February 04, 2019
ایلف خان زلفوں کے پہرے میں

ایلف خان زلفوں کے پہرے میں

کراچی سے تعلق رکھنے والی ماڈل، ایکٹر اور میزبان ایلف خان کو شوبزنس کی پرخار راہوں پر چلتے ابھی بہت عرصہ نہیں گزرا مگر ایلف نے اپنی آمد کا بگل بجادیا ہے۔ وہ پرنٹ شوٹس کے شعبے میں زیادہ تندہی کے ساتھ محنت کررہی ہیں اور کراچی یا لاہور سے شائع ہونے والے اکثر فیشن میگزین ان کی رنگا رنگ تصاویر، دلکش ملبوسات اور نت نئے فیشن برانڈز کے ساتھ سجے نظر آتے ہیں۔ وہ ماڈلنگ کے علاوہ گاہے بگاہے فیشن شوز میں ریمپ پر کیٹ واک بھی کرتی نظر آتی ہیں۔تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کے ناطے وہ سب کی لاڈلی ہیں۔ فیشن ڈیزائننگ اور میک اَپ کے  شعبوں میں باقاعدہ ڈپلوما حاصل کرچکی ہیں۔
ایلف کو جتنا اچھا، خود کو سجانا اور سنوارنا لگتا ہے اتنا ہی خوبصورت وہ سب کو دیکھنا چاہتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ میک اپ سے بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنے اردگرد کی ہر شے، ہر منظر کو خوبصورت بنانے کیلئے ڈیزائننگ سے بھی انہیں خاص شغف ہے۔ مختلف ہوٹلوں میں ہونے والے سیمینارز اور ریفریشر کورسز میں شرکت کرکے وہ نہ صرف اپنے میک اپ کے شوق کو جلا بخشتی ہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ ماڈلنگ اور میک اپ کے فن سے دوسری لڑکیوں کو بھی متعارف کروانے کے لیے ایک ایسی اکیڈیمی ضرور ہونا چاہئے جہاں پروفیشنلز کی کھیپ تیار ہو۔ پڑھی لکھی اور سنجیدہ فکر لڑکیاں اس شعبے میں آئیں۔
ایلف کا خیال ہے کہ معاشرے میں شوبزنس خصوصاً اور ماڈلنگ عموماً اب تک ایک معتبر کام نہیں سمجھا جاتا ہے، یہاں کام کرنے والی لڑکیوں کو ایک مخصوص نظر سے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔ ایلف کہتی ہیں کہ رفتہ رفتہ ایسی سوچ میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں مگر ماڈلنگ اور اداکاری سے وابستہ کچھ نان پروفیشنل لوگوں کے باعث اس شعبے کی وہ توقیر اب تک قائم نہیں ہوسکی ہے جس کی ضرورت تھی۔ ایلف نے بتایا کہ جب انہوں نے چند سال پہلے ماڈلنگ کا فیصلہ کیا تو ان کی فیملی اور دوستوں کی طرف سے بھی سخت مخالفت ہوئی مگر انہوں نے سب کو یہی سمجھایا کہ کوئی شعبہ اچھا یا برا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کام کرنے والے لوگ اچھے یا برے ہوتے ہیں۔ پھر یہی ہوا کہ انہیں کام کرتے ہوئے یہاں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ ایلف کا کہنا ہے کہ اگر آپ خود اپنے لیے سیدھا چلنے والا راستہ منتخب کریں تو سفر کے اگلے موڑ آپ کے لیے خودبخود آسان ہوجاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ماڈلنگ اب صرف شوقیہ فنکاروں کا کام نہیں رہا بلکہ یہ ایک پوری صنعت بنتی جارہی ہے جہاں ملٹی نیشنل کمپنیز کے مفادات بھی ہیں اور بھاری سرمایہ کاری کے باعث پہلے کی نسبت اب صرف وہی ماڈلز قدم جمانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں جن کے اندر صلاحیت ہو۔ انہوں نےاس بات سے اختلاف کیا کہ آج بھی سفارش کی بنیاد پر ماڈلنگ اور ایکٹنگ میں آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
ایلف کے خیال میں اب فیورٹ ازم اور لابیئنگ وغیرہ جیسے الفاظ صرف محاوروں میں رہ گئے ہیں، بڑے پیمانے پر صرف وہی ماڈلز ٹھہر سکتی ہیں جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں۔
ایلف نے بتایا کہ وہ خود کو فٹ رکھنے کے لیے ورزش بھی کرتی ہیں، جم بھی جاتی ہیں، ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں اور اپنی نیند کا بھی پورا پورا خیال رکھتی ہیں۔ وقت کی پابندی کے ساتھ ہر کام کرتی ہیں اور ان سب لوازمات کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کو بھی مثبت رکھتی ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول انسان جیسا سوچتا ہے اس کے چہرے پر ویسے ہی تاثرات گھر بنالیتے ہیں۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہنا، ایلف کی عادت ہے۔ دوسروں کے لیے اچھا سوچنا ان کا وطیرہ اور کسی کے کام میں ٹانگ نہ اڑانا ان کا اصول ہے۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اکثر دوسروں کے کام میں ٹانگ نہ اڑانے والا اصول میرے کام بھی آتا ہے لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود مجھے ایسے لوگ ٹکرا جاتے ہیں جو میرے کام میں بلاوجہ روڑے اٹکاتے ہیں۔ ایسے میں اگر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو میں سارے اصول و ضابطے ایک طرف رکھ کر سامنے والے کے مزاج بھی درست کردیتی ہوں۔
ایلف نے ہنستے ہوئے بتایا کہ میری شخصیت میں قدرت نے جتنی کشش رکھی ہے اس کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ میرے بال اورآنکھیں ماڈلنگ کے دوران میرے مؤثر ترین ہتھیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ فیس بک پر میری تصاویر دیکھ کر کسی مداح نے کمنٹ دئیے کہ ’’زلفوں کے پہرے میں نظروں کے تیر‘‘ تو میں دل ہی دل میں ہنس کر خاموش ہوگئی۔