February 04, 2019
’’آنتوں میں رساؤ کا مرض‘‘ ایک پوشیدہ وبا

’’آنتوں میں رساؤ کا مرض‘‘ ایک پوشیدہ وبا

ڈاکٹر جوش ایکس کی کتاب ’’ایٹ ڈرٹ‘‘ سے اقتباس

مریم جب میرے دفتر میں آئی تو اس کی تمام امیدیں ساتھ چھوڑ چکی تھیں۔ روایتی فیملی ڈاکٹروں سے لے کر جڑی بوٹیوں اور روحانی معالجین تک سب سے وہ مشورے لےچکی تھی اور اپنے ڈاکٹروں کی مختلف ہدایتوں پر عمل کے باوجود اس کی طبیعت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ اپنی صحت بحال کرنے کی کوششوں میں وہ اب تک جتنے معالجین سے مل چکی تھی ان میں میرا نمبر دسواں تھا۔ مریم33سال کی تھی اور اس کے دو چھوٹے بچے تھے۔ اس کا وزن20پونڈ بڑھا ہوا تھا اور وہ سو فیصد ذہنی دبائو میں تھی۔ اس میں ’’ہاشی موتو تھائی روڈائیٹس‘‘ (Hashimoto's Thyroditis)کی تشخیص ہو چکی تھی۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام تھائی رائیڈ غدہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس کے اینڈو کرائنولوجسٹ نے اسے ’’سنتھوروئڈ‘‘ دوا تجویز کی تھی۔ وہ پریشانی اور افسردگی دور کرنے والی دوائیں بھی لے رہی تھی لیکن ان سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کے ذہنی اور جذباتی دبائو کے باعث جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے اس میں ایڈرینال غدہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے تھکاوٹ کے عارضے (Adrenal Fatigue)کی تشخیص کی اور خون کے ایک ٹیسٹ سے اس میں وٹامنB12کی کمی کا پتہ چلا۔ اس نے اپنی خوراک تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے ہر ہفتے وٹامنB12کا انجکشن بھی لگواتی تھی لیکن کسی بھی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ورزش کرنا چاہتی تھی لیکن صبح کے وقت وہ بڑی مشکل سے توانائی جمع کر کے بستر سے اٹھ پاتی تھی اور بہت سی نوجوان مائوں کی طرح بچوں کے جاگ جانے کے بعد فٹ نیس کلاسز میں حاضری یا باہر ورزش کا موقع بہت کم ملتا تھا۔
مریم کو ہر وقت اپنی تھکاوٹ کا احساس رہتا تھا اور اس صورتحال کو تبدیل کرنا ضروری تھا۔ جب میں نے اس کی تین روزہ غذائی ڈائری کا جائزہ لیا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ صحت بخش خوراک لے رہی تھی۔ دن میں کچھ سلاد، ثابت اناج سے بنی روٹی، پھل اور سبزیاں بھی بہت کھا رہی تھی اور اس کی خوراک میں جو غذائیت بخش اجزاء تھے، وہ بھی اس کی حالت بہتر کرنے میں مدد نہیں کر رہے تھے۔ میں نے دوبارہ اسے خون ٹیسٹ کرانے کو کہا تاکہ اس کے سابقہ نتائج سے اس کا موازنہ کر سکوں۔ جب نئے نتائج موصول ہوئے تو کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا تھا۔ اس کے تھائی رائیڈ کے مسائل، ایڈرینال کے سبب تھکاوٹ، مدافعتی نظام کی خرابی اور غذائوں سے حساسیت کی تمام علامتیں ٹیسٹ کے اعداد سے ظاہر ہو رہی تھیں۔
مریم دوسرے ہفتے میرے پاس آئی تاکہ ہم دونوں مل کر اس نئی رپورٹ کا جائزہ لیں۔ رپورٹ میں درج ہر نمبر کو پڑھ کر وہ پہلے سے زیادہ افسردہ ہو رہی تھی۔ میں اسے پرامید کرنا چاہتا تھا لہٰذا لیب رزلٹ ایک طرف رکھ کر میں اپنے پسندیدہ ’’کھلونوں‘‘ کی طرف بڑھا جو میں اپنے مریضوں کے معائنے کے کمرے میں ہمیشہ اپنی دسترس میں رکھتا ہوں۔ یہ ’’کھلونے‘‘ ایک چھوٹا سا مچھلی پکڑنے والا پلاسٹک کا جال اور کچھ چمکدار رنگوں والی پلاسٹک کی گیندیں ہوتی ہیں۔ میں نے مریم سے کہا کہ ’’پلاسٹک کی گیندوں کو میں جال میں ڈالوں گا، تم انہیں پکڑنا۔‘‘ لیکن مریم نے جب بال پکڑنا چاہے تو وہ جال سے نکل کرنیچے فرش پر بکھر گئے۔ میں نے مریم سے پوچھا ’’تمہیں اس کی توقع نہیں رہی ہوگی؟‘‘ مریم نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں نے کہا ’’مریم! میں یہ کہتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ یہ جال تمہاری بڑی آنت جیسا ہے۔‘‘ پھر میں نے اسے دکھایا کہ جال کے نچلے حصے کی ڈوریاں جگہ جگہ سے کٹی ہوئی تھیں۔ اس تمثیل کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ ’’رسنے والی آنت کی بیماری‘‘ (Leaky Gut Syndrome) میں کیا ہوتا ہے؟ ہماری آنتیں جب صحت مند ہوں تو وہ بہت خفیف قابل نفوذ ہوتی ہیں جس طرح جال میں پتلی جالیاں ہوتی ہیں تاکہ معمولی مقدار میں پانی اور غذائتیں آنتوں کی پتلی رکاوٹوں کو عبور کرکے دوران خون میں شامل ہو سکیں۔ یہ غذا ہضم کرنے کا، معمول کے مطابق ضروری حصہ ہے اور اس سے جسم کو توانا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تاہم جب آنتوں کی اندرونی دیواروں میں سوراخ بڑے ہو جائیں تو زیادہ بڑے سالمے جیسے کہ گلوٹین اور دودھ میں پائی جانے والی مخصوص پروٹین (Casein) اور دیگر خارجی خوردبینی جسیمے یہاں سے اندر داخل ہو سکتے ہیں اور پھر وہ تمام جسم میں چکر لگا سکتے ہیں۔ ان بڑی اشیاء کو بہر صورت دوران خون میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ اندر پہنچتی ہیں تو ہمارا جسم انہیں خارجی اجسام محسوس کرکے ردعمل ظاہر کرتا ہے جس کے نتیجے میں پورے جسم میں باقاعدگی سے سوزش کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔ میں نے مریم کو بتایا کہ اس صورتحال سے جسم کا کوئی بھی عضو متاثر ہو سکتا ہے۔ تمہارے معاملے میں تھائی رائیڈ، دماغ اور ایڈرینال غدود متاثر ہوئے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم چاہے جتنے بھی وٹامن B12کے انجکشن لگوا لو اور جتنے بھی سپلی منٹس استعمال کر لو جب تک اس مسئلے کو یعنی رسائو والی آنت (Leaky Gut) کی خرابی کو جڑ سے ختم نہیں کرو گی اس وقت تک تمہاری حالت میں کوئی فرق نہیں آئے گا بلکہ طبیعت اور زیادہ بگڑ جائے گی۔
اب جبکہ ہمیں اس کے مسائل کی بنیاد معلوم ہو چکی تھی، مجھے یقین تھا کہ اسے مختصر وقت میں نمایاں بہتری محسوس ہو گی۔ اسے صرف میری سفارشات پر عمل کرنا اور اپنی خوراک و عادات میں معمولی تبدیلیاں کرنی تھیں۔ میں نے مریم کو زیادہ Probiotics والی غذائیں تجویز کیں یعنی وہ غذائیں جن میں اچھے جراثیم شامل ہوتے ہیں تاکہ اس کے ہاضمے کا نظام بہتر ہوسکے اور اس کے ساتھ Prebioticsغذائیں استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان غذائوں میں شامل غذائتیں اچھے جراثیم کی خوراک بنتی ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم صبح ناشتے میں کھویا یا ماوا اور السی کے بیج استعمال کرتے ہوئے ایک اسموتھی بنائو اور ہڈیوں کی یخنی یا شوربا (Bone Broth) تیار کر کے دن بھر میں کئی کپ استعمال کرو تاکہ تمہاری آنتوں میں جو سوراخ ہو چکے ہیں وہ بند ہو جائیں۔ اس کے جسم میں ذہنی دبائو پیدا کرنے والے ہارمونز (Stress Hormones) کی پیداوار کم کرنے کے لئے میں نے اس پر زور دیا کہ وہ پاس، پڑوس میں دو یا تین بار 15منٹ کی واک کے لئے وقت نکالے اور ہر رات کو سونے سے پہلے Epson Saltsاور لیونڈر کا خوشبو دار تیل نیم گرم پانی میں ملا کر غسل کر لیا کرے۔
دو ہفتے کے بعد مریم فالو اپ کے لئے آئی تو اس مختصر وقت میں اس کا پانچ پونڈ وزن کم ہو چکا تھا اور اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس میں زیادہ توانائی آ گئی ہے۔ اس حوصلہ مندی سے اس نے عزم ظاہر کیا کہ وہ90دنوں تک صحت کو بہتر بنانے کے منصوبے پر عمل کرے گی جس کے بعد ایک بار پھر اس کے خون کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔ تین ماہ بعد ٹیسٹ کے نتائج اپنی زبان میں سب کچھ خود ہی بتا رہے تھے۔ صرف تین ماہ میں مریم کی وٹامنB12کی کمتر سطح معمول پر آ گئی تھی۔ اس کے کورٹی سون کی سطح بھی گھٹ چکی تھی۔ اسی طرح ٹرائی گلیسرائزڈز، فاسٹنگ بلڈ شوگر، انسولین اور Cری ایکٹو پروٹین کی سطح بھی معمول پر تھی جو جسم میں سوزش کو ظاہر کرتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ جب اس کے اینڈو کرائنولوجسٹ نے اس کے لیب ٹیسٹ کے نتائج دیکھے تو اس نے اسے مبارکباد دیتے ہوئے یہ کہا کہ وہ اس کی دوا ’’سنتھوروئڈ‘‘ کی خوراک 75فیصد کم کر رہے ہیں۔
مریم جب رپورٹ کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے میرے دفتر آئی تو اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے خوشی سے سرشار لہجے میں کہا ’’مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ میرے اندر اتنی توانائی کہاں سے آ گئی ہے۔‘‘ اس نے اپنے جوتے اتارے اور وزن کرنے والی مشین پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا ’’اب میں اپنے بچوں کے ساتھ دوبارہ بھاگ دوڑ کر سکوں گی‘‘ اور جب اس نے وزن ظاہر کرنے والی اسکرین دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ پہلے اپائنمنٹ سے لے کر اب تک اس کا وزن27پونڈ کم ہو چکا تھا۔
گزشتہ کئی سالوں کے دوران میں اس قسم کی سیکڑوں مریموں کا علاج کر چکا ہوں۔ اس کا کیس اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ ’’رسنے والی آنتوں کی بیماری‘‘ کتنے خفیہ طریقے سے لوگوں کی صحت برباد کر سکتی ہے۔ کتنی ہوشیاری سے یہ دیگر امراض میں خود کو چھپا سکتی ہے اور کتنی تیزی سے یہ مریض کو ناکارہ بنا سکتی ہے؟ اس کے باوجود چند آسان تبدیلیوں کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ڈاکٹری کے پیشے میں ہونے کے باعث میں بعینہ اسی قسم کے مناظر ہزاروں بار دیکھ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اب بھی ہزاروں لوگ اسی طرح اپنی بیماری سے نجات پانے کی جدوجہد کر رہے ہوں گے جیسے مریم اس وقت کر رہی تھی جب وہ پہلی بار بیمار، تھکی ہوئی اور مایوسی کے عالم میں میرے دفتر میں داخل ہوئی تھی۔ میں پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کو ’’آنتوں کے رسائو والے مرض‘‘ سے جو اذیتیں جھیلنی پڑ رہی ہیں، ان کو اس سے نجات دلانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس بیماری کے وجود اور اس مسئلے کو حل کرنے میں ہماری صلاحیت سے آگہی، علم اور یقین کا فقدان ہے۔ ہم اس بیماری کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر طویل مدت سے جاری لیکن انتہائی نقصان دہ کچھ عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں، خاص طور پر خود کو بہت زیادہ صاف ستھرا رکھنے کے مہلک رجحان سے اپنے آپ کو بچائیں۔
(جاری ہے)