجوم پر اندھادھند گولی چلا دی۔ سب سے خوفناک واقعہ 8؍ ستمبر 1978ء کو پیش آیا جسے بعد میں ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس روز تہران کے لالے پارک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ممکنہ مارشل لا کے نفاذ کے خلاف احتجاج کے لئے جمع تھی جس پر فوج نے فائرنگ کر دی جس سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ افسوسناک واقعہ ایرانی بادشاہت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ 2؍اکتوبر 1978ء کو شاہ نے بیرون ملک تمام حکومت مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔ یہ عام معافی روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے لئے بھی تھی جو اس وقت فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس وقت تک پورا ملک ہڑتالوں اور مظاہروں کی وجہ سے مفلوج ہو چکا تھا۔ دسمبر کے شروع میں60سے 90لاکھ افراد یعنی ملک کی 10فیصد آبادی نے پورے ایران میں شاہ کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ اس سے پہلے اکتوبر میں محمد رضا شاہ اپنے ہیلی کاپٹر میں، تہران میں نکالے گئے ایک بہت بڑے جلوس کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے دارالحکومت میں موجود امریکی اور برطانوی سفیروں کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور چیخ چیخ کر اپنے ماتحتوں کو بتا رہے تھے کہ برطانیہ اور امریکا نے ان کے ساتھ دغابازی کی ہے اور ان کی شہ پر یہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ 5؍نومبر 1978ء کو ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں شاہ نے کہا کہ ’’میں نے آپ کے انقلاب کی آواز سن لی ہے۔‘‘ دو دن بعد اپوزیشن کو رام کرنے کی کوشش میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور اپنے سابق وزیراعظم امیر عباس ہویدا کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا جس سے ان کے مخالفین کو مزید طاقت ملی اور حمایتیوں کی ہمت پست ہو گئی۔ دسمبر 1978ء میں شاہ کو معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے بہت سے جرنیل، انقلابی رہنمائوں سے رابطے میں ہیں اور اب فوج کی وفاداری پر مزید انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے ماہ انتہائی مایوسی کے عالم میں شاہ ایران نے اپوزیشن پارٹی نیشنل فرنٹ سے اپیل کی کہ کیا ان کا کوئی رہنما وزیراعظم بننے پر آمادہ ہے؟
7؍دسمبر1978ء کو اعلان کیا گیا کہ 5؍ جنوری1979ء کو امریکی صدر جمی کارٹر، فرانس کے صدر گسکارڈ ایٹنگ، مغربی جرمنی کے چانسلر شمٹ اور برطانیہ کے وزیراعظم کیلاہان، ایران کے بحران پر غور کرنے کیلئے فرانس کے جزیرے گوڈالوپ میں جمع ہوں گے۔ اس اعلان کو سنتے ہی شاہ ایران نے سمجھ لیا کہ مغربی رہنما ان سے پیچھا چھڑانے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے یہ ملاقات کر رہے ہیں۔ آخرکار 16؍جنوری 1979ء کو محمد رضا شاہ، وزیراعظم شاہ پور بختیار کی ایماء پر اپنے ملک کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوئے جنہوں نے باور کرایا تھا کہ اس طرح حالات پُرسکون ہو جائیں گے۔
شاہ کے ایران سے روانہ ہوتے ہی لوگوں نے پہلوی خاندان کے مجسموں پر حملے شروع کردیئے اور چند گھنٹوں کے اندر اس خاندان کی ایک ایک نشانی تباہ کردی گئی۔ وزیراعظم شاہ پور بختیار نے ایرانی خفیہ تنظیم ’’ساواک‘‘ کو تحلیل کرنے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے اعلان کے ساتھ برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے آیت اللہ خمینی کو وطن آنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے خمینی کے پیروکاروں کی شمولیت سے ایک ’’قومی اتحادی حکومت‘‘ کی تجویز بھی پیش کی لیکن خمینی نے ان کی یہ تجویز رد کرتے ہوئے اپنی عبوری حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا جس میں مہدی بازرگان کو وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ خمینی نے اعلان کیا کہ ’’قوم کی حمایت سے میں ریاست مقرر کروں گا۔