February 04, 2019
سندھ میں پی ٹی آئی کی پیش قدمی اور پی پی پی کی سیاسی مزاحمت

سندھ میں پی ٹی آئی کی پیش قدمی اور پی پی پی کی سیاسی مزاحمت

ایک طرف نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جعلی اکائونٹس اور منی لانڈرنگ کیس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سرد سیاسی جنگ شروع ہوچکی ہے، جس کی جھلکیاں سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیں۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی ارکان نے جعلی اکائونٹس سے متعلق اپنی رپورٹ اور تمام حاصل کردہ ریکارڈ بھی نیب کے حوالے کردیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں اس کیس کے اہم کرداروں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کی بہن رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور سمیت دیگر فریقین کو طلب کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال کے بعد تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی دائو پیچ کی جنگ میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس نئی صورت حال کے بعد مسلم لیگ (ن) کہاں تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی؟ بظاہر تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ساتھ ساتھ ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی مل کر حزب اختلاف کا مضبوط کردار ادا کررہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے واضح طور پر کہا تھا کہ نیب کو ہم تو بھگت چکے ہیں اب دوسروں کو بھی بھگتنا چاہئے۔ ملکی قوانین کے احترام کی بات مسلم لیگ (ن) بھی کررہی ہے اور پیپلز پارٹی بھی کررہی ہے لیکن اس نئی صورت حال میں مسلم لیگ (ن) کہاں تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ آصف علی زرداری تو کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت بچ نہیں سکے گی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہم گرانا نہیں چاہتے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد تحریک انصاف کی حکومت کو نہیں گرائے گا لیکن یہ حکومت اپنی غلطیوں سے گر سکتی ہے، جس کا اپوزیشن کو شدت سے انتظار ہے۔ سندھ اسمبلی کے 22؍جنوری 2019ء کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تحریک انصاف کی حکومت اور ان کی لیڈر شپ کو آڑے ہاتھوں لیا، جس کی گونج پورے ایوان کے ساتھ ساتھ میڈیا میں سنائی دیتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کی حکومت میں ملک کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں لکھے گئے خطوط کے جوابات تو ملتے تھے، یہ تو مست ہیں، کسی بات کا جواب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر ہم سنجیدہ ہیں لیکن وفاقی حکومت تعاون نہیں کررہی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق لاڑکانہ کی باتیں کررہا ہے، کہتے ہیں کہ وہ ہم کو سولی پر چڑھا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے چین جانے کی وجہ سے میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ میں کہتا ہوں کہ خدارا لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے اور پھانسیاں لگانے کی باتیں مت کرو، اس پر قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے وضاحت کی کہ ہم نے کرپشن میں ملوث افراد کو سولی پر چڑھانے کی بات کی ہے۔ ایک موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کا یہی رویّہ رہا اور اسی طرح پکڑ دھکڑ جاری رہی تو تحریک انصاف سے وزارت عظمیٰ بھی چلی جائے گی۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں سیاسی کشمکش کی پہلی وجہ منی لانڈرنگ کیس ہے یا پھر تحریک انصاف کی طرف سے سندھ کی سیاست میں پیش قدمی ہے جسے پیپلز پارٹی روکنا چاہتی ہے اور اس راستے میں مزاحم ہے۔ سندھ کے سابق وزرائے اعلیٰ کی اکثریت تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے اور پیپلز پارٹی مخالف سیاستدان بھی فی الحال تحریک انصاف کے جھنڈے تلے آنا چاہتے ہیں۔