February 04, 2019
کبھی کبھار فاقہ کشی صحت کیلئے بہتر ہوتی ہے

کبھی کبھار فاقہ کشی صحت کیلئے بہتر ہوتی ہے

حالیہ طبی جائزوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کبھی کبھار کھانے کے بغیر رہنا، خواہ ایک دن کے لئے ہی کیوں نہ ہو، صحت کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس فاقے سے انسولین کے اخراج کی نئے سرے سے پیمانہ بندی ہو سکتی ہے اور لبلبے کو تھوڑا سا آرام کا موقع مل سکتا ہے۔ فاقے کے باعث عارضی طور پر کولیسٹرول کی سطح اور بلڈ پریشر بھی کم ہو سکتا ہے۔ یہ فاقہ وزن کم کرنے کا مختصرالمیعاد طریقہ ہے۔ اگر آپ مخصوص کھانوں کے عادی ہو چکے ہیں تو اس عادت کو ختم کرنے، یہاں تک کہ نظام ہضم میں شامل تمام اعضاء کی صفائی کے لئے بھی فاقے سے مدد لی جا سکتی ہے۔ طویل عرصے کے لئے اگر معتدل قسم کی فاقہ کشی کی جائے تو جسم کو بہت زیادہ کیلوریز کا بوجھ نہیں سہنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں بڑھاپے کی آمد کی رفتار سست ہو جائے گی۔ فاقہ کشی سے ہمارے جسم میں خلیات کو حیات نو ملتی ہے اور وہ کم از کم دو فوائد سے مستفید ہوتے ہیں۔ پہلی چیز تو یہ کہ اس حالت میں خلیات کمتر تعداد میں فری ریڈیکلز تیار کرتے ہیں۔ یہ وہ آکسیڈائزنگ ایجنٹس ہیں جو ہمارے جسم کو اندر سے ’’زنگ آلود‘‘ کر دیتے ہیں۔ جسم میں جب فری ریڈیکلز کی سطح کم ہوتی ہے تو اس سے شریانیں، دماغی خلیات حتیٰ کہ جلد بھی مضبوط ہوتی ہے۔
دوسری چیز یہ کہ فاقے سے Insulin-like growth factor-1 یا IGF-1 کی سطح بھی کم ہوجاتی ہے۔ خلیات کی افزائش کیلئے یہ ایک ضروری ہارمون ہے لیکن 20 سال کی عمر کے بعد یہ اس صورت میں انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے کہ اس کی بلند تر سطح سے پروسٹیٹ، چھاتی اور دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دورِجدید کے سائنسدانوں کی یہ تحقیقی رپورٹ مشہور بین الاقوامی جریدہ ’’نیشنل جیوگرافک‘‘ کے ایک خصوصی شمارے میں دو سال قبل شائع ہوئی ہے تاہم ہم مسلمانوںکو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے 14 سو سال قبل مسلمانوں کو سال میں ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام ابیض کے علاوہ دیگر نوافل روزے رکھ کر ان کی افادیت واضح کردی تھی لیکن افسوس ہم مغربی سائنسدانوں کی باتوں پر تو یقین کرلیتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے کتراتے ہیں اور ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