‘‘ فروری 1979ء میں خمینی کے حامی انقلابی چھاپہ ماروں اور باغی فوجیوں کو سڑکوں اور گلی کوچوں میں ہونے والی خانہ جنگی میں بالادستی حاصل ہوگئی کیونکہ ایرانی فوج نے غیرجانبدار رہنے کا اعلان کیا تھا۔ بالآخر 11؍ فروری کو ایران کی شاہی حکومت کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔
جلاوطنی کے بعد مناسب پناہ گاہ کی تلاش میں سابق شاہ ایران کو کئی ملکوں کا سفر کرنا پڑا۔ سب سے پہلے وہ مصر کے شہر اسوان پہنچے جہاں صدر انوارالسادات نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ بعد میں انہوں نے کچھ عرصہ مراکش کے شاہ حسن دوئم کے مہمان کے طور پر ان کے ملک میں گزارا۔ محمد رضا نے اپنے دور اقتدار میں شاہ حسن کو 11؍ کروڑ ڈالر کا بلاسود قرضہ فراہم کیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ مراکشی بادشاہ ان کے احسان کا بدلہ چکائیں گے لیکن بہت جلد انہیں احساس ہوگیا کہ شاہ حسن کے کچھ اور مقاصد ہیں۔ اس وقت مراکش میں امریکی سفیر رچرڈ پارکر نے اپنی حکومت کو یہ رپورٹ بھیجی تھی کہ ’’مراکشی یہ سمجھتے تھے کہ شاہ اب بھی 2؍ ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور وہ اس لوٹ کے مال میں سے اپنا حصہ بھی چاہتے تھے۔‘‘ اس صدمے کے بعد محمد رضا مراکش چھوڑ کر بہاماس کے پیراڈائز آئی لینڈ میں قیام پذیر ہوئے اور پھر میکسیکو سٹی کے قریب کورناوا کا شہر میں میکسیکو کے صدر جوز لوپیز پورٹیلو کے مہمان بنے۔ سابق امریکی صدر رچرڈنکسن نے 1979ء کے موسم گرما میں میکسیکو میں شاہ کی عیادت کی تھی اور ان کے ساتھ آئے ہوئے ایک امریکی ڈاکٹر بنجامن کین نے محمد رضا کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا تھا کہ ’’شاہ کی ظاہری حالت انتہائی خراب نظر آرہی تھی۔ وہ واضح طور پر رکاوٹی یرقان کا شکار تھے اور خرابیاں بتارہی تھیں کہ ان کے پتے میں پتھریاں ہیں۔ انہیں بخار، سردی سے کپکپاہٹ اور پیٹ میں درد کی شکایت تھی جو صفرے کی نالی میں انفیکشن ظاہر کررہی تھی۔ گزشتہ 8 ہفتے سے وہ پیلیا میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے انتہائی کمزور نظر آرہے تھے۔ ان کے گردن میں گلٹیاں اور رسولیاں سخت ہوگئی تھیں اور تلی سوج گئی تھی۔ یہ ساری علامتیں بتارہی تھیں کہ ان کا کینسر بہت زیادہ بگڑ چکا ہے۔ وہ خون کی شدید کمی کا شکار تھے اور خون کے سفید خلیات کی تعداد بہت کم تھی۔‘‘ زیادہ افسوسناک بات یہ ہوئی کہ شاہ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر میکسیکن ڈاکٹروں کو یہ بتانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی ڈاکٹرز ان کی علامات کے پیش نظر انہیں ملیریا کی دوائیں دیتے رہے اور ان کا کینسر پھیلتا گیا۔
شاہ کے پتے میں پتھری کی وجہ سے جو مسائل ابھر رہے تھے، انہیں دور کرنے کیلئے ان کی فوری سرجری ضروری تھی۔ انہیں سوئٹزرلینڈ میں علاج کی پیشکش کی گئی لیکن وہ امریکا میں علاج کروانے پر بضد تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر، ایرانی دباؤ کے باعث محمد رضا کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینا چاہتے تھے لیکن بعض حلقوں کے دبائو کی وجہ سے انہیں جھکناپڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ اور شاہ کے دیرینہ دوست ہنری کسنجر نے فون کرکے کارٹر سے کہا کہ اگر شاہ کو امریکا آنے سے روکا گیا تو وہ ’’سالٹ II‘‘ معاہدے کی توثیق نہیں کریں گے جس پر کارٹر نے سوویت یونین کے ساتھ کچھ دنوں پہلے ہی دستخط کئے تھے اور انہیں کسنجر جیسے بزرگ ری پبلکن رہنما کی حمایت کی شدید ضرورت تھی ورنہ ان کی حکومت خطرے میں پڑسکتی تھی۔ آخرکار صدر کارٹر نے 22؍ اکتوبر 1979ء کو بادل ناخواستہ شاہ کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ نیویارک کے ایک اسپتال کورنیل میڈیکل سینٹر میں اپنا جراحتی علاج کروا سکتے ہیں۔ اس اسپتال میں شاہ نے ’’ڈیوڈ ڈی نیوسم‘‘ کے خفیہ نام سے قیام کیا تھا جو درحقیقت اس وقت کے نائب امریکی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور کا اصل نام تھا اور انہیں بھی اس سے لاعلم رکھا گیا تھا۔ خیال یہ تھا کہ محمد رضا کا قیام امریکا میں مختصر عرصے کیلئے ہوگا لیکن سرجری کی پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں 6 ہفتے اسپتال میں محصور رہنا پڑا۔ امریکا میں ان کے قیام کی مدت جوں جوں بڑھتی جا رہی تھی، ایران میں انقلابی تحریک کے کارکنوں کا امریکا کے خلاف غم و غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا جو ایرانی وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے اور برسوں شاہ کی حکومت کی حمایت کرنے پر امریکا کے خلاف سخت جذبات رکھتے تھے۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کارٹر کو خبردار کرچکی تھی کہ اگر شاہ کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تو بہت ممکن ہے کہ تہران میں امریکی سفارت خانے کا گھیرائو کرلیا جائے۔ ایران کی نئی انقلابی حکومت امریکا سے مسلسل شاہ کی ایران واپسی کا مطالبہ کرتی رہی لیکن شاہ اسپتال میں قیام پذیر رہے۔ گو کہ یہ دن ان کیلئے بہت سخت تھے کیونکہ نیویارک میں موجود ایرانی طلبہ روزانہ اسپتال کے باہر جمع ہو کر ’’مرگ برشاہ‘‘ کے نعرے بلند کیا کرتے تھے جنہیں محمد رضا خود اپنی کانوں سے سنتے تھے۔ سخت ترین سیکورٹی میں انہیں وہیل چیئر پر کمبل سے ڈھانک کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا تھا کیونکہ ان پر قاتلانہ حملے کا بہت زیادہ خطرہ تھا۔
پھر وہی ہوا جس کا امکان امریکی وزارت خارجہ نے ظاہر کیا تھا۔ 4؍ نومبر 1979ء کو ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کرکے 52؍ امریکی سفارت کاروں، فوجی اہلکاروں اور انٹیلی جنس افسروں کو اغوا کرلیا اور انہیں 444 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس و اقعہ کو Iran hostage crisis کے نام سے جانا جاتا ہے جس پر 2012ء میں "Argo" نام کی ایک فلم بھی ہولی وڈ میں بنائی گئی تھی۔ کارٹر انتظامیہ یہ سمجھتی تھی کہ جب تک شاہ، امریکا میں موجود ہیں، اس وقت تک امریکی یرغمالیوں کی رہائی ممکن نہیں لہٰذا ان کی بے دخلی کے احکامات جاری کرنے پڑے۔ اس دوران یرغمالیوں کو چھڑانے کا ایک خفیہ مشن صحرا میں ہیلی کاپٹروں کی تباہی اور کئی امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باعث ناکام ہوچکا تھا۔ نامکمل علاج کا صدمہ لئے محمد رضا شاہ کو رنا واکا کی خوشگوار یادوں کی وجہ سے میکسیکو واپس جانا چاہتے تھے لیکن میکسیکو نے انہیں دوبارہ اپنے ہاں آنے سے منع کردیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میکسیکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عارضی رکنیت کا امیدوار تھا اور اسے اس مقصد کیلئے کیوبا کے ووٹ کی ضرورت تھی اور کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو نے میکسیکو کے صدر سے کہہ دیا تھا کہ یہ ووٹ انہیں اس شرط پر ملے گا کہ میکسیکو، شاہ کی دوبارہ میزبانی نہ کرے۔
ان دل شکستہ حالات میں محمد رضا شاہ 15؍ دسمبر 1979ء کو امریکا سے روانہ ہوئے اور مختصر عرصے کیلئے پانامہ کے تفریحی جزیرے اسلا کونتادورا میں قیام کیا۔ پانامہ پہنچتے ہی مقامی افراد نے ہنگامے شروع کردیئے کیونکہ وہ شاہ کی موجودگی کے خلاف تھے۔ پانامہ کے فوجی حکمراں جنرل عمرتوری جوس نے اگرچہ امریکا کے دبائو میں آکر شاہ کو اپنے ہاں قبول تو کرلیا تھا لیکن انہیں ایک قیدی کی طرح جس اسپتال میں رکھا گیا تھا وہاں شاہ کے سابق امریکی ڈاکٹروں کے مطابق علاج معالجے کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں اور غالباً محمد رضا کو جلد از جلد موت سے ہمکنار کرنے کیلئے صرف پانامہ کے ڈاکٹروں کو علاج کی اجازت دی گئی تھی۔
پانامہ میں قیام کے دوران محمد رضا کیلئے راحت کا سامان صرف وہ خطوط ہوا کرتے تھے جوان کی سابق ملکہ ثریا انہیں پیرس سے بھیجا کرتی تھیں جن میں وہ بدستور شاہ سے محبت کا اظہار کرنے کے علاوہ یہ خواہش ظاہر کرتی تھیں کہ وہ موت سے پہلے آخری بار شاہ سے ملنا چاہتی ہیں لیکن صرف اس حال میں کہ ملکہ فرح ان کے پاس موجود نہ ہوں۔ جواباً شاہ نے بھی لکھا کہ وہ بھی ثریا کو آخری بار دیکھنے کے متمنی ہیں لیکن ثریا نے جو شرط لگائی تھی، اسے ماننے میں کچھ پیچیدگیاں حائل تھیں کیونکہ ملکہ فرح ہمہ وقت شاہ کے بستر کے قریب ہوتی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد شاہ نے دوبارہ مصر کے صدر انوارالسادات سے مدد طلب کی اور انہوں نے بیمار شاہ کو مصر میں مستقل سیاسی پناہ کی ایک بار پھر پیشکش کردی۔ وہ مارچ 1980ء میں مصر واپس گئے جہاں ان کا فوری علاج کیا گیا جس میں سرجن مائیکل ڈی بیکی کی جانب سے Splenectomy بھی شامل تھی یعنی ان کی سرطان زدہ تلی کاٹ کر نکال دی گئی تھی۔ 28؍ مارچ 1980ء کو محمد رضا کے فرانسیسی اور امریکی ڈاکٹروں نے آخرکار وہ آپریشن کیا جو 1979ء کے خزاں میں ہوجانا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر بنجامین کین نے اس واقعہ کے بارے میں لکھا ہے ’’آپریشن بہت کامیاب رہا گوکہ وہ رات بہت ڈرائونی تھی۔ امریکی، فرانسیسی اور مصری میڈیکل ٹیم پیتھالوجی لیب میں موجود تھی۔ سب سے زیادہ توجہ شاہ کی سرطان زدہ تلی پر دی جارہی تھی جو معمول سے 20 گنا سوج چکی تھی۔ یہ تلی ایک فٹ لمبی اور بلا مبالغہ فٹ بال کے برابر تھی۔ لیکن میری توجہ جگر کے ٹشوز پر تھی جنہیں تلی کے ساتھ ہی الگ کیا گیا تھا جن پر جگہ جگہ سفید دھبے سرطان زدہ ہونے کی علامت تھے۔ شاہ کا کینسر جگر تک پھیل چکا تھا۔ میں جانتا تھا کہ شاہ کی موت بہت قریب ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جسے بہترین اور انتہائی آسانی کے ساتھ علاج کا موقع ملنا چاہئے تھا، اسے کئی لحاظ سے بدترین علاج فراہم کیا گیا۔‘‘
اس مرحلے پر صدر سادات نے یہ انتظام کردیا تھا کہ ثریا خاموشی کے ساتھ مصر میں محمد رضا سے بستر مرگ پر اس حال میں آخری ملاقات کرلیں کہ وہاں فرح دیبا موجود نہ ہوں لیکن مورخ عباس میلانی کے بقول شاہ اور ثریا کے ستارے کچھ ایسے تھے کہ ان میں کبھی ملاپ نہ ہو سکا۔ ثریا پیرس میں اپنے گھر سے جس وقت مصر کیلئے روانہ ہوئیں، شاہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ 27؍ جولائی 1980ء کو 60؍ سالہ محمد رضا کی موت کی وجہ Waldenstrom's Macroglobulinemia کی پیچیدگیاں بتائی گئیں جو دراصل کینسر ہی کی ایک قسم کا طبی نام ہے۔ مصر کے صدر انوار السادات نے قاہرہ میں مکمل سرکاری اعزاز کےساتھ محمد رضا کی تجہیز و تکفین کے انتظامات کئے۔ جلوس جنازہ میں پہلوی خاندان کے افراد کے علاوہ انوارالسادات، سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن اور یونان کے سابق بادشاہ کونسٹنٹائن دوئم نے شرکت کی۔ محمد رضا کی آخری آرام گاہ قاہرہ کی تاریخی الرفاعی مسجد میں ہے جہاں ان کے برادر نسبتی شاہ فاروق اوّل کا مقبرہ بھی ہے۔ کئی سال پہلے محمد رضا کے والد رضا شاہ کو بھی ابتدائی طور پر الرفاعی مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ پھر مئی 1950ء میں ان کی باقیات تہران لے جا کر اسی شہر کے مقبرے میں دفن کی گئی تھیں۔ ’’فاعتبرویا اولی الابصار‘‘۔ (القرآن) ترجمہ:تو اے آنکھوں والو عبرت پکڑو!